اسلام آباد: انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن نے منگل کے روز پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے اسے فوج کی پشت پناہی میں اقتدار پر قبضے کی کوشش قرار دیا ہے۔ تنظیم نے صوبے میں جمہوری حقوق کی بحالی اور زیر حراست سیاسی رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔فاؤنڈیشن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد صوبے کی صورت حال پر سخت تشویش ظاہر کی۔ بیان میں سڑکوں پر فوج کی موجودگی سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی گرفتاری اور انٹرنیٹ کی بندش کا ذکر کیا گیا۔
تنظیم نے حکومت سے ہنگامی اقدامات واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی حکم نامے کے ذریعے شہریوں کے حقوق معطل نہیں کیے جاسکتے۔فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ سڑکوں پر فوج کی موجودگی ایک منتخب وزیر اعلیٰ کی گرفتاری اور انٹرنیٹ کی بندش اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت فوج کی پشت پناہی میں اقتدار پر قبضے کی کوشش ہے۔ تنظیم نے سہیل آفریدی سمیت تمام زیر حراست سیاسی رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی حکومتی حکم کے ذریعے بنیادی حقوق ختم نہیں کیے جاسکتے۔
اس سے قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی پاکستان کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت اور گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلے پر شدید تشویش ظاہر کی تھی۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ ان اقدامات سے بنیادی حقوق متاثر ہوسکتے ہیں اختلاف رائے کو دبایا جاسکتا ہے اور صوبے میں فوج کا کردار مزید بڑھ سکتا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نائب ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا بابو رام پنت نے کہا کہ صوبائی وزیر اعلیٰ سمیت اہم سیاسی رہنماؤں کی من مانی گرفتاریوں اور پورے صوبے میں انٹرنیٹ کی بندش کی اطلاعات نے ہنگامی اقدامات کی ضرورت اور ان کے تناسب سے متعلق سنگین سوالات پیدا کردیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہنگامی اقدامات انسانی حقوق کے خلاف کارروائی اختلاف رائے کو خاموش کرنے یا اقتدار کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرنے کا کھلا اختیار نہیں دیتے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی قانون کے تحت انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں میں کسی بھی قسم کی عارضی رعایت صرف انتہائی محدود اور مقررہ حالات میں ہی دی جاسکتی ہے۔پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر کو وفاقی کابینہ کی سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ہنگامی حالت اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دی تھی۔ حکومت نے اس فیصلے کے لیے صوبے میں دہشت گردانہ حملوں کی غیر معمولی شدت اور آئینی نظام کے مفلوج ہونے کو وجہ قرار دیا۔
ہنگامی اختیارات کے تحت پاکستان کی وفاقی پارلیمنٹ کو صوبے سے متعلق قوانین بنانے کا اختیار حاصل ہوجاتا ہے جبکہ اجتماع تنظیم سازی اور اظہار رائے سمیت بعض بنیادی حقوق پر پابندیاں عائد کرنے کی گنجائش بھی پیدا ہوجاتی ہے۔صدر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صوبائی اسمبلی کے اختیارات وفاقی پارلیمنٹ استعمال کرے گی۔ نئے انتظام کے تحت وزیر اعلیٰ اور صوبائی کابینہ کے ارکان اپنے عہدوں پر برقرار نہیں رہیں گے۔ ان میں صوبائی وزرا مشیران اور خصوصی معاونین بھی شامل ہیں۔
دریں اثنا اتوار کے روز پولیس نے ضلع صوابی میں متعدد چھاپے مارے۔ ان کارروائیوں کا مقصد پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو گرفتار کرنا اور ایک بڑے جلسے کو روکنا تھا۔ سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو ضلع صوابی کی تحصیل رزڑ کے علاقے شیوا اڈہ میں اس جلسے سے خطاب کرنا تھا۔خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے نفاذ کے فوراً بعد سکیورٹی کارروائیوں میں تیزی آگئی اور پولیس نے نگرانی سخت کردی۔ ان اقدامات نے صوبے میں سیاسی آزادیوں اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔