ہندوستان کی اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی پر تنقید، داؤد ابراہیم کی پاکستان میں موجودگی کا دعویٰ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 22-10-2026
 ہندوستان کی اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی پر تنقید، داؤد ابراہیم کی پاکستان میں موجودگی کا دعویٰ
ہندوستان کی اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی پر تنقید، داؤد ابراہیم کی پاکستان میں موجودگی کا دعویٰ

 



نیویارک: ہندوستان نے بدھ کے روز دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے متعلق ایک رپورٹ میں جانبداری برتنے پر اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی بین سول کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور غیر جانب داری کے اعلیٰ معیارات برقرار رکھنے پر زور دیا۔اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی بین سول نے اپنی رپورٹ میں داؤد ابراہیم کو ڈی کمپنی نامی مجرمانہ گروہ کا سربراہ قرار دیا تھا۔ رپورٹ میں اس گروہ کو ہندوستان میں سرگرم بتایا گیا تھا اور اس کے دہشت گردوں سے روابط کا ذکر کیا گیا تھا۔

اس پر اعتراض کرتے ہوئے ہندوستانی سفارت کار راگھو پوری نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ خصوصی نمائندہ خصوصی کی جانب سے حقائق کے اعتبار سے غلط معلومات پر مشتمل رپورٹیں جاری کیے جانے اور اس کے لیے جواب دہ نہ ٹھہرائے جانے کی صورت حال تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے رکن ممالک کے سامنے ایک ایسی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے جس میں انہیں حقائق کی جانچ پڑتال کے بغیر رپورٹ کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایسے وقت میں اس ادارے کے لیے افسوس ناک ہے جب اس کی ساکھ کو پہلے ہی چیلنجز کا سامنا ہے۔

پوری نے واضح کیا کہ داؤد ابراہیم ایک مطلوب مجرم ہے اور پاکستان میں مقیم ہے۔ انہوں نے پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی ملک میں اسامہ بن لادن بھی پایا گیا تھا اور اسے ہلاک کیا گیا تھا۔ہندوستانی سفارت کار نے کہا کہ رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے کہ سلامتی کونسل نے 2003 میں ڈی کمپنی نامی مجرمانہ گروہ کے سربراہ کو القاعدہ سے تعلق کے باعث اپنی فہرست میں شامل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو الگ کرکے پڑھنے سے اصل صورت حال کی مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔

پوری کے مطابق ڈی کمپنی اور اس کے فہرست میں شامل سربراہ داؤد ابراہیم کو 1993 سے ہندوستان میں دہشت گردانہ حملوں کے سلسلے میں مطلوب قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نظام 1267 کے تحت داؤد ابراہیم کو فہرست میں شامل کرنے کی وجوہات کے خلاصے میں یہ بات واضح طور پر درج ہے۔ اس حقیقت کا ذکر نہ کرنا افسوس ناک ہے اور خصوصی مینڈیٹ رکھنے والوں کی ایسی نااہلی سے اقوام متحدہ کے ادارے کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ داؤد ابراہیم 2003 میں اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل کیے جانے سے کافی پہلے ہندوستان چھوڑ چکا تھا۔ اس کے بعد ملک سے باہر رہتے ہوئے اسے القاعدہ اور اسامہ بن لادن سے تعلقات کے باعث فہرست میں شامل کیا گیا۔ پوری نے کہا کہ داؤد ابراہیم آج بھی ہندوستان میں مطلوب مجرم ہے اور اقوام متحدہ کی فہرست میں درج معلومات کے مطابق اسی ملک میں رہتا ہے جہاں اسامہ بن لادن کو تلاش کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔ہندوستان نے رپورٹ میں مبینہ جانبداری پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ انسانی حقوق کے نظام کو دہشت گردی کے مرتکب افراد کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

پوری نے کہا کہ دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے بعض عناصر کے لیے انسانی حقوق اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے نظام کو اپنی غلط کاریوں کا جواز پیش کرنے کے لیے استعمال کرنا ایک رواج بنتا جارہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسانی حقوق کا نظام دہشت گردی کے مرتکب افراد اور انتہا پسندی و شدت پسندی کو فروغ دینے والوں کی پناہ گاہ نہیں بن سکتا۔ دہشت گردی کو کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ہندوستانی سفارت کار نے پاکستانی وفد کے ایک بیان پر بھی سخت اعتراض کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر اور لداخ ہندوستان کے اٹوٹ حصے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی مندوب کی جانب سے ہندوستان کے خلاف لگائے گئے الزامات میں جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق دعوے بھی شامل ہیں جو محدود سیاسی مفادات کے حصول کے لیے کیا جانے والا محض پروپیگنڈا ہیں۔ پوری نے الزام لگایا کہ یہ بیانیہ پاکستان کے اصل حکمرانوں یعنی اس کی فوج کی وجہ سے سامنے آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ریکارڈ کے لیے دوبارہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر اور لداخ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں اور ماضی میں بھی رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی مندوب کے بیان پر مزید تبصرہ کرکے اسے اہمیت نہیں دینا چاہتے۔اس سے ایک روز قبل ہندوستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں کہا تھا کہ انسانی حقوق کو سیاسی دباؤ ڈالنے یا کسی مخصوص ملک کو منتخب کرکے نشانہ بنانے کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہندوستان نے جبری گمشدگیوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جواب دہی شفافیت اور تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔جبری یا غیر رضاکارانہ گمشدگیوں سے متعلق ورکنگ گروپ کے موضوع پر ہندوستان کا موقف پیش کرتے ہوئے وزارت خارجہ کی نائب سکریٹری برخا تمرکار نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سے نمٹنے کے لیے ملک میں موجود آئینی اور ادارہ جاتی حفاظتی انتظامات کو اجاگر کیا۔