ریاض: سعودی عرب میں ہندوستان کے سفیر ویپل اور ہندوستانی سفارت خانے کے افسران نے ریاض ہوائی اڈے پر حالیہ حوثی حملے میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی شہری محمد یوسف علی کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا اور ہر ممکن مدد اور تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔سعودی عرب میں ہندوستانی سفارت خانے نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ سفیر ویپل اور سفارت خانے کے افسران مرحوم محمد یوسف علی کی نماز جنازہ میں ان کے اہل خانہ اور خیر خواہوں کے ساتھ شریک ہوئے۔ وہ ریاض ہوائی اڈے پر حالیہ حملے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
سفارت خانے کے مطابق سفیر نے غم زدہ خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی مغفرت اور ابدی سکون کے لیے دعا کی۔ انہوں نے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ سفارت خانہ آئندہ بھی ان کی مدد اور تعاون کے لیے موجود رہے گا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔ ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے نے تصدیق کی کہ اس حملے میں زخمی ہونے والے ایک ہندوستانی شہری کی موت ہو گئی ہے۔
سفارت خانے نے اس سے قبل بتایا تھا کہ حملے میں زخمی ہونے والے ایک ہندوستانی شہری کی موت ہو گئی ہے جبکہ تین دیگر زخمی انتہائی نگہداشت کے شعبے میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔ مزید دو افراد اسپتال کے عام وارڈ میں داخل ہیں جبکہ باقی زخمیوں کو علاج کے بعد اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔سفارت خانے نے زخمی ہندوستانی شہریوں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے پر سعودی حکام کا شکریہ ادا کیا اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
پیر کو ایکس پر جاری اپنے بیان میں سفارت خانے نے کہا کہ اس کے افسران نے ان تمام اسپتالوں کا دورہ کیا ہے جہاں حملے میں زخمی ہونے والے ہندوستانی شہری زیر علاج ہیں۔ بیان کے مطابق ایک ہندوستانی شہری کی موت ہو چکی ہے جبکہ تین افراد انتہائی نگہداشت کے شعبے میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔ دو دیگر زخمی عام وارڈ میں داخل ہیں جبکہ باقی افراد کو اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
سعودی عرب میں مقیم ہندوستانیوں کے لیے ہدایت
دریں اثنا ہندوستانی سفارت خانے نے سعودی عرب میں مقیم ہندوستانی برادری کے افراد سے مقامی قوانین اور ضوابط کی پابندی کرنے کی اپیل کی ہے۔سفارت خانے نے پیر کو سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع کی جانب سے جاری کردہ انتباہ بھی شیئر کیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائیوں یا ان کے گرنے کے مقامات سے متعلق ویڈیو بنانے اور معلومات شائع کرنے یا دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے پر قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔
سعودی حکام سے ملاقات اور کثیر ملکی تعاون پر تبادلہ خیال
دوسری جانب ہندوستانی سفیر ویپل نے سعودی وزارت خارجہ میں بین الاقوامی کثیر ملکی امور کے نائب وزیر اور اقتصادی و ترقیاتی امور کے شعبے کے نگران ڈاکٹر عبدالرحمن الرسی سے ملاقات کی۔ اس دوران باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی اور کثیر ملکی تعاون کو مزید فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ہندوستانی سفارت خانے نے منگل کو ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا اور مختلف شعبوں میں کثیر ملکی تعاون کو مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔سعودی وزارت خارجہ نے بھی پیر کو اس ملاقات کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالرحمن الرسی نے مملکت میں ہندوستان کے سفیر ویپل سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے امور کا جائزہ لیا۔
بین الاقوامی توانائی فورم کے اجلاس میں ہندوستانی وفد کی قیادت
ایک اور اہم مصروفیت کے تحت سفیر ویپل نے ریاض میں منعقدہ بین الاقوامی توانائی فورم کے 17ویں وزارتی اجلاس اور 25ویں عالمی پیٹرولیم کانگریس میں ہندوستانی وفد کی قیادت کی۔ہندوستانی سفارت خانے نے پیر کو ایکس پر بتایا کہ سفیر ویپل نے ان دونوں اہم بین الاقوامی توانائی اجلاسوں میں ہندوستانی وفد کی قیادت کی۔ کانگریس میں ہندوستان کی شرکت کو نمایاں بنانے والی کمپنیوں میں انجینئرز انڈیا لمیٹڈ اور لارسن اینڈ ٹوبرو بھی شامل ہیں۔