نئی دہلی: عالمی ملبوسات کی برآمدات میں ہندوستان کا حصہ 2025 میں تقریباً 3 فیصد پر ہی برقرار رہا، جبکہ اسی عرصے میں چین کا حصہ 2010 کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد پوائنٹس کم ہوگیا۔ پی ایل کیپیٹل کی ٹیکسٹائل شعبے سے متعلق رپورٹ کے مطابق چین سے سپلائی کے تنوع کی حکمت عملی، جسے ’’چائنا پلس ون‘‘ کہا جاتا ہے، اور اہم عالمی بازاروں تک بہتر تجارتی رسائی ہندوستان کے لیے برآمدات بڑھانے کا بڑا موقع پیدا کر سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی ملبوسات کی برآمدات میں چین کا حصہ 2010 میں 36.9 فیصد تھا، جو 2025 میں کم ہوکر 27.3 فیصد رہ گیا۔ اس کے برعکس اسی مدت میں ہندوستان کا حصہ معمولی کمی کے ساتھ 3.2 فیصد سے گھٹ کر 3 فیصد رہ گیا۔ بنگلہ دیش اور ویتنام نے اس دوران اپنی مشترکہ حصہ داری تقریباً 7 فیصد سے بڑھا کر 13 فیصد سے زیادہ کرلی۔
پی ایل کیپیٹل نے اپنی ٹیکسٹائل سیکٹر رپورٹ میں کہا کہ ’’چائنا پلس ون‘‘ حکمت عملی کے باعث عالمی ملبوسات کی سپلائی میں چین کے غلبے میں تقریباً 9.6 فیصد کی کمی آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں تقریباً 50 سے 60 ارب امریکی ڈالر مالیت کا کاروباری حجم عالمی سپلائی کے نظام میں نئے مواقع کے طور پر دستیاب ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب تک اس تبدیلی کا سب سے زیادہ فائدہ بنگلہ دیش اور ویتنام کو ملا ہے۔ کم پیداواری لاگت، مختلف تجارتی معاہدوں اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مینوفیکچرنگ نظام نے ان دونوں ممالک کو عالمی ملبوسات کی سپلائی میں اپنی جگہ مضبوط کرنے میں مدد دی ہے۔ پی ایل کیپیٹل نے کہا کہ ہندوستان کے معاملے میں صورتحال مختلف رہی ہے۔ ملک میں اب بھی ایسے مربوط صنعتی مراکز کی کمی ہے جہاں فائبر، کپڑا اور فیشن سے متعلق تمام مراحل ایک ہی جگہ پر مکمل کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں سرمایہ کی لاگت بھی نسبتاً زیادہ ہے، جس کے باعث عالمی ملبوسات کی برآمدات میں ملک کا حصہ گزشتہ برسوں میں تقریباً ایک ہی سطح پر رہا ہے۔
تاہم رپورٹ کے مطابق اب کئی عوامل ہندوستان کے حق میں ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ان میں چین سے سپلائی چین کو دوسرے ممالک کی طرف منتقل کرنے کا رجحان، حکومت کی جانب سے پی ایل آئی (پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو) اور پی ایم متر جیسی اسکیموں کے ذریعے پالیسی تعاون اور تجارتی معاہدوں کے ذریعے بڑے عالمی برآمدی بازاروں تک بہتر رسائی شامل ہے۔ ہندوستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات مالی سال 2025-26 میں تقریباً 37 ارب امریکی ڈالر رہی ہیں۔ ان میں تیار ملبوسات کا حصہ سب سے زیادہ، تقریباً 44 فیصد تھا۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں عالمی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مجموعی برآمدات میں ہندوستان کا حصہ تقریباً 4 فیصد تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین سے منتقل ہونے والے کاروبار کا فائدہ ٹیکسٹائل کی تمام کمپنیوں کو یکساں طور پر نہیں ملے گا، کیونکہ عالمی برانڈز اب اپنے آرڈرز کم تعداد میں بڑی اور قابل اعتماد کمپنیوں کو دینے کی پالیسی اختیار کر رہے ہیں۔ پی ایل کیپیٹل کے مطابق خریدار ایسے سپلائرز کو ترجیح دے رہے ہیں جو بڑے پیمانے پر پیداوار، قابل اعتماد سپلائی، مصنوعات کی مکمل نگرانی، ماحولیاتی و سماجی معیارات کی پابندی اور مختلف ممالک میں سپلائی جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے لیے ایک بڑا چیلنج پیداواری پیمانے کا ہے۔
ملک میں گارمنٹ مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اب بھی مختلف چھوٹی اور درمیانے درجے کی اکائیوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ چین، ویتنام اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں ترسیل کا وقت زیادہ، مصنوعی ریشوں کے شعبے میں گہرائی محدود اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار نسبتاً کم ہے۔ پی ایل کیپیٹل کے مطابق ٹیکسٹائل شعبے میں اگلے مرحلے کی ترقی کا زیادہ فائدہ ان بڑی، منظم اور بہتر انتظامی صلاحیت رکھنے والی ملبوسات بنانے والی کمپنیوں کو مل سکتا ہے جو بڑے پیمانے پر پیداوار، تیز تر ترسیل اور مربوط سپلائی چین فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔