مراکش میں تاریخ رقم، فاطمہ زہرا المنصوری ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 30-09-2026
مراکش میں تاریخ رقم، فاطمہ زہرا المنصوری ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم
مراکش میں تاریخ رقم، فاطمہ زہرا المنصوری ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم

 



 رباط: مراکش میں ایک تاریخی پیش رفت کے تحت شاہ محمد ششم نے فاطمہ زہرا المنصوری کو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم مقرر کردیا ہے۔ وہ عرب دنیا کی دوسری خاتون ہیں جنہیں حکومت کی سربراہی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان کی جماعت صداقت و جدیدیت پارٹی (Authenticity and Modernity Party) نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں، جس کے بعد شاہ محمد ششم نے انہیں نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، مراکش میں 23 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں فاطمہ زہرا المنصوری کی جماعت نے 395 رکنی ایوانِ نمائندگان میں 97 نشستیں حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ان کی جماعت نے دوسرے نمبر پر رہنے والی جماعت نیشنل ریلی آف انڈیپنڈنٹس (آر این آئی) کے مقابلے میں 31 نشستیں زیادہ حاصل کیں۔ آر این آئی کو 66 نشستوں پر کامیابی ملی، جب کہ استقلال پارٹی نے 65 اور جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے 54 نشستیں حاصل کیں۔ 

شاہ محمد ششم نے حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی

مراکش کے شاہ محمد ششم نے 29 ستمبر کو شاہی محل میں فاطمہ زہرا المنصوری سے ملاقات کے بعد انہیں ملک کا وزیر اعظم مقرر کیا اور نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی۔ شاہی محل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، یہ تقرری مراکش کے آئین کی دفعہ 47 کے تحت عمل میں آئی ہے، جس کے مطابق پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کے رہنما کو حکومت کی سربراہی کی ذمہ داری دی جاتی ہے۔

50 سالہ فاطمہ زہرا المنصوری اس سے قبل مراکش کی وزیر برائے ہاؤسنگ اور شہری منصوبہ بندی کے عہدے پر فائز رہ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ تاریخی شہر مراکش کی میئر بھی رہ چکی ہیں۔ سیاست میں ان کا طویل تجربہ اور ان کی جماعت کی انتخابی کامیابی ان کی تقرری کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ 

پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث اتحادی حکومت کی تشکیل کا چیلنج

پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے باوجود فاطمہ زہرا المنصوری کی جماعت کو ایوان میں واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ مراکش کی 395 رکنی پارلیمنٹ میں حکومت سازی کے لیے 198 نشستوں کی ضرورت ہے، جب کہ صداقت و جدیدیت پارٹی کے پاس صرف 97 نشستیں ہیں۔ اس صورت حال میں نئی وزیر اعظم کو حکومت کی تشکیل کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔

انتخابات کے نتائج کے بعد مراکش میں حکومت سازی کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔ نئی حکومت کو پارلیمنٹ میں مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے مختلف جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا ہوگا۔ فاطمہ زہرا المنصوری نے اتحادی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ 

مراکش کی پہلی خاتون وزیر اعظم، عرب دنیا میں دوسری خاتون

فاطمہ زہرا المنصوری کی تقرری مراکش کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دی جارہی ہے۔ وہ ملک کی پہلی خاتون ہیں جنہیں وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس سے قبل تیونس کی نجلا بودن عرب دنیا میں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے والی پہلی خاتون بن چکی ہیں۔ اس طرح فاطمہ زہرا المنصوری عرب دنیا کی دوسری خاتون ہیں جو اس اہم منصب پر فائز ہوئی ہیں۔

فاطمہ زہرا المنصوری اس سے قبل بھی مراکش کی سیاست میں اہم کردار ادا کرچکی ہیں۔ وہ 2009 میں پہلی مرتبہ شہر مراکش کی میئر منتخب ہوئی تھیں اور اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون بنی تھیں۔ بعد ازاں انہوں نے قومی سیاست میں بھی اپنی شناخت قائم کی اور وزیر ہاؤسنگ کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیں۔

ان کی سیاسی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ صداقت و جدیدیت پارٹی کی قیادت میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ حالیہ انتخابات میں ان کی جماعت کی کامیابی کے بعد انہیں حکومت کی سربراہی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

مراکش میں بادشاہت اور پارلیمانی نظام

مراکش میں آئینی بادشاہت کا نظام قائم ہے، جہاں شاہ محمد ششم ملک کے سربراہ ہیں اور انہیں اہم سیاسی و انتظامی اختیارات حاصل ہیں۔ ملک میں پارلیمانی انتخابات کے ذریعے عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں، جب کہ ایوانِ نمائندگان قانون سازی اور حکومت کی نگرانی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

2011 میں آئینی اصلاحات کے ذریعے پارلیمنٹ اور حکومت کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا تھا۔ ان اصلاحات کے تحت وزیر اعظم کی تقرری کے لیے یہ اصول مقرر کیا گیا کہ شاہ ملک میں پارلیمانی انتخابات کے دوران سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کے رہنما کو حکومت کی سربراہی کی ذمہ داری سونپیں گے۔ تاہم، اہم پالیسی معاملات اور قومی امور میں بادشاہ کے اختیارات بدستور برقرار ہیں۔ 

فاطمہ زہرا المنصوری کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مراکش کو بے روزگاری، مہنگائی، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور صحت و تعلیم کی سہولتوں جیسے اہم مسائل کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ مراکش 2030 کے فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی کی تیاریوں میں بھی مصروف ہے، جس کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی ضرورت ہوگی۔

نئی وزیر اعظم کے سامنے ایک طرف اتحادی جماعتوں کے تعاون سے حکومت تشکیل دینے کا چیلنج ہے، تو دوسری طرف عوامی توقعات پر پورا اترنے اور ملک کو درپیش معاشی و سماجی مسائل سے نمٹنے کی ذمہ داری بھی ہوگی۔ ان کی تقرری سے مراکش کی سیاسی تاریخ میں خواتین کی اعلیٰ سطح پر نمائندگی کا ایک نیا باب بھی شروع ہوا ہے۔