واشنگٹن: امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں کئی ہندوستانی نژاد امریکیوں نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کمیونٹی کے 5 افراد نے ایوان نمائندگان کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ میری لینڈ کی لیفٹیننٹ گورنر ارونا ملر ایک بار پھر اس عہدے کے لیے منتخب ہوئی ہیں۔
ہندوستانی نژاد امریکی کامیاب امیدواروں کا تعارف اس طرح ہے:
امی بیرا
ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن پارلیمنٹ امی بیرا (61) نے کیلیفورنیا کے تیسرے کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے کامیابی حاصل کی ہے۔ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر اور بعد میں سیاست دان بننے والے امریش بابولال ’’امی‘‘ بیرا ایوان نمائندگان میں اپنی آٹھویں مدت کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ وہ پہلی بار 2012 میں امریکی کانگریس کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
امی بیرا لاس اینجلس میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین گجرات سے ہجرت کرکے امریکہ آئے تھے۔ انہوں نے کیلیفورنیا کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، اِروِن سے حیاتیاتی علوم میں گریجویشن کیا اور ڈاکٹر آف میڈیسن کی ڈگری حاصل کی۔
پارلیمنٹ کا رکن بننے سے پہلے وہ 1999 سے 2004 تک سیکرامینٹو کاؤنٹی کے چیف میڈیکل آفیسر رہے۔ اس کے علاوہ یو سی ڈیوس اسکول آف میڈیسن میں تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔
سہاس سبرامنیم
ڈیموکریٹک رکن پارلیمنٹ سہاس سبرامنیم (40) ورجینیا کے دسویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے دوبارہ منتخب ہوئے ہیں۔ وہ سابق امریکی صدر براک اوباما کے مشیر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔
ہیوسٹن میں پیدا ہونے والے سہاس نے نیو اورلینز کی ٹولین یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ وہ پہلی بار 2024 میں امریکی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ نئی کامیابی کے بعد وہ اپنی دوسری مدت شروع کریں گے۔
انہوں نے ٹولین یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے پرٹزکر اسکول آف لا سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ وہ اپنی کمیونٹی میں رضاکار فائر فائٹر اور ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
رو کھنہ
ڈیموکریٹک رکن پارلیمنٹ رو کھنہ (50) نے کیلیفورنیا کے 17ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے دوبارہ کامیابی حاصل کی ہے۔ اس علاقے میں سلیکن ویلی کا بیشتر حصہ شامل ہے۔
رو کھنہ پنسلوانیا کے شہر فلاڈیلفیا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین ہندوستان سے ہجرت کرکے امریکہ آئے تھے۔ ان کے والد کیمیکل انجینئر تھے، جبکہ والدہ خصوصی ضرورتوں کے حامل بچوں کو تعلیم دیتی تھیں۔
رو کھنہ کی انتخابی مہم کی ویب سائٹ کے مطابق، ان کے دادا امرناتھ ودیالنکار آزادی کے مجاہد تھے۔ برطانوی نوآبادیاتی حکومت کی مخالفت کرنے کے سبب انہیں 4 سال جیل میں گزارنے پڑے تھے۔
رو کھنہ نے ریپبلکن رکن پارلیمنٹ تھامس میسی کے ساتھ مل کر جنسی استحصال کے مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات عام کرنے کے لیے بھی دباؤ بنایا تھا۔
پرمیلا جے پال
ڈیموکریٹک رکن پارلیمنٹ پرمیلا جے پال واشنگٹن کے ساتویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے دوبارہ منتخب ہوئی ہیں۔ اس حلقے میں سیئٹل کا بیشتر حصہ شامل ہے۔
پرمیلا جے پال 1965 میں چنئی میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ 16 سال کی عمر میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ چلی گئی تھیں۔ بعد میں انہوں نے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔
سیاست میں آنے سے پہلے انہوں نے بین الاقوامی صحتِ عامہ اور ترقی کے شعبوں میں کام کیا۔ انہوں نے ریاست واشنگٹن میں تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’ون امریکہ‘ بھی قائم کی۔ وہ پہلی بار 2016 میں امریکی کانگریس کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔
پرمیلا جے پال امریکی ایوان نمائندگان کی رکن منتخب ہونے والی پہلی جنوبی ایشیائی نژاد امریکی خاتون ہیں۔
پیا ڈانڈیا
ڈیموکریٹک امیدوار پیا ڈانڈیا فلوریڈا کے 22ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ایوان نمائندگان کے لیے منتخب ہوئی ہیں۔
وہ نیویارک کے ایک ہائی اسکول میں پرنسپل رہ چکی ہیں۔ ان کی پیدائش اور پرورش پام بیچ کاؤنٹی میں ہوئی۔ ان کے والدین ہندوستان سے ہجرت کرکے امریکہ میں آباد ہوئے تھے۔
پیا ڈانڈیا وائٹ ہاؤس فیلو کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنی ایپل میں بھی خدمات انجام دیں۔ ان کی انتخابی مہم کی ویب سائٹ کے مطابق، انہوں نے ایک ہائی اسکول قائم کیا تھا، جس کا مقصد کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
ارونا ملر
ڈیموکریٹ ارونا ملر (61) نے میری لینڈ کی لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے پر ایک اور مدت کے لیے کامیابی حاصل کی ہے۔
ارونا ملر کی پیدائش آندھرا پردیش میں ہوئی تھی۔ وہ 7 سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ چلی گئی تھیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف میسوری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے سول انجینئرنگ میں گریجویشن کیا۔
سیاست میں آنے سے پہلے انہوں نے مونٹگمری کاؤنٹی کے محکمہ ٹرانسپورٹ میں 25 سال تک سول اور ٹرانسپورٹ انجینئر کے طور پر کام کیا۔