نیویارک: ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منگل کو مقامی وقت کے مطابق اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی۔ اس دوران جاری عالمی تنازعات اور خاص طور پر گلوبل ساؤتھ پر ان کے اثرات کو کم کرنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’آج اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔ ہماری گفتگو جاری تنازعات اور خاص طور پر گلوبل ساؤتھ پر ان کے اثرات کو کم کرنے کی ضرورت پر مرکوز رہی۔‘‘
یہ ملاقات ایک دن بعد ہوئی جب جے شنکر نے خبردار کیا تھا کہ دنیا بھر میں جاری تنازعات اور اناج کی ترسیل اور کھاد کی پیداوار میں رکاوٹیں آنے والے مہینوں میں ایک بڑے غذائی بحران کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے ترقی پذیر ممالک پر پہلے سے موجود معاشی دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔ پیر کو نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جے شنکر نے توانائی کی فراہمی، اناج کی برآمدات، کھاد اور عالمی مالیاتی نظام پر بڑھتے دباؤ کو ان خطرات سے جوڑا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم پہلے ہی کھاد کی بڑی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔‘
‘ ان کا کہنا تھا کہ اناج برآمد کرنے والے اہم ممالک کو اپنی مصنوعات کی ترسیل میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر بحیرہ اسود کے اہم سمندری راستوں سے۔ جے شنکر نے کہا، ’’لہٰذا آنے والے مہینوں میں ایک بڑا غذائی بحران پیدا ہونے کا امکان ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ تیل کی فراہمی سے متعلق سیاسی بنیادوں پر کیے جانے والے فیصلوں سے ایسے وقت میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں جب ممالک کو معاشی استحکام کی فوری ضرورت ہے۔ جے شنکر نے کہا کہ بین الاقوامی تنازعات کی وجہ سے سرمایہ محفوظ مالیاتی مراکز کی طرف منتقل ہوتا ہے، جس سے گلوبل ساؤتھ سے سرمایہ کاری کا رخ دور ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ممالک کو اتنا خود مرکز نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنی ہی دنیا میں رہیں اور فیصلے کرتے وقت دوسروں پر پڑنے والے اثرات کو نظر انداز کریں۔‘‘ انہوں نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلوں کے وسیع تر عالمی اثرات کو بھی مدنظر رکھیں۔ اس سے قبل 26 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جے شنکر نے جاری تنازعات میں شامل تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا، ’’تنازعات سے دور ممالک کو بھی بغیر کسی قصور کے اس کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ جن ممالک پر سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے، اکثر ان کی آواز سب سے کم ہوتی ہے۔ اس اسمبلی کو موجودہ حقیقی صورت حال کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس سال ہم خلیج میں ایک تنازع دیکھ رہے ہیں، جو پہلے ہی مشکل صورت حال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔‘
‘ انہوں نے مزید کہا تھا، ’’ہم جاری دشمنی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ بین الاقوامی آبی راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ ہندوستان تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، کشیدگی کم کرنے، شہریوں کے تحفظ اور توانائی و تجارت کی بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنانے کی اپیل کرتا ہے۔‘‘ مغربی ایشیا کے تنازع کے حوالے سے جے شنکر نے کہا تھا، ’’ہندوستان اس صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کے لیے تیار ہے، خاص طور پر غذائی اور توانائی کے تحفظ کے حوالے سے۔ مغربی ایشیا یا مشرق وسطیٰ میں بھی کشیدگی اور تشدد بدستور جاری ہے۔ ہمارا پختہ یقین ہے کہ پائیدار اور دیرپا امن کے لیے دو ریاستی حل ضروری ہے۔‘‘