غزہ پر عالمی توجہ کم، اسرائیلی انتخابات کے بعد اصل امتحان

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 07-10-2026
غزہ پر عالمی توجہ کم، اسرائیلی انتخابات کے بعد اصل امتحان
غزہ پر عالمی توجہ کم، اسرائیلی انتخابات کے بعد اصل امتحان

 



سڈنی:حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کو تین سال مکمل ہونے کے درمیان غزہ پر عالمی توجہ کم ہوئی ہے۔ اب اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات اس بات کا فیصلہ کرنے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں کہ غزہ اور مغربی کنارے کے معاملے پر عالمی دباؤ کس حد تک برقرار رہتا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر اسرائیلی شہری تھے، جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ میں دو سال تک بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی۔ اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن، نسل کشی کے معاملات کے ماہرین اور کئی بڑے انسانی حقوق کے اداروں نے اس کارروائی کو نسل کشی قرار دیا ہے۔

غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے اور 74 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایک سال قبل جنگ بندی نافذ ہوئی تھی۔ اس کے تحت زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں اور زیر حراست افراد کو رہا کیا گیا۔ سیکڑوں بے گھر غزہ کے باشندے شمالی علاقوں میں واپس لوٹے اور اسرائیلی فوج ایک مقررہ ’’پیلی لائن‘‘ تک پیچھے ہٹ گئی۔

تاہم جنگ بندی کے بعد بھی غزہ میں اسرائیلی حملے جاری رہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کا دوسرا مرحلہ اب تک بڑی حد تک تعطل کا شکار ہے۔ حماس نے ہتھیار نہیں ڈالے ہیں، غزہ میں سلامتی کے لیے مجوزہ بین الاقوامی استحکامی فورس تعینات نہیں ہوئی اور غزہ کا انتظام سنبھالنے والی فلسطینی تکنیکی کمیٹی نے بھی زمینی سطح پر کنٹرول حاصل نہیں کیا ہے۔ انسانی امداد محدود ہے اور بڑے پیمانے پر تعمیر نو کا کام بھی ابھی شروع نہیں ہو سکا ہے۔

اس دوران دنیا کی توجہ غزہ سے ہٹ کر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ، یوکرین اور دیگر بحرانوں کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔ تجزیے کے مطابق جب بڑے پیمانے پر تشدد کم ہوتا ہے اور کسی بحران کی جگہ روزانہ ہونے والا کم شدت کا تشدد لے لیتا ہے تو میڈیا اور عام لوگوں کی توجہ بھی کم ہونے لگتی ہے۔ تاہم غزہ کے معاملے پر عالمی دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ کچھ ارکان پارلیمنٹ، حکام اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ فلسطین کے حامی تنظیموں نے اس مسئلے کو عالمی ایجنڈے پر برقرار رکھا ہے۔ اس کے برعکس سوڈان جیسے بڑے انسانی بحران کو اسی سطح کی عالمی توجہ نہیں مل سکی ہے۔

غزہ کے ساتھ مغربی کنارے میں بھی حالات سنگین ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال جون تک فلسطینیوں پر اسرائیلی بستیوں کے رہنے والوں کے حملوں کی اوسط تعداد روزانہ چھ تھی، جو ریکارڈ سطح ہے۔ جولائی تک ایسے حملوں میں ہونے والی ہلاکتیں پورے 2025 کی تعداد سے زیادہ ہو گئی تھیں اور ہزاروں فلسطینی بے گھر ہوئے ہیں۔ برطانیہ سمیت بعض یورپی ممالک نے اسرائیلی بستیوں کے خلاف تجارتی پابندیاں عائد کی ہیں۔ تاہم ان کا اقتصادی اثر محدود رہنے کا امکان ہے کیونکہ ان بستیوں سے ہونے والی برآمدات نسبتاً کم ہیں۔ ان اقدامات کی بنیادی اہمیت سیاسی سمجھی جا رہی ہے۔

تجزیے کے مطابق انتخابات سے قبل بیرونی دباؤ اسرائیلی ووٹروں کو موجودہ قیادت کے پیچھے متحد بھی کر سکتا ہے۔ حقیقی عالمی دباؤ انتخابات کے بعد زیادہ اہم ہوگا۔ امن عمل کو آگے بڑھانے میں امریکہ کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا راستہ فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب قابلِ اعتماد پیش رفت سے جڑا ہوا ہے۔ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کو اسی لحاظ سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق گادی آئزن کوٹ کی یاشار پارٹی سب سے بڑی جماعت بن سکتی ہے، تاہم حکومت بنانے کے لیے اسے اتحادی جماعتوں کی ضرورت ہوگی۔

حکومت میں تبدیلی سے اسرائیلی بستیوں کے رہنے والوں کی جانب سے ہونے والے تشدد پر قابو پانے اور غزہ کی تعمیر نو کی کوششوں میں تعاون کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیلی قبضے کی پالیسی میں فوری اور بنیادی تبدیلی کے امکانات کم بتائے جا رہے ہیں۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں تشدد کی شدت کم ہونے کے ساتھ عالمی توجہ بھی گھٹی ہے، لیکن یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ 7 اکتوبر کے تین سال بعد غزہ کے حالات نسبتاً پرسکون ضرور ہوئے ہیں، لیکن تنازع اور انسانی بحران ابھی ختم نہیں ہوا۔