اسرائیل میں اہم انتخابات کی تیاریاں مکمل، 12 ہزار سے زائد پولنگ مراکز قائم

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 26-10-2026
اسرائیل میں اہم انتخابات کی تیاریاں مکمل، 12 ہزار سے زائد پولنگ مراکز قائم
اسرائیل میں اہم انتخابات کی تیاریاں مکمل، 12 ہزار سے زائد پولنگ مراکز قائم

 



یروشلم: اسرائیل میں اہم پارلیمانی انتخابات کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریاں کی گئی ہیں۔ ملک بھر میں 12 ہزار 18 پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ انتخابی عمل کو منظم انداز میں انجام دینے کے لیے ایک لاکھ انتخابی اہلکاروں کو متحرک کیا گیا ہے۔ ان انتخابات میں 73 لاکھ سے زیادہ ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل ہیں۔ انتخابی نتائج سے 120 رکنی اسرائیلی پارلیمنٹ یعنی کنیسٹ کی تشکیل اور آئندہ حکومت کے قیام کی راہ متعین ہوگی۔

اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق ووٹنگ صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک جاری رہے گی۔ ملک بھر میں مجموعی طور پر 73 لاکھ 36 ہزار 553 شہری ووٹر فہرستوں میں درج ہیں۔ ووٹ ڈالنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے 6 ہزار 209 قابلِ رسائی پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں جن میں خصوصی سہولتوں والے 3 ہزار 621 مراکز بھی شامل ہیں۔

انتخابی انتظامات کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل مختص کیے گئے ہیں۔ حکام نے ووٹ ڈالنے کے لیے ایک کروڑ 20 لاکھ لفافے اور 18 ہزار بیلٹ بکس تیار کیے ہیں جبکہ بیلٹ پیپرز کے لیے 250 ٹن کاغذ مختص کیا گیا ہے۔ انتخابی عمل کی نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے زمینی سطح پر تعینات نگرانوں کو 15 ہزار جسمانی کیمرے بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔

انتخابی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ایک لاکھ اہلکاروں کے علاوہ 1500 مستقل انتظامی ملازمین بھی خدمات انجام دیں گے۔ حکام کے مطابق تقریباً 50 ہزار افراد کو انتخابی انتظامات سے متعلق تربیت دی گئی ہے۔ یہ تربیت تقریباً 2140 مقامات پر منعقد کی گئی۔ پورے انتخابی عمل کے لیے 69 کروڑ اسرائیلی شیکل کا بجٹ منظور کیا گیا ہے۔

ووٹروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنانے کے لیے انتخابات کے دن ملک بھر میں مفت عوامی ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ اس میں 660 بین شہری راستوں پر بس خدمات اور اسرائیلی ریلوے کی مکمل خدمات شامل ہیں۔

اسرائیل کا پارلیمانی نظام 120 رکنی کنیسٹ کی تشکیل پر مبنی ہے۔ انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ میں نشستیں حاصل کرنے کے لیے کم از کم 3.25 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسرائیل میں ووٹر براہِ راست وزیر اعظم کا انتخاب نہیں کرتے بلکہ سیاسی جماعتوں کی فہرستوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ حکومت تشکیل دینے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اس لیے انتخابات کے بعد مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد اور حکومت سازی کے لیے ہونے والے مذاکرات انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مغربی ایشیا کی صورت حال غیر مستحکم ہے۔ اسرائیل ایران کے ساتھ جاری تنازع میں الجھا ہوا ہے اور جنوبی محاذ پر حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں کا بھی سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں انتخابی نتائج نہ صرف اسرائیل کی داخلی سیاست بلکہ پورے خطے کی صورت حال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

موجودہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی انتخابی مہم کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایران سے لاحق خطرے کا مقابلہ صرف وہی کر سکتے ہیں۔ انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد میں ان کی اپنی جماعت لیکوڈ کے علاوہ وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹریچ کی آبادکار نواز مذہبی صہیونیت پارٹی اور وزیر قومی سلامتی ایتامار بن گویر کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت یہودی طاقت شامل ہیں۔

نیتن یاہو کے اہم حریف سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ ہیں۔ انہوں نے خود کو قومی سلامتی کے معاملے پر سخت مؤقف رکھنے والے رہنما کے طور پر پیش کیا ہے اور اپنی سیاسی شبیہ ایک ایسے شخص کی بنائی ہے جو روایتی سیاسی حلقوں سے باہر کا نمائندہ ہے۔

دیگر اہم سیاسی قوتوں میں سابق وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائیر لاپید کی قیادت میں قائم اتحاد شامل ہے۔ سابق وزیر دفاع آویگدور لائبرمین بھی انتخابی میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ چار جماعتوں پر مشتمل ایک اتحاد بھی ہے جس میں اسرائیل کی عرب اقلیت کی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔ اس اتحاد کی قیادت یائیر گولان کر رہے ہیں۔

اسرائیل میں متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام رائج ہے۔ اس نظام کے تحت ووٹر امیدواروں کی فہرستوں کے بجائے سیاسی جماعتوں کی فہرستوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ ہر جماعت کو حاصل ہونے والے ووٹوں کے تناسب سے کنیسٹ میں نشستیں دی جاتی ہیں۔ تاہم صرف وہی جماعتیں نشستوں کی تقسیم میں شامل ہو سکتی ہیں جنہیں ڈالے گئے درست ووٹوں میں سے کم از کم 3.25 فیصد حاصل ہوں۔ کنیسٹ کے ارکان کی مجموعی تعداد 120 ہے۔

انتخابات کے بعد اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ کنیسٹ کے کسی رکن کو حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپتے ہیں۔ اس کے بعد نامزد رہنما اپنی تشکیل کردہ حکومت کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرتا ہے۔ حکومت کے قیام کے لیے کنیسٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسرائیل میں اب تک بننے والی تمام حکومتیں مختلف جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل رہی ہیں۔

یروشلم پوسٹ کے مطابق 23 اکتوبر کو سامنے آنے والے چار تازہ انتخابی جائزوں میں گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشار کو نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی پر برتری حاصل دکھائی گئی ہے۔ تاہم کسی بھی بڑے سیاسی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ میں واضح اکثریت حاصل ہونے کا امکان ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس صورت حال میں حکومت سازی کے لیے چھوٹی جماعتوں کی حمایت فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

اس طرح اسرائیل میں سیاسی مقابلہ ایک جانب طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والے نیتن یاہو اور دوسری جانب سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کے درمیان اہم معرکے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ان انتخابات میں کسی بھی فریق کی کامیابی اسرائیل کی سیاسی سمت اور مغربی ایشیا کی صورت حال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔