پاکستان کی حمایت یافتہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے خلاف ہندوستان اور اسرائیل کی ووٹنگ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 04-11-2026
پاکستان کی حمایت یافتہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے خلاف ہندوستان اور اسرائیل کی ووٹنگ
پاکستان کی حمایت یافتہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے خلاف ہندوستان اور اسرائیل کی ووٹنگ

 



نیویارک: ہندوستان اور اسرائیل نے اقوام متحدہ میں پاکستان اور بیلاروس کی جانب سے پیش کردہ روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول سے متعلق ایک مسودہ قرارداد کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ ہندوستان نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے خدشات کو علاقائی سرحدوں تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔’عمومی اور مکمل تخفیف اسلحہ: علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول‘ کے عنوان سے پیش کی گئی اس قرارداد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی میں منظوری حاصل ہوئی۔ قرارداد کے حق میں 180 ووٹ پڑے جبکہ دو ممالک نے اس کی مخالفت کی اور کسی ملک نے ووٹنگ میں غیر حاضری اختیار نہیں کی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 193 رکنی عالمی ادارے میں ہندوستان اور اسرائیل ہی ایسے دو ممالک تھے جنہوں نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔

اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن کے فرسٹ سکریٹری انمول شیر بیدی نے ملک کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول ایک عالمی مسئلہ ہے۔ ہندوستان اس بات سے پوری طرح متفق نہیں ہے کہ اس معاملے کو بنیادی طور پر علاقائی اور ذیلی علاقائی تناظر میں آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی میں ہندوستان کی جانب سے ووٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ موقف ملک کی مستقل اور تاریخی پالیسی کے عین مطابق ہے۔

ہندوستان نے قرارداد کے اس مطالبے پر بھی سوال اٹھایا جس میں اقوام متحدہ کے تخفیف اسلحہ کمیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے رہنما اصول تیار کرے جو روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول سے متعلق علاقائی معاہدوں کے لیے ایک بنیادی ڈھانچہ فراہم کرسکیں۔انمول شیر بیدی نے کہا کہ اس مطالبے کو ہندوستان نے قدرے حیرت کے ساتھ دیکھا ہے۔ ان کے مطابق تخفیف اسلحہ کمیشن پہلے ہی 1993 میں علاقائی تخفیف اسلحہ سے متعلق رہنما اصول اور سفارشات طے کرچکا ہے۔ اس کے بعد 1999 میں روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول اور تخفیف اسلحہ سے متعلق رہنما اصول مرتب کیے گئے جبکہ 2017 میں روایتی ہتھیاروں کے حوالے سے اعتماد سازی کے عملی اقدامات پر بھی اتفاق رائے حاصل کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح اسی موضوع پر اسی ادارے میں پہلے ہی تین مرتبہ اتفاق رائے سے نتائج سامنے آچکے ہیں۔ ایسے میں یہ سمجھنا مشکل ہے کہ جس معاملے پر پہلے ہی تفصیلی غور ہوچکا ہے اس پر دوبارہ بحث کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ ان کے بقول ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا مقصد اقوام متحدہ کے تخفیف اسلحہ کے نظام کو محض مصروف رکھنا ہے۔ہندوستان نے قرارداد میں کسی خطے یا ذیلی خطے کے اندر دفاعی صلاحیتوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے طریقہ کار پر بھی سخت اعتراض کیا۔ بیدی نے کہا کہ اس تصور میں یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ ممالک کے سلامتی سے متعلق خدشات ان کی علاقائی سرحدوں پر ختم ہوجاتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سلامتی کے خدشات محدود جغرافیائی حدود سے آگے تک پھیلے ہوتے ہیں اور اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق کسی ایک خطے یا ذیلی خطے میں دفاعی صلاحیتوں کا توازن برقرار رکھنے کا تصور بھی عملی طور پر غیر حقیقی دکھائی دیتا ہے۔دوسری جانب قرارداد میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول کے اقدامات بنیادی طور پر علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر کیے جانے چاہئیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی امن کو درپیش بیشتر خطرات پڑوسی ممالک کے درمیان پیدا ہوتے ہیں۔ قرارداد میں اس مقصد کے تحت ایسے معاہدوں کی حوصلہ افزائی کی بات بھی کی گئی ہے جن کے ذریعے ہتھیاروں اور فوجی قوت کی کم سے کم سطح پر علاقائی سلامتی کو مضبوط بنایا جاسکے۔

اس کے علاوہ ہندوستان نے قرارداد کی ایک مخصوص شق کے خلاف بھی ووٹ دیا جس میں جنوبی ایشیا کے تناظر میں روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول سے متعلق تجاویز کا ذکر کیا گیا تھا۔اس شق میں لاطینی امریکی ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت سمیت مختلف علاقائی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے جنوبی ایشیا میں روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول سے متعلق تجاویز کو خصوصی دلچسپی کا موضوع قرار دیا گیا تھا۔ اس میں علاقائی استحکام کے لیے ہتھیاروں کی تحدید کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا تھا۔قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ فوجی اعتبار سے اہم ممالک اور زیادہ دفاعی صلاحیت رکھنے والی ریاستوں پر علاقائی سلامتی کے معاہدوں کو آگے بڑھانے کی خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔