آبنائے ہرمز سے ہندوستانی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت، ایران کا اعلان

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 04-11-2026
آبنائے ہرمز سے ہندوستانی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت، ایران کا اعلان
آبنائے ہرمز سے ہندوستانی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت، ایران کا اعلان

 



تہران: ایرانی حکومت نے منگل کے روز ایک بار پھر واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں عائد سفری پابندیوں سے ہندوستانی بحری جہازوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ ایران نے ہندوستان کے علاوہ چین، عراق اور قطر کے جہازوں کو بھی اس اہم آبی گزرگاہ سے بلا روک ٹوک آمد و رفت کی اجازت دی ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے نائب چیئرمین احمد حیات مقدم نے کہا کہ ان چار ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے پر عائد پابندیوں سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان، چین، عراق اور قطر کے جہاز اس آبی راستے سے آزادانہ طور پر گزر سکتے ہیں۔

اقتصادی اور سلامتی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حیات مقدم نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے میں ایران نے چار ممالک کو رعایت دی ہے۔ ان میں ہندوستان، چین، عراق اور قطر شامل ہیں۔ ان کے بقول یہ ممالک ایرانی نقطہ نظر سے اس آبی راستے پر آمد و رفت کے لیے آزاد ہیں اور امریکہ کو بھی ان کی نقل و حرکت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کو یہ سہولت اس لیے دی گئی ہے تاکہ ایران وہاں سے ادویات درآمد کرسکے۔ اسی طرح چین کو رعایت دینے کا مقصد اس کی سیاسی حمایت حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ چین کے ساتھ تجارتی لین دین بھی جاری ہے اور ایران اس سے مالی فائدہ بھی حاصل کر رہا ہے۔

قطر کی ثالثی میں ممکنہ معاہدے پر غور

دریں اثنا ایران کے اعلیٰ سیاسی رہنما ملک کی فوجی قیادت پر زور دے رہے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ تصادم کے خدشات کے درمیان قطر کی ثالثی میں پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔العربیہ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے داخلی جائزوں میں امریکہ کے ساتھ براہ راست جنگ دوبارہ شروع ہونے کو اب سب سے زیادہ ممکنہ صورت حال قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم فوجی تصادم کے ان خدشات کے باوجود ایران کی اعلیٰ سیاسی قیادت سفارتی کوششوں کے ذریعے تنازع کو روکنے کی وکالت کر رہی ہے۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فوجی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ قطری ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ تجویز پر مثبت انداز میں غور کرے اور تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرے۔رپورٹ کے مطابق قطری نمائندے حال ہی میں ایک محدود اور واضح ذمہ داری کے ساتھ تہران پہنچے تھے۔ ان کا مقصد طویل مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنا نہیں بلکہ مجوزہ معاہدے کے حوالے سے ایران کا باضابطہ اور حتمی موقف حاصل کرنا تھا۔

دوسری جانب ایران کی سیاسی قیادت سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم فوجی حکمت عملی تیار کرنے والے حلقے امریکہ کے ساتھ امن برقرار رہنے کے امکانات کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک مستقبل میں امریکی افواج کے ساتھ دوبارہ براہ راست فوجی تصادم کا امکان زیادہ ہے۔