پاکستانی ڈرون حملوں پر سابق افغان صدر حامد کرزئی کا سخت ردعمل

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 24-09-2026
پاکستانی ڈرون حملوں پر سابق افغان صدر حامد کرزئی کا سخت ردعمل
پاکستانی ڈرون حملوں پر سابق افغان صدر حامد کرزئی کا سخت ردعمل

 



کابل۔:افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے پاکستان کی جانب سے افغانستان میں 10 مقامات پر کیے گئے تازہ فضائی اور ڈرون حملوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسلام آباد افغانستان کے حوالے سے اپنی منفی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے ساتھ بہتر ہمسایہ تعلقات قائم کرنے کا راستہ اختیار کرے۔

حامد کرزئی کا یہ بیان پاکستان کی جانب سے افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون حملوں کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے مطابق یہ کارروائیاں افغانستان سے بدھ کے روز مبینہ طور پر بھیجے گئے ڈرونز کے جواب میں کی گئیں۔حامد کرزئی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان کے صوبوں قندھار۔ خوست اور پکتیا میں بمباری کی ہے۔ ان کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلام آباد اپنی منفی پالیسی ترک کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کا اثر اب پاکستان کی اپنی سرحدوں تک بھی پہنچ رہا ہے۔

سابق افغان صدر نے کہا کہ افغان عوام بلاامتیاز پاکستان کی جانب سے ہونے والی کارروائیوں کے خلاف متحد اور پرعزم ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان کے ساتھ اچھے ہمسایہ تعلقات کا راستہ اختیار کرے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنائے۔دوسری جانب پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان میں کیے گئے حملے پاکستان کے حق دفاع کے تحت کیے گئے۔ انہوں نے ایکس پر کہا کہ پاکستان نے اپنی خود مختاری کے حق دفاع کا استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں ان 10 مقامات کو نشانہ بنایا جہاں مبینہ طور پر ڈرونز لانچ اور ذخیرہ کیے جاتے تھے۔

عطا اللہ تارڑ کے مطابق کارروائیاں ان فوجی اہداف تک محدود تھیں جو پاکستان پر ہونے والے مبینہ حملوں سے براہ راست منسلک تھے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائیاں دانستہ۔ درست اور متناسب نوعیت کی تھیں اور صرف ان فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن کی شناخت کی گئی تھی۔پاکستانی وزیر نے بدھ کے روز افغانستان سے ڈرونز کی مبینہ دراندازی کو دانستہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے اس سے قبل بھی کابل کے سامنے اپنی تشویش ظاہر کی تھی تاہم ان کے مطابق متعلقہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے بجائے افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف ڈرون کارروائیوں کے ذریعے صورت حال کو مزید کشیدہ کیا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے بدھ کو افغانستان سے آنے والے ڈرونز کا سراغ لگا کر انہیں ان کے ممکنہ اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا تھا۔ڈان کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ افغانستان سے لانچ کیے گئے 8 ڈرونز بدھ کو طورخم سرحد اور کوہاٹ کے قریب پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے جنہیں بعد میں مار گرایا گیا۔

تازہ کشیدگی سے قبل بھی رواں ہفتے پاکستان نے افغانستان کے کنڑ اور پکتیکا صوبوں میں فضائی حملے کیے تھے۔ افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو ان حملوں کے بعد مناسب جواب دینے کی وارننگ دی تھی۔ انہوں نے پاکستانی فوج پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر جاری بیان میں کہا تھا کہ کنڑ میں ایک خاتون اور 2 مرد ہلاک جبکہ 2 خواتین اور 2 مرد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق پکتیکا میں ایک مکان اور ایک مقامی دکان کو نشانہ بنایا گیا تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں تھی۔

افغان ترجمان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں افغانستان کے خلاف کارروائیوں کا تسلسل قرار دیا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی فوجی قیادت اپنی داخلی سلامتی سے متعلق مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسی کارروائیاں کر رہی ہے۔TOLOnews نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ پاکستانی لڑاکا طیاروں نے پیر کی صبح افغانستان کے مختلف علاقوں میں حملے کیے۔ رپورٹ کے مطابق پکتیکا کے برمل ضلع کے رخہ اور تورکندی علاقوں کو الگ الگ حملوں میں نشانہ بنایا گیا جبکہ کنڑ میں ایک اور حملے میں 3 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پار کشیدگی برقرار ہے اور دونوں جانب سے فوجی کارروائیوں اور ایک دوسرے کی سرزمین سے مبینہ حملوں کے حوالے سے مختلف دعوے اور وارننگز سامنے آ رہی ہیں۔