یوکرین میں روسی بمباری سے 26 افراد ہلاک

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 03-11-2026
یوکرین میں روسی بمباری سے 26 افراد ہلاک
یوکرین میں روسی بمباری سے 26 افراد ہلاک

 



ماسکو: یوکرین کے جنوبی علاقے زاپوریژیا میں روسی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ کومیشوواخا گاؤں میں ایک ایسی جگہ پر کیا گیا جہاں مقامی لوگ انسانی امداد حاصل کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولوڈیمیر زیلنسکی نے پیر، 2 نومبر کو اس واقعے کو انتہائی خوفناک قرار دیا۔ زاپوریژیا علاقے کے سربراہ میخائلو سیمیکن کے مطابق، کومیشوواخا گاؤں پر کم از کم 9 بھاری بم گرائے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر بم کا وزن تقریباً 3,000 کلوگرام تھا۔ اس حملے میں 5 دیگر افراد زخمی ہوئے، جب کہ ابتدائی اطلاعات میں 27 افراد کے لاپتہ ہونے کی بات سامنے آئی تھی۔

صدر زیلنسکی نے بتایا کہ حملے میں سب سے پہلے ایک مقامی اسکول کو نشانہ بنایا گیا، جہاں انسانی امداد تقسیم کی جا رہی تھی۔ اس کے بعد دوسرا حملہ اس مقام پر کیا گیا جہاں لوگ اپنی جان بچانے کے لیے پناہ لیے ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد علاقے میں امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں امدادی کارکنوں کو بمباری سے بننے والے بڑے گڑھے اور ملبے میں لوگوں کی تلاش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدا میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئیں۔ صدر زیلنسکی نے پہلے 18 افراد کی موت کی اطلاع دی تھی، جس کے بعد یوکرین کی ایمرجنسی سروس نے ہلاکتوں کی تعداد 24 بتائی۔

مرنے والوں میں 2 امدادی کارکن اور 4 پولیس افسران بھی شامل تھے۔ پیر کی رات اپنے ویڈیو خطاب میں زیلنسکی نے تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 26 ہو گئی ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق، حملے کے وقت وہاں موجود لوگ انسانی امداد حاصل کرنے کے لیے آئے تھے۔ زیلنسکی نے کہا کہ روسی فوج کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ کومیشوواخا میں رہ جانے والے مقامی باشندے ہر پیر کو امداد لینے کے لیے وہاں پہنچتے ہیں۔ روسی فوج کی جانب سے اس حملے پر کوئی عوامی بیان سامنے نہیں آیا تھا۔

زیلنسکی نے اس حملے کو روس کی پالیسی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ماسکو کشیدگی کم کرنے یا حالات میں نرمی لانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے روس کے قبضے والے جنوبی شہر اولیشکی سے شہریوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے کے لیے چلائی گئی مشترکہ کارروائی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، امریکہ کی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کی ثالثی سے ہونے والی عارضی جنگ بندی کے دوران یہ کارروائی کامیاب رہی تھی۔ زیلنسکی نے کہا کہ ایک وقت ایسا محسوس ہوا تھا کہ امن کی جانب پیش رفت ممکن ہے، لیکن اس طرح کے قتل عام اس کے بالکل برعکس پیغام دیتے ہیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسے حملوں کے نتیجے میں آئندہ بھی بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خطرہ برقرار رہے گا۔ واضح رہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر بڑے پیمانے پر فوجی حملہ شروع کیا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ جاری ہے۔ اس جنگ کے باعث شہریوں کی حفاظت، لوگوں کی نقل مکانی اور متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد پہنچانا مسلسل ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ فروری میں امن مذاکرات ملتوی ہونے کے بعد یوکرین، روس اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان بات چیت اگلے چند دنوں میں دوبارہ شروع ہونے والی تھی۔ تاہم، کومیشوواخا میں ہونے والے حملے نے ایک بار پھر جنگ زدہ علاقوں میں عام شہریوں کی سلامتی اور انسانی امداد کے مراکز کے تحفظ پر سنگین سوال کھڑے کر دیے ہیں۔