ایران :سعودی، پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ حکام کی علاقائی سلامتی پر ہوگی بات چیت

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 27-10-2026
ایران :سعودی، پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ حکام کی علاقائی سلامتی پر ہوگی بات چیت
ایران :سعودی، پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ حکام کی علاقائی سلامتی پر ہوگی بات چیت

 



تہران: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سکریٹری علی باقری کے مطابق سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان اور پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کے علاوہ ترکی کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ابراہیم قالن علاقائی سلامتی پر بات چیت کے لیے تہران کا دورہ کریں گے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ان رہنماؤں کی ایرانی حکام کے ساتھ مشترکہ ملاقات متوقع ہے۔

آئی آر آئی بی کے سیاسی شعبے کے ایک نامہ نگار کو انٹرویو دیتے ہوئے علی باقری نے کہا کہ یہ دورہ مغربی ایشیا میں علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کے ذریعے سلامتی کو مقامی بنیادوں پر مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

پاکستان کے آرمی چیف کے گزشتہ ہفتے کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے باقری نے کہا کہ عاصم منیر نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری میجر جنرل محسن رضائی سے ملاقات کے دوران بتایا تھا کہ سعودی عرب اور ترکی کے علاوہ پاکستان کے اعلیٰ حکام تہران آ کر ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری سے ملاقات اور مشترکہ اجلاس منعقد کریں گے۔

علی باقری کے مطابق اس دورے کا مقصد میجر جنرل محسن رضائی کے ساتھ علاقائی سلامتی کے امور پر مشاورت اور تبادلہ خیال کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے علاوہ ترکی کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ابراہیم قالن بھی تہران میں ہونے والی اس ملاقات میں شرکت کریں گے۔

علاقائی سلامتی کے لیے بیرونی مداخلت کی مخالفت

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سکریٹری نے امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں ایران اور اس کی مسلح افواج کی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔ آئی آر آئی بی کے مطابق باقری نے کہا کہ اندرونی صلاحیتوں پر مبنی ایران کا دفاعی نمونہ قومی سلامتی کے قیام کے لیے ایک کامیاب مثال بن چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی تزویراتی پالیسی یہ ہے کہ علاقائی ممالک کے ذریعے خطے کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے اور بیرونی مداخلت و اثر و رسوخ کا مقابلہ کیا جائے۔ ان کے مطابق اس پالیسی کا بنیادی مقصد امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے خطے میں اثر و رسوخ کو روکنا ہے۔

باقری نے مغربی ایشیا میں اسرائیل کے کردار کو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں اسرائیل کی موجودگی اور سرگرمیاں علاقائی ممالک کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مجوزہ اجلاس میں شریک تینوں ممالک ایران کے ساتھ مل کر علاقائی کرداروں کی شمولیت سے سلامتی کو مستحکم کرنے کے لیے مؤثر قدم اٹھا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق قومی سلامتی کے قیام میں ایران کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں ایک مؤثر اور پائیدار سلامتی کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

علی باقری نے اس اقدام کو ایرانی قوم اور مسلح افواج کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے خطے میں استحکام اور امن کے قیام کے ساتھ ترقی کی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔

مکہ دفاعی اتحاد کے تحت سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کا منصوبہ

تہران میں مجوزہ اجلاس کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ماہ اکتوبر کے اوائل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ترکی اور پاکستان مکہ دفاعی اتحاد کے تحت اپنی فوجی قوت تعینات کرکے سعودی عرب کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو اچھا قرار دیا تھا۔

سعودی عرب پر حملے کے بعد جب ٹرمپ سے ترکی اور پاکستان کی جانب سے مکہ دفاعی اتحاد کے تحت سعودی عرب میں فوجی دستے بھیجنے کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں دونوں ممالک سعودی عرب کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور یہ ایک اچھی بات ہے۔

5 اکتوبر کو سعودی عرب اور ترکی کے علاوہ پاکستان نے مکہ دفاعی اتحاد کے تحت اجتماعی دفاعی اقدامات فعال کرنے اور فوجی دستوں و دفاعی صلاحیتوں کی سعودی عرب میں جلد تعیناتی کی سمت پیش رفت پر اتفاق کیا تھا۔ یہ فیصلہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مملکت کو نشانہ بنانے والے حملوں کے تناظر میں کیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی سیاسی و دفاعی حکمت عملی سے متعلق کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا تھا۔ اجلاس میں تینوں ممالک نے سعودی عرب کو درپیش سلامتی کے خطرات اور خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان آل سعود نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا تھا کہ مکہ دفاعی اتحاد کی سیاسی و دفاعی حکمت عملی سے متعلق کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں مملکت اور مقدس مقامات پر ہونے والے حملوں کے خلاف تینوں ممالک کے اتحاد اور یکجہتی کی توثیق کی گئی۔ کمیٹی نے حملوں اور ان کے ذمہ داروں کے خلاف اتحاد کے دائرے میں اجتماعی دفاعی اقدامات فعال کرنے پر اتفاق کیا۔

اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان کے مطابق کمیٹی نے اجتماعی دفاعی ذمہ داریوں پر عملی طور پر فوری عمل درآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور پہلے سے طے شدہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات پر اتفاق کیا۔ ان دستوں کو سعودی عرب میں تیزی سے تعینات کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ تعیناتی منظور شدہ انتظامات اور رکن ممالک کے قومی قوانین کے مطابق ہوگی تاکہ فوجی تیاری اور باہمی ہم آہنگی کو بہتر بنایا جا سکے اور تینوں ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہو۔

اس اجلاس میں اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب بھی قدم اٹھایا گیا۔ کمیٹی نے پاکستان کی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو تین سال کے لیے اتحاد کا پہلا سکریٹری جنرل مقرر کیا۔

تینوں ممالک نے حوثی باغیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس شہروں کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کے علاوہ سعودی عرب کے شہروں اور شہری تنصیبات اور اقتصادی مراکز پر جاری حملوں کی سخت مذمت کی۔

مشترکہ بیان میں سعودی عرب کی سلامتی اور اس کی سرزمین کے تحفظ کے خلاف کسی بھی جارحیت یا خطرے کو قطعی طور پر مسترد کرنے کے مؤقف کا اعادہ کیا گیا۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر ابتدائی طور پر 7 اگست کو دستخط کیے گئے تھے۔