ایران کا اعلان، یورینیم کی افزودگی بند کریں گے نہ ذخائر کسی دوسرے ملک کے حوالے کریں گے

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 09-10-2026
ایران کا اعلان، یورینیم کی افزودگی بند کریں گے نہ ذخائر کسی دوسرے ملک کے حوالے کریں گے
ایران کا اعلان، یورینیم کی افزودگی بند کریں گے نہ ذخائر کسی دوسرے ملک کے حوالے کریں گے

 



تہران: ایران نے امریکہ کے دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود اپنے جوہری پروگرام پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ نہ تو یورینیم کی افزودگی بند کرے گا اور نہ ہی اپنے یورینیم کے ذخائر کسی دوسرے ملک کے حوالے کرے گا۔ ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے جمعرات، 8 اکتوبر کو کہا کہ یورینیم کی افزودگی ایران کا جائز حق ہے۔ محمد اسلامی کے مطابق، یورینیم کی افزودگی ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کا لازمی حصہ ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ سرگرمی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کی دفعات کے مطابق انجام دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی کا معاملہ ایک بار پھر اٹھایا گیا ہے اور ایران پر امریکہ کے ساتھ اس سلسلے میں مذاکرات کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ تاہم، ایران کا موقف ہے کہ یورینیم کی افزودگی اس کے جوہری پروگرام کا ناگزیر حصہ ہے اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ نے امریکی موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت بھی جوہری ٹیکنالوجی کو اپنی قومی ترقی، سلامتی اور دفاع کے لیے اہم سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب امریکہ خود جوہری ٹیکنالوجی کو ترجیح دیتا ہے تو ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اس کے دعوے گمراہ کن اور جھوٹے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اس کا تنازع طویل عرصے سے جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے یا یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب، ایران مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ایران کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی اور اپنے جوہری ذخائر کے معاملے پر امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہے۔