تہران۔ایران اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران پیش کی گئی ایک سفارتی تجویز کے حوالے سے امریکہ کی جانب سے دیے گئے جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔ یہ تجویز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیش کی تھی جسے علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر سفارتی ذرائع کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچایا گیا۔ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے تصدیق کی ہے کہ تہران تیسرے فریق کے ذریعے موصول ہونے والی شرائط کا جائزہ لے رہا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایران میں ان تجاویز کا فی الحال جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اگر اسلامی جمہوریہ ایران کا حتمی جواب تیار ہوا تو ضروری اقدامات مناسب سفارتی ذرائع سے کیے جائیں گے۔
دریں اثنا اتوار کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی ٹینکر کو نامعلوم سمت سے داغے گئے ایک پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا جس سے جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا۔ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے ایک ایڈوائزری میں بتایا کہ جہاز کے کپتان نے حملے کی تصدیق کی ہے۔حکام کے مطابق جہاز پر سوار تمام عملہ محفوظ ہے۔ واقعے کے بعد فوری طور پر کسی ماحولیاتی آلودگی یا تیل کے اخراج کی بھی اطلاع نہیں ملی۔ متعلقہ بحری سلامتی کے اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یو کے ایم ٹی او نے خطے سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں کو زیادہ احتیاط برتنے اور کسی بھی مشتبہ بحری سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر ایران کو پابندیوں میں ریلیف دینے اور منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے معاملے میں ٹھوس پیش رفت کرنا ہوگی۔امریکی عہدیدار کے مطابق امریکہ ثالثوں کے ذریعے ایران کے ساتھ مثبت اور تعمیری بات چیت کر رہا ہے۔ تاہم جوہری معاملات پر پیش رفت کے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی تازہ تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا تھا۔ اتوار کو انہوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ اس ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات ہوں گے۔امریکی عہدیدار کے مطابق امریکی جانب سے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف۔ جیرڈ کشنر۔ نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں۔
تاہم ٹرمپ نے ایران کو کسی رعایت کی پیشکش کیے جانے کی بات کی تردید کی۔ انہوں نے پیر کو ٹروتھ سوشل پر کہا کہ انہوں نے ایران کو کچھ بھی پیش نہیں کیا۔ امریکی عہدیدار کے مطابق ایران نے جوہری معاملات پر لچک کا اشارہ دیا ہے لیکن دونوں ممالک کے درمیان وعدوں پر عمل درآمد کے وقت کے حوالے سے ابھی اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو کہا کہ تہران نے نیویارک میں قطری ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ مزید بالواسطہ مذاکرات کیے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق عراقچی نے کہا کہ ایران واشنگٹن کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے اور امید ہے کہ یہ جواب منگل تک موصول ہو جائے گا۔
عراقچی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ان کے دورے کا بنیادی مقصد علاقائی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی نازک سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے ایران کا مؤقف واضح کرنا تھا۔
الجزیرہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران نے بحران کے حل اور اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک منصفانہ اور منطقی منصوبہ پیش کیا ہے۔ تاہم اس کے لیے مخصوص شرائط پوری کرنا ضروری ہوگا۔گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی 81 ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر عراقچی نے 7 روزہ تجویز پیش کی تھی جس کے تحت بعض شرائط پوری ہونے کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر آمادہ تھا۔
ایران کے مطابق یہ تجویز ثالثوں کے ذریعے امریکہ تک پہنچائی گئی تھی۔ اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو بعض اقدامات سے مشروط کیا گیا تھا جن میں امریکی فوجی دباؤ میں کمی بھی شامل تھی۔تاہم اتوار کو اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ واشنگٹن نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق تہران نے اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات سے قبل پابندیوں میں نرمی اور اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا۔