تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں ہنگامہ، ہندوستانی پائلٹ کی حاضر دماغی سے بڑا حادثہ ٹلا

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 01-10-2026
تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں ہنگامہ،  ہندوستانی پائلٹ کی حاضر دماغی سے بڑا حادثہ ٹلا
تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں ہنگامہ، ہندوستانی پائلٹ کی حاضر دماغی سے بڑا حادثہ ٹلا

 



تل ابیب، : دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں دو پائلٹوں کے درمیان کاک پٹ میں شدید جھگڑا ہوگیا۔ اس دوران معاون پائلٹ (کو پائلٹ) پر طیارے کو جان بوجھ کر گرانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تاہم، بھارتی پائلٹ کی حاضر دماغی اور مسافروں کی بروقت کارروائی سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ اسرائیلی نیوز چینل آئی 24 نیوز کے مطابق، بھارتی پائلٹ نے طیارے کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے معاون پائلٹ کا مقابلہ کیا۔

اطلاعات کے مطابق، دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کو ہنگامی صورت حال کے پیش نظر سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے کی طرف موڑ دیا گیا۔ طیارے نے دوران پرواز غیر قانونی مداخلت کا ہنگامی سگنل بھیجا تھا۔

اسرائیلی اخبار ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق، طیارے میں موجود بھارتی پائلٹ نے معاون پائلٹ کی جانب سے مبینہ طور پر طیارہ گرانے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے اس کا مقابلہ کیا۔ آئی 24 نیوز کے نامہ نگار ایریل اوسران نے بھارتی کپتان کی شناخت سمت مچھر کے نام سے کی ہے۔

پرواز نے ابتدا میں بین الاقوامی ہنگامی کوڈ 7700 بھیجا، جو کسی بھی ہنگامی صورت حال کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے بعد طیارے سے کوڈ 7500 بھیجا گیا، جو طیارے کو اغوا کیے جانے یا اس میں غیر قانونی مداخلت کی علامت ہے۔ پرواز سے متعلق اعداد و شمار کے حوالے سے ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ نے بتایا کہ اس سگنل کے بعد اسرائیلی فضائیہ کے لڑاکا طیارے بھی پرواز کی سمت روانہ کیے گئے۔تاہم، بعد میں اسرائیلی حکام نے طیارے کے اغوا کے امکان کو مسترد کردیا۔

معاون پائلٹ کو قابو کرنے میں 25 منٹ لگے

اطلاعات کے مطابق، طیارے میں سوار تین اسرائیلی مسافروں نے معاون پائلٹ کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان میں سے ایک مسافر تزیکا مانس نے اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ معاون پائلٹ کو قابو کرنے میں انہیں تقریباً 20 سے 25 منٹ لگے۔

انہوں نے کہا کہ صورت حال انتہائی مشکل تھی، لیکن اسرائیلی ہونے کی وجہ سے انہوں نے فوری طور پر کارروائی کی۔

تزیکا مانس کے مطابق، جب معاون پائلٹ مبینہ طور پر بھارتی کپتان پر چاقو سے حملہ کر رہا تھا تو بھارتی پائلٹ کاک پٹ کے دروازے سے باہر گر پڑا۔ تاہم، مسافروں اور عملے کے دیگر ارکان کی کوششوں سے صورت حال پر قابو پالیا گیا۔

نیتن یاہو کا سکیورٹی سخت کرنے کا حکم

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے دفتر کے ترجمان کے مطابق، وزیر اعظم نے اس واقعے کے بعد اسرائیلی اور غیر اسرائیلی، دونوں طرح کے طیاروں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کا حکم دیا ہے۔نیتن یاہو نے کہا کہ دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلائی دبئی کے ایک پائلٹ نے اپنے ساتھی پائلٹ پر چاقو سے حملہ کیا تھا اور اس کا مقصد طیارے کو تباہ کرنا تھا۔

تل ابیب جانے والی اس پرواز کا ذکر کرتے ہوئے نیتن یاہو نے بتایا کہ طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک کی جانب موڑنا پڑا اور وہاں ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔ ان کے مطابق، طیارے میں سوار ایک اسرائیلی مسافر اور عملے کے ایک رکن نے طیارے کے نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے پائلٹ کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔

اسرائیلی اخبار ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق، نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں اس واقعے کو انتہائی سنگین سکیورٹی واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ عملے کے ایک اور رکن نے کاک پٹ میں داخل ہوکر طیارے کو مستحکم کرنے میں مدد کی۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے حکام ملزم سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ انہوں نے طیارے میں سوار مسافروں کی جان بچانے والے افراد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان بہادر لوگوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ایک بڑے سانحے کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔اس واقعے کے بعد نیتن یاہو نے قومی سلامتی کے مشیر شمویل بین عزرا اور اپنے فوجی سکریٹری میجر جنرل گائے مارکیزینو کے ساتھ ایک اجلاس بھی کیا۔

اسرائیلی وزیر دفاع کا واقعے کو دہشت گردانہ حملے کی کوشش قرار دینے کا دعویٰ

دوسری جانب، امریکی نیوز چینل فاکس نیوز کے مطابق، اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اس واقعے کو ایک مبینہ جہادی دہشت گردانہ حملے کی کوشش قرار دیا، جسے ان کے بقول اسرائیلی مسافروں کی بہادری نے ناکام بنا دیا۔اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ مبینہ حملہ آور کا واحد مقصد طیارے میں سوار تمام افراد کے ساتھ اسے تباہ کرنا تھا۔

سعودی عرب سے امدادی پرواز تل ابیب پہنچی

اس واقعے کے بعد سعودی عرب سے روانہ ہونے والی فلائی دبئی کی امدادی پرواز اسرائیل کے بن گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بحفاظت پہنچ گئی۔ اس پرواز کے ذریعے تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنے والے طیارے کے مسافروں کو اسرائیل واپس لایا گیا۔’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق، امدادی پرواز میں تقریباً 180 مسافر سوار تھے، جن میں زیادہ تر اسرائیلی شہری تھے۔مسافروں کی ممکنہ طبی ضروریات کے پیش نظر ہوائی اڈے پر ایمبولینسوں کو بھی تیار رکھا گیا تھا۔ اس واقعے میں ایک 51 سالہ مسافر کے جسم کے اوپری حصے پر چوٹ آنے اور شدید صدمے کے باعث اسے اسپتال منتقل کیا گیا۔

اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ کا فلائی دبئی کی پروازیں معطل کرنے کا مطالبہ

اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ نے اس واقعے کے بعد مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے لیے فلائی دبئی کی تمام پروازیں معطل کردی جائیں۔وزیر ٹرانسپورٹ نے سول ایوی ایشن اتھارٹی سے متحدہ عرب امارات کے خلاف بھی تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ طے شدہ فضائی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔اس معاہدے کے مطابق، صرف ان ممالک کے پاسپورٹ رکھنے والے پائلٹوں کو اسرائیل میں طیارہ اتارنے کی اجازت ہے جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔

اسرائیلی فوج نے بھی واقعے کا جائزہ لیا

اسرائیلی فوج کے مطابق، چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے اس واقعے کے بعد اعلیٰ فوجی افسران کے ساتھ صورت حال کا جائزہ لیا۔اس اجلاس میں اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل عمر ٹشلر، آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ میجر جنرل ایتزک کوہن اور انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ میجر جنرل شلومی بِندر بھی شریک ہوئے۔’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق، اجلاس میں واقعے کے مختلف پہلوؤں اور سکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انتخابات سے قبل ممکنہ حملوں کے بارے میں نیتن یاہو کا انتباہ

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اس سے قبل کہا تھا کہ انہیں ایسے اشارے ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے دشمن انتخابات سے قبل حملے کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایسا کوئی اقدام کیا گیا تو اسرائیل اس کا جواب دے گا اور اس کی فوج کی پہنچ کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت ہوسکتی ہے۔اسرائیلی فضائیہ کے تل نوف اڈے پر خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنی فوجی کارروائیوں سے پیچھے ہٹے اور ان کامیابیوں کو چھوڑ دے جو ان کے بقول اسرائیلی فوجیوں کی کوششوں سے حاصل ہوئی ہیں۔

 پائلٹ سمت مچھر کی بہادری کو نیتن یاہو کا  سلام

تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں معاون پائلٹ کی جانب سے طیارہ گرانے کی مبینہ کوشش ناکام، بھارتی پائلٹ اسپتال میں زیرِ علاج، حالت مستحکم

یروشلم، یکم اکتوبر (اے این آئی): اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے بدھ کے روز بھارتی پائلٹ کیپٹن سمت مچھر کی غیر معمولی بہادری کی تعریف کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں دورانِ پرواز دو پائلٹوں کے درمیان کاک پٹ میں جھگڑا ہوگیا تھا۔ الزام ہے کہ معاون پائلٹ طیارے کو گرانے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن بھارتی کپتان نے شدید زخمی ہونے کے باوجود اس کا مقابلہ کیا اور ایک بڑے فضائی حادثے کو روکنے میں کامیاب رہے۔

اسرائیلی نیوز چینل آئی 24 نیوز کے مطابق، بھارتی پائلٹ کو دورانِ پرواز چاقو سے زخمی کیا گیا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور حملہ آور کا مقابلہ کرتے ہوئے طیارے میں سوار 174 افراد کی جان بچائی۔

وزیر اعظم نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کیپٹن سمت مچھر کی بہادری اور مشکل حالات میں حاضر دماغی کا مظاہرہ کرنے پر ان کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پائلٹ کی ہمت اور بروقت کارروائی کی وجہ سے طیارے میں سوار تمام افراد، جن میں کئی اسرائیلی شہری بھی شامل تھے، محفوظ رہے۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا، ’’میں بھارتی پائلٹ کیپٹن سمت مچھر کی غیر معمولی بہادری کو سلام پیش کرتا ہوں۔ چاقو کے حملے میں زخمی ہونے اور شدید تکلیف کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری، حملہ آور کا مقابلہ کیا، کاک پٹ کا دروازہ کھولا اور مسافروں و عملے کو حملہ آور پر قابو پانے کا موقع فراہم کیا۔ اس طرح انہوں نے دورانِ پرواز ایک بڑے فضائی حادثے کو روک دیا۔ انہوں نے اسرائیلی شہریوں سمیت 174 افراد کی جان بچائی۔ میری دعا ہے کہ کیپٹن سمت مچھر جلد مکمل صحت یاب ہوں۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک ہیرو ہیں۔‘‘

ریاض میں بھارتی سفارت خانے کا بیان، پائلٹ کی حالت مستحکم

ریاض میں بھارتی سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ کیپٹن سمت مچھر کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے اور بھارتی حکام ان کی صحت یابی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا، ’’ریاض میں ہمارا سفارت خانہ اور جدہ میں قونصل خانہ آج تبوک کی جانب موڑی گئی فلائی دبئی کی پرواز کے بہادر بھارتی پائلٹ سمت مچھر کی صحت کے بارے میں مسلسل معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ وہ شمال مغربی سعودی عرب کے شہر تبوک کے ایک اسپتال میں داخل ہیں، جہاں انہیں ضروری طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ ان کی صحت کے بارے میں تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے، تاہم اطلاعات کے مطابق ان کی حالت مستحکم ہے۔‘‘سفارت خانے نے مزید کہا، ’’ہم امید کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد اپنے زخموں سے صحت یاب ہوجائیں گے۔ ہم ان کے اہل خانہ سے رابطے میں ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ سعودی حکام کے ساتھ ان کی صحت کے بارے میں مسلسل رابطہ رکھا جائے گا اور ان کی بہتری کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔‘‘

13 سال سے زائد کا فضائی تجربہ

کیپٹن سمت مچھر ایک تجربہ کار پائلٹ ہیں اور متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنی فلائی دبئی میں براہِ راست کپتان کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہیں تجارتی ہوابازی کے شعبے میں 13 سال سے زیادہ کا تجربہ حاصل ہے۔ ان کے پاس مجموعی طور پر 9,750 گھنٹے کی پرواز کا ریکارڈ ہے، جس کا بیشتر حصہ بوئنگ 737 طیارے اڑانے سے متعلق ہے۔فلائی دبئی میں شمولیت سے قبل وہ ہندوستان کی ایک فضائی کمپنی میں تقریباً 11 سال تک خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس دوران وہ لائن ٹریننگ کپتان کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

نیتن یاہو کا طیاروں کی سکیورٹی بڑھانے کا حکم

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کے ترجمان کے مطابق، نیتن یاہو نے واقعے کے بعد اسرائیلی اور غیر اسرائیلی، دونوں طرح کے طیاروں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کا حکم دیا ہے۔نیتن یاہو نے کہا کہ دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلائی دبئی کے ایک پائلٹ نے اپنے ساتھی پائلٹ کو چاقو مارا اور اس کا ارادہ طیارے کو گرانے کا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے حکام مشتبہ پائلٹ سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔اس واقعے کے بعد نیتن یاہو نے قومی سلامتی کے مشیر شمویل بین عزرا اور اپنے فوجی سکریٹری میجر جنرل گائے مارکیزینو کے ساتھ ایک اجلاس بھی کیا۔

امدادی پرواز اسرائیل پہنچ گئی

سعودی عرب سے روانہ ہونے والی فلائی دبئی کی امدادی پرواز اسرائیل کے بن گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچ گئی۔ اس پرواز کے ذریعے تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنے والے طیارے کے مسافروں کو اسرائیل واپس لایا گیا۔’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق، امدادی پرواز میں تقریباً 180 مسافر سوار تھے، جن میں زیادہ تر اسرائیلی شہری تھے۔