اقوام متحدہ،: ہندوستان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ایک ماہر کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے، جس میں ملک کے نوجوانوں کی جانب سے شروع کی گئی ایک ’’طنزیہ سیاسی تحریک‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ذہنی صحت اور صنفی انصاف جیسے موضوعات پر بات کرنے والے نوجوانوں کو انتقامی کارروائیوں اور سماجی بدنامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہندوستان نے رپورٹ کو سنی سنائی باتوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے ماہر سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی کی شبیہ خراب کرنے سے پہلے حقائق کی تصدیق کریں۔
اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن کے فرسٹ سکریٹری انوج سوروپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے 81ویں اجلاس میں یہ معاملہ اٹھایا۔ وہ پُرامن اجتماع اور تنظیم سازی کی آزادی سے متعلق خصوصی نمائندہ جینا رومرو کے ساتھ بات چیت کے دوران ہندوستان کا موقف پیش کر رہے تھے۔ انوج سوروپ نے جینا رومرو کی رپورٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے دعووں کی تائید میں حاشیے میں نامعلوم دستاویزات کا حوالہ دیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی کے خلاف نامعلوم ذرائع سے حاصل ہونے والے غیر مصدقہ دعووں کی بنیاد پر اس قدر وسیع الزامات عائد کرنا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ سنی سنائی باتوں کو اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حصہ بنانے کے مترادف ہے اور ہمارا وفد اسے پوری طرح مسترد کرتا ہے۔‘‘ سوروپ نے مزید کہا، ’’جب کوئی خصوصی نمائندہ نامعلوم ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر 1.4 ارب لوگوں کے بارے میں عمومی نتائج اخذ کرتی ہیں تو وہ اپنی ذمہ داری کے ساتھ انصاف نہیں کرتیں۔ ہم ان سے اپیل کرتے ہیں کہ کسی کو بدنام کرنے سے پہلے حقائق کی تصدیق کریں اور اپنی رپورٹ میں مطلوبہ سنجیدگی اور غیر جانب داری برقرار رکھیں۔‘
‘ جینا رومرو نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ہندوستان کے نوجوانوں نے ایک ’’طنزیہ سیاسی تحریک‘‘ شروع کی ہے۔ ان کا اشارہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کی جانب تھا۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ہندوستانی نوجوانوں نے بتایا ہے کہ ذہنی صحت یا صنفی انصاف کے موضوعات پر بات کرنے کی وجہ سے انہیں انتقامی کارروائیوں یا سماجی بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔ انوج سوروپ نے کہا کہ اس طرح من مانے انداز میں رپورٹیں تیار کرنا ہی ان وجوہات میں سے ایک ہے جن کے باعث اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو پُرامن اجتماع، تنظیم سازی اور اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے۔ ان حقوق کا تحفظ آزاد عدلیہ، آزاد پریس اور قومی انسانی حقوق کمیشن کرتے ہیں۔ ہندوستان نے رپورٹ میں نوجوانوں کی ’’طنزیہ سیاسی تحریک‘‘ کا ذکر کیے جانے کو بھی ایک تضاد قرار دیا۔ سوروپ نے سوال کیا، ’’ایسا کون سا جابرانہ ملک ہوگا جہاں نوجوانوں کی ایک طنزیہ سیاسی جماعت حکومت سے سوال کرتی ہو، قومی راجدھانی میں مارچ نکالتی ہو اور پھر ملک کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت بھی کرتی ہو؟‘
‘ انہوں نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جو انہوں نے گزشتہ ماہ انسانی حقوق کونسل میں ہندوستان میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے تناظر میں دیا تھا۔ ہائی کمشنر نے کہا تھا کہ نوجوان رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کرنا کہیں زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ سوروپ نے کہا، ’’شاید یہ بات خصوصی نمائندہ کے علم میں نہیں آئی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ رواں سال موسمِ گرما میں جب طلبہ نے داخلہ امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کیا تو حکومت نے نوجوانوں کے ساتھ مثبت انداز میں بات چیت کی۔
ان کے مطابق، چند ہی ہفتوں کے اندر ہندوستانی پارلیمنٹ نے پبلک ایگزامینیشن ایکٹ میں ترمیم کرکے سوالیہ پرچوں کے افشا ہونے کے معاملات میں سزا دوگنی کردی۔ اس کے علاوہ امتحانی نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کی گئیں اور امتحانات میں دھوکہ دہی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات کی تیز رفتار سماعت کے لیے ہر ریاست میں خصوصی عدالتیں قائم کی گئیں۔ سوروپ نے کہا، ’’یہ اس بات کا حقیقی ثبوت ہے کہ جمہوریت کس طرح کام کرتی ہے۔ نوجوان ہماری طاقت اور ہمارا مشترکہ مستقبل ہیں۔‘‘ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا کہ نوجوانوں کی صلاحیت ہندوستان کی طاقت بنے گی اور ان کی کامیابی ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچائے گی۔
سوروپ کے مطابق، اس سال 50 لاکھ سے زیادہ نوجوانوں نے ’وکست بھارت یوا نیتا سنواد‘ میں حصہ لیا اور وزیر اعظم کے ساتھ براہِ راست بات چیت کرکے قومی ترجیحات طے کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کئی مرکزی وزرا ملک کے نوجوانوں کے ساتھ براہِ راست ملاقاتوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔