ریاض: سعودی عرب اور اس کے یمنی اتحادیوں کے خلاف حالیہ حملوں میں یمن کے حوثی باغیوں کو ایران کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات اور جنگی حکمت عملی سے متعلق رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے سابق ایران امور کے محقق ڈینی سٹرینووچ نے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور حوثیوں کے درمیان عملی سطح پر تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ انہوں نے اس تعلق کو محض سرپرست اور تابع گروہ کے رشتے کے بجائے مشترکہ اسٹریٹجک مفادات پر مبنی تعاون قرار دیا۔
حوثیوں اور سعودی عرب کے علاوہ یمنی حکومت کے درمیان تنازع حالیہ عرصے میں مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ حوثیوں کا بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی اہم آب گزرگاہ باب المندب پر بھی کنٹرول ہے۔الجزیرہ کے مطابق یمن کے صوبے تعز میں یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان حملوں کا تبادلہ ہوا۔ یمنی حکومت کے حامی فورسز نے دعویٰ کیا کہ ان جھڑپوں میں حوثی جنگجوؤں کی تعداد میں سے 378 ہلاک ہوئے۔
اس سے قبل جمعہ کو یمنی حکومت نے حوثی ملیشیا پر عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو 2 میزائلوں سے نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی کے مطابق میزائل یمنیہ ایئرلائنز کے ایک طیارے کے قریب گرے جو قاہرہ کے لیے پرواز بھرنے کی تیاری کر رہا تھا۔الاریانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یمنیہ ایئرلائنز کی پرواز آئی وائی 612 عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے قاہرہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہونے والی تھی اور پرواز سے قبل تیاریوں میں مصروف تھی کہ ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق میزائل طیارے سے تقریباً 500 میٹر اور رن وے کے مرکز سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر گرے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے حوثیوں کی حمایت کی اطلاعات کے درمیان اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب نے اسرائیل سے مدد طلب کی ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق نیتن یاہو نے جواب دیا کہ مشرق وسطیٰ میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جو اسرائیل سے مدد نہ مانگ رہا ہو۔7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے قبل اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے تک پہنچنے کی توقع کی جا رہی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ سعودی عرب کو حوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی مدد کی پیشکش قبول کرنی چاہیے۔ انہوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب کے لیے اسرائیل کی حمایت کو انتہائی مفید قرار دیا۔