فلائی دبئی طیارہ تل ابیب کی جانب بڑھتا تو اسرائیل اسے مار گرانے کے لیے تیار تھا: رپورٹ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 06-10-2026
 فلائی دبئی طیارہ تل ابیب کی جانب بڑھتا تو اسرائیل اسے مار گرانے کے لیے تیار تھا: رپورٹ
فلائی دبئی طیارہ تل ابیب کی جانب بڑھتا تو اسرائیل اسے مار گرانے کے لیے تیار تھا: رپورٹ

 



تل ابیب: اسرائیل نے فلائی دبئی کے ایک مسافر طیارے کو مار گرانے کے لیے لڑاکا طیارے تیار کرلیے تھے اگر طیارہ کاک پٹ میں چاقو سے حملے کے بعد تل ابیب کی جانب اپنا سفر جاری رکھتا۔ یہ دعویٰ سی بی ایس نیوز کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔فلائی دبئی کی پرواز 1073، 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جارہی تھی کہ معاون پائلٹ حمام الحَمّامی نے کپتان سمیت مچھر پر چاقو سے حملہ کردیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔اس دوران طیارہ صرف 30 سے کچھ زیادہ سیکنڈ میں 16 ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے آگیا جس کے بعد اسرائیل میں خدشہ پیدا ہوگیا کہ یہ واقعہ طیارے کو اغوا کرنے کی کوشش یا اسرائیل پر حملے کا حصہ ہوسکتا ہے۔

اسرائیلی فضائیہ کے اہلکاروں نے ریڈیو کے ذریعے کاک پٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔ طیارے کا ہنگامی نظام فعال کردیا گیا اور ایک کمانڈ سینٹر قائم کیا گیا۔ اسرائیلی فضائی حدود کو بھی بند کردیا گیا جبکہ لڑاکا طیاروں کو فوری طور پر روانہ کیا گیا۔بعد میں ان لڑاکا طیاروں کو واپس بلا لیا گیا جب حکام کو معلوم ہوا کہ طیارے نے سعودی عرب کی جانب رخ کرلیا ہے اور ہنگامی لینڈنگ کی تیاری کررہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے بھی اپنے لڑاکا طیارے روانہ کیے تھے۔

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق اگر طیارہ تل ابیب کی جانب اپنا سفر جاری رکھتا تو اسرائیلی پائلٹ اس کے قریب پہنچ کر کاک پٹ میں موجود افراد سے بصری رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتے۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہوتا کہ آیا طیارہ اغوا کیا جاچکا ہے اور اصل صورتحال کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر طیارے کے اغوا کی تصدیق ہوجاتی اور اغوا کاروں کی جانب سے کوئی جواب نہ ملتا تو معاملہ اسرائیلی وزیر دفاع اور وزیر اعظم تک پہنچایا جاسکتا تھا۔ طیارے کو مار گرانے کا حتمی حکم دینے کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہوتا۔

اسرائیلی ذرائع نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اگر طیارہ کامیابی کے ساتھ اغوا کرلیا جاتا اور اسرائیل کی جانب اپنا سفر جاری رکھتا تو حکام کو یقین تھا کہ اسے تل ابیب پہنچنے سے پہلے روکا جاسکتا تھا۔ اس طرح بن گوریون ہوائی اڈے اور ازریلی سینٹر سمیت اہم تنصیبات پر ممکنہ حملے کو روکا جاسکتا تھا۔تاہم یہ خطرناک صورتحال اس وقت ختم ہوگئی جب شدید زخمی ہونے کے باوجود کپتان سمیت مچھر نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ معاون پائلٹ حمام الحَمّامی پرواز میں موجود مسافروں کے قابو میں آگیا۔اس کے بعد پرواز میں سفر کرنے والے دو آف ڈیوٹی پائلٹوں نے طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا اور اسے سعودی عرب کے شہر تبوک کی جانب موڑ دیا۔