کنگ چارلس نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں پر عمان کی تعریف کی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 21-10-2026
کنگ چارلس  نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں پر عمان کی تعریف کی
کنگ چارلس نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں پر عمان کی تعریف کی

 



لندن: برطانیہ کے کنگ چارلس سوم نے منگل کے روز مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے عمان کی کوششوں کی تعریف کی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمان کے سلطان ہیثم بن طارق تقریباً نصف صدی بعد کسی عمانی حکمراں کے برطانیہ کے پہلے سرکاری دورے پر پہنچے ہیں۔ونڈسر کیسل میں منعقدہ عشائیے کے دوران برطانوی بادکنگ نے دونوں ممالک کے دیرینہ سفارتی، فوجی اور شاہی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے مسقط کی ’’قابلِ قدر کوششوں‘‘ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

کنگ چارلس نے عشائیے میں موجود تقریباً 160 مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میں خاص طور پر اس وقت، جب تنازع ایک بار پھر اس خطے میں انتہائی تکلیف دہ انداز میں لوٹ آیا ہے، عمان کے اس مستقل عزم کو تسلیم کرنا چاہتا ہوں کہ وہ تمام فریقوں کے لیے ایک قابلِ اعتماد ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔‘‘انہوں نے عمانی سلطان کے اعزاز میں جام اٹھاتے ہوئے مزید کہا، ’’خلیجی خطے میں عمان کا کردار اور اس کی ’تعمیری غیر جانب داری‘، جیسا کہ آپ اسے بیان کرتے ہیں، آبنائے ہرمز سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور یہ ہمارے گہرے احترام کی مستحق ہے۔‘‘

عمان کے کسی سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا یہ پہلا سرکاری دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ شدید بے چینی اور عدم استحکام سے دوچار ہے۔عمان، برطانیہ کا ایک اہم فوجی اتحادی ہے اور آبنائے ہرمز کے ساتھ اس کی سرحد ملتی ہے۔ فروری کے اواخر میں تنازع شدت اختیار کرنے کے بعد سے عمان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

عمانی سلطان بدھ کے روز ڈاؤننگ اسٹریٹ میں برطانوی وزیرِاعظم اینڈی برنہم سے ملاقات اور بات چیت کریں گے۔برنہم نے ملاقات سے قبل اپنے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا، ’’معاشی ترقی، سلامتی، دفاع اور تعلیم، یہ ان مشترکہ ترجیحات میں سے چند ہیں جنہیں سامنے رکھتے ہوئے ہم ایک ایسی دنیا میں آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں جو مسلسل پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔‘‘

ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق، دونوں رہنما دو طرفہ سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں۔ یہ معاہدہ برطانیہ اور عمان کے درمیان پہلے سے موجود خودمختار سرمایہ کاری شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا۔بیان میں کہا گیا کہ اس معاہدے کے تحت متعدد اہم شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے میں مدد ملے گی، جن میں قابلِ تجدید توانائی، ٹیکنالوجی، اہم معدنیات، خلائی تحقیق، صحت کی خدمات اور مالیاتی خدمات شامل ہیں۔

منگل کی شب منعقدہ عشائیے میں برطانوی وزیرِاعظم برنہم بھی شریک تھے۔ ان کے علاوہ تیل اور توانائی کی بڑی کمپنیوں شیل اور بی پی، طیارہ ساز کمپنی ایئربس کے سربراہان، شاہی خاندان کے افراد اور دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔اپنے خطاب میں کنگ چارلس نے کہا کہ برطانیہ اور عمان سفارت کاری، دفاع، تجارت اور اعتماد کے مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔برطانیہ طویل عرصے سے عمان کا فوجی اتحادی رہا ہے۔ کئی دہائیوں سے برطانوی فوجی اہلکار عمانی افواج کے ساتھ مل کر تربیت حاصل کرتے رہے ہیں، جب کہ عمانی بندرگاہی شہر دقم میں برطانیہ کی مستقل تزویراتی فوجی موجودگی بھی قائم ہے۔

عمانی سلطان نے اپنے تین روزہ دورے کا آغاز منگل کی صبح لندن کے مغرب میں واقع ونڈسر میں شاہی استقبال کے ساتھ کیا۔ کنگ چارلس اور ان کی اہلیہ ملکہ کمیلا کے علاوہ شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیتھرین، شہزادی آف ویلز، نے بھی ان کا استقبال کیا۔آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ سلطان نے شاہی خاندان کے افراد کے ساتھ نجی ظہرانے میں شرکت کی۔ اس کے بعد انہیں شاہی ذخیرے میں محفوظ ان تاریخی اشیا کا مشاہدہ کرایا گیا جو برطانیہ اور عمان کے باہمی تعلقات سے متعلق ہیں۔