نئی دہلی: نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے پیر کو کہا کہ ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور رواں سال اکتوبر میں نافذ العمل ہو جائے گا۔ نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے اس معاہدے کو رواں ماہ 16 ستمبر کو منظوری دے دی تھی۔
لکسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس معاہدے سے نیوزی لینڈ کے برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے، کاروباری ترقی کو فروغ ملے گا اور ملک میں روزگار اور لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا، ’’تقریباً تین سال پہلے میں نے عہد کیا تھا کہ اگر نیشنل پارٹی ہماری پہلی مدتِ حکومت میں اقتدار میں آتی ہے تو ہندوستان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کیا جائے گا۔
آج ہم نے اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے اور یہ اگلے ماہ نافذ ہو جائے گا۔‘‘ لکسن نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں کتنے کاروبار ترقی کریں گے، اس کا تصور کرنا دلچسپ ہے اور اس کا فائدہ ان کاروباروں، ان میں کام کرنے والے لوگوں اور پورے ملک کو ہوگا۔ ان کے مطابق معاہدے سے نیوزی لینڈ کے برآمد کنندگان کو زیادہ مواقع، کاروبار کو مضبوط ترقی، مزید روزگار اور لوگوں کو زیادہ آمدنی حاصل ہوگی۔ نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے 16 ستمبر کو اس معاہدے سے متعلق قانون کو 29 کے مقابلے میں 93 ووٹوں سے منظور کیا تھا، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاہدے کے نفاذ کی راہ مزید صاف ہو گئی۔
پارلیمانی منظوری کے بعد لکسن نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ ہندوستان کی صارف منڈی تک نیوزی لینڈ کی مصنوعات کی رسائی بڑھائے گا اور ملک کی اقتصادی ترقی میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس معاہدے کے ذریعے 1.4 ارب ہندوستانی صارفین کی منڈی تک نیوزی لینڈ کی مصنوعات کی رسائی بڑھے گی، جس سے روزگار اور آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس بل کو حکمراں نیشنل پارٹی کے ساتھ اہم اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کی حمایت بھی حاصل ہوئی، جس کے باعث پارلیمنٹ میں اسے واضح اکثریت سے منظوری مل گئی۔ ہندوستان اور نیوزی لینڈ نے اس آزاد تجارتی معاہدے پر 27 اپریل کو دستخط کیے تھے۔
ہندوستان کے کامرس سکریٹری راجیش اگروال نے بھی رواں ماہ کہا تھا کہ یہ معاہدہ اکتوبر میں عملی طور پر نافذ ہو سکتا ہے۔ معاہدے کے تحت نیوزی لینڈ ہندوستان سے ہونے والی 100 فیصد برآمدات کو اپنی منڈی میں ڈیوٹی فری رسائی فراہم کرے گا۔ اس میں تمام ٹیرف لائنز شامل ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد ہندوستان کے محنت پر مبنی شعبوں کی مسابقتی صلاحیت اور روزگار کے مواقع کو بھی بہتر بنانا ہے۔ ان شعبوں میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات، چمڑے اور جوتے، جواہرات و زیورات، انجینئرنگ مصنوعات اور تیار شدہ غذائی اشیا شامل ہیں۔
معاہدے کے تحت نیوزی لینڈ نے اگلے 15 برسوں کے دوران ہندوستان میں 20 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا عہد بھی کیا ہے۔ اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان طویل مدتی اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ نیوزی لینڈ سے ہندوستان آنے والی مصنوعات کے لیے 70.03 فیصد ٹیرف لائنز پر مارکیٹ تک رسائی فراہم کی گئی ہے، جو دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی تقریباً 95 فیصد تجارت کا احاطہ کرتی ہیں۔ ہندوستان نے 29.97 فیصد ٹیرف لائنز کو معاہدے سے باہر رکھا ہے۔ ان میں ڈیری مصنوعات، کئی زرعی اشیا، چینی، بعض دھاتیں اور دیگر حساس مصنوعات شامل ہیں۔ معاہدے کے تحت 30 فیصد ٹیرف لائنز پر فوری طور پر درآمدی ڈیوٹی ختم کر دی جائے گی۔
ان میں لکڑی، اون، بھیڑ کا گوشت اور کچی کھالیں شامل ہیں۔ مزید 35.60 فیصد ٹیرف کو تین، پانچ، سات یا 10 سال کے دوران مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔ کچھ مصنوعات، جن میں شراب، دواسازی، پولیمر اور ایلومینیم، لوہے اور اسٹیل کی بعض مصنوعات شامل ہیں، پر ٹیرف میں کمی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ منوکا شہد، سیب، کیوی فروٹ اور البومِن سمیت بعض مصنوعات کے لیے ٹیرف ریٹ کوٹے کا انتظام ہوگا۔ معاہدے میں زراعت کے شعبے میں تعاون بھی شامل ہے۔ دونوں ملک کیوی فروٹ، سیب اور شہد سمیت مختلف شعبوں میں پیداوار اور صلاحیت بڑھانے کے لیے کام کریں گے۔
اس میں پودے لگانے کے لیے معیاری مواد، تحقیق، تکنیکی مدد، باغات کے انتظام، فصل کے بعد کے طریقوں، سپلائی چین اور خوراک کے تحفظ جیسے شعبے شامل ہیں۔ خدمات کے شعبے میں نیوزی لینڈ نے 118 شعبوں میں اپنی خدمات کی منڈی تک رسائی کی پیشکش کی ہے، جبکہ 139 شعبوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ ملک یعنی موسٹ فیورڈ نیشن (ایم ایف این) کا درجہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ آزاد تجارتی معاہدے میں ہندوستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد کے لیے نیوزی لینڈ میں کام کرنے اور قیام کے نئے مواقع بھی شامل کیے گئے ہیں۔
عارضی ملازمت کے لیے مخصوص ویزا راستے کے تحت ہر سال 5,000 ہنرمند ہندوستانی شہریوں کو زیادہ سے زیادہ تین سال تک نیوزی لینڈ میں کام کرنے کی اجازت دی جا سکے گی۔ اس میں آیوش کے ماہرین، یوگا انسٹرکٹرز، ہندوستانی شیف اور موسیقی کے اساتذہ کے علاوہ آئی ٹی، انجینئرنگ، صحت، تعلیم اور تعمیرات کے شعبوں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ ورکنگ ہالی ڈے ویزا کے تحت ہر سال 1,000 نوجوان ہندوستانیوں کو 12 ماہ تک نیوزی لینڈ جانے کا موقع ملے گا۔ معاہدے میں طلبہ کی نقل و حرکت اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد کام سے متعلق بھی خصوصی انتظامات شامل ہیں۔ اہل ہندوستانی طلبہ تعلیم کے دوران ہفتے میں 20 گھنٹے تک کام کر سکیں گے، جبکہ تعلیمی قابلیت کے مطابق انہیں تعلیم مکمل کرنے کے بعد زیادہ مدت کے لیے ورک ویزا بھی مل سکے گا۔