صنعاء۔ یمن کے سمندری علاقے میں فائرنگ کا نشانہ بننے والی ایک یاٹ پر سوار تمام 14 ہندوستانی شہری محفوظ ہیں۔ یمن میں ہندوستانی سفارت خانے نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ہندوستانی شہری یمن کے شہر حدیدہ کے آس پاس موجود ہیں اور ان کی خیریت کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ہندوستانی سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ موصولہ اطلاعات کے مطابق یاٹ پر سوار تمام 14 ہندوستانی شہری محفوظ ہیں۔ سفارت خانہ ان کی سلامتی اور خیریت کے لیے مسلسل کام کرتا رہے گا۔اس سے قبل سفارت خانے نے کہا تھا کہ وہ 22 اکتوبر کو یمن کے ساحل کے قریب پیش آنے والے واقعے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے الزام لگایا تھا کہ سعودی عرب نے بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں جزیرہ زقر کے قریب ہندوستانی یاٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کے مطابق اس یاٹ پر ہندوستانی شہریت رکھنے والے 14 افراد سوار تھے۔ واقعے کے بعد حوثی فورسز نے مبینہ طور پر بچاؤ کارروائی شروع کی۔
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ابتدائی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب نے جزیرہ زقر کے قریب ہندوستانی شہریوں کو لے جانے والی یاٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یمنی مسلح افواج متاثرہ افراد کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں اس مبینہ حملے کو بحیرہ احمر میں بین الاقوامی بحری آمد و رفت کے لیے خطرہ قرار دیا تھا اور عالمی برادری سے سعودی عرب کی کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم حملے کے حوالے سے حوثیوں کے الزامات کی آزادانہ تصدیق اس رپورٹ میں نہیں کی گئی ہے۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کے شہر دمام میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد سامنے آئی ہے۔ ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے کے مطابق اس حملے میں 2 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں ایک ہندوستانی شہری بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ 2 دیگر ہندوستانی شہری زخمی ہوئے تھے۔
ہندوستان نے سعودی عرب میں شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ ان میں دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ پر حملے بھی شامل ہیں۔ نئی دہلی نے خطے میں امن و استحکام کی جلد بحالی کی امید ظاہر کی ہے۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی مذمت کرتے ہوئے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں کشیدگی میں اضافہ اور سعودی عرب میں شہری اہداف پر حوثیوں کے مسلسل حملے ناقابل قبول ہیں۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں سے عام شہریوں کی مشکلات بڑھ رہی ہیں اور علاقائی تناؤ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے یمن کے لیے ایک واضح سیاسی راستہ اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔