ڈھاکہ : بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں 26 ستمبر کو ایک چھوٹی بائیں بازو کی جماعت کے اجلاس میں شرکت کرنے والے افراد کی بڑے پیمانے پر گرفتاری ملک میں شہری اور سیاسی حقوق کے خلاف حکام کی جاری کارروائی کی تازہ ترین مثال ہے۔ امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے منگل کو جاری ایک بیان میں یہ بات کہی۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق پولیس نے جتیہ سماج تانترک دل کے تقریباً 290 حامیوں کو حراست میں لے لیا۔ حکمران بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی نوجوان تنظیم جتیہ تابادی جوبو دل کے ارکان نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ اجتماع سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی ممنوعہ جماعت عوامی لیگ کا ایک خفیہ اجلاس تھا۔ گرفتار کیے گئے افراد میں سے 27 کو ایک عدالت نے عدالتی حراست میں بھیج دیا کیونکہ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ’’جوئے بنگلہ‘‘ یعنی ’’بنگال کی فتح‘‘ کا نعرہ لگایا تھا جو عوامی لیگ سے منسوب کیا جاتا ہے۔
جتیہ سماج تانترک دل عوامی لیگ کی قیادت میں قائم 14 جماعتوں کے اس اتحاد کا حصہ تھی جس نے 2009 سے 2024 تک بنگلہ دیش میں حکومت کی۔ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے بعد یہ حکومت اقتدار سے ہٹ گئی تھی۔ ان مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
موجودہ حکمراں جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو عوامی لیگ کی حکومت کے دور میں شدید سیاسی دباؤ اور کارروائی کا سامنا رہا تھا۔ تنظیم کے مطابق فروری میں اقتدار میں آنے کے بعد موجودہ حکومت نے اپنے سمجھے جانے والے مخالفین کو من مانی حراست کا نشانہ بنایا ہے اور عوامی لیگ کے سیکڑوں ارکان اس وقت جیلوں میں ہیں جن میں سے زیادہ تر کے خلاف کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔
پولیس نے عوامی لیگ کے حامیوں کے مبینہ اجتماعات پر متعدد مرتبہ چھاپے بھی مارے ہیں۔ 26 ستمبر کو ہی جب جتیہ سماج تانترک دل کا اجلاس ہوا تھا بارسل میں پولیس نے عوامی لیگ کے 12 کارکنوں کو مبینہ طور پر ’’خفیہ‘‘ اجلاس منعقد کرنے اور ’’تخریب کاری کی منصوبہ بندی‘‘ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔ اس کے دو روز بعد ڈھاکہ میں اسی نوعیت کے الزامات کے تحت 2009 کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مزید 15 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ دونوں واقعات میں حراست میں لیے گئے افراد کا کہنا تھا کہ وہ شیخ حسینہ کی سالگرہ منانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
ہیومن رائٹس واچ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’شیخ حسینہ کی آمرانہ حکومت کے دوران انسانی حقوق کی سنگین اور بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں ہوئیں جن میں ماورائے عدالت ہلاکتیں اور جبری گمشدگیاں اور تشدد اور سیاسی مخالفین کی من مانی گرفتاریاں شامل تھیں۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی بحال کرنے کے وعدے کے ساتھ اقتدار حاصل کیا تھا۔ اس کے بجائے نئی حکومت نے اپنے سمجھے جانے والے مخالفین کو من مانی طور پر حراست میں لیا ہے اور عبوری حکومت کی جانب سے تجویز کردہ انسانی حقوق کے تحفظات کو بھی کمزور کیا ہے۔‘‘
تنظیم نے مزید کہا کہ ’’بین الاقوامی انسانی حقوق کا قانون ہر شخص کو اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ عوامی لیگ کے دور اقتدار میں ان حقوق کی ماضی میں ہونے والی خلاف ورزیاں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی جانب سے موجودہ دور میں انہی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جواز نہیں بن سکتیں۔ بنگلہ دیش کی تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اس طرح کا جبر کس طرح کے نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔‘‘