فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ گندم کے معیار کو متاثر کر سکتا ہے: تحقیق

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 19-10-2026
فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ گندم کے معیار کو متاثر کر سکتا ہے: تحقیق
فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ گندم کے معیار کو متاثر کر سکتا ہے: تحقیق

 



نئی دہلی: فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار گندم میں پروٹین کی ساخت کو نمایاں طور پر تبدیل کر سکتی ہے، جس سے نہ صرف روٹی اور دیگر بیکری مصنوعات کا معیار متاثر ہوگا بلکہ گندم سے بنی اشیا کو برداشت کرنے کی انسانی صلاحیت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ جرنل فوڈ کیمسٹری میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں گندم کی اقسام تیار کرتے وقت صرف زیادہ پیداوار پر توجہ دینا کافی نہیں، بلکہ پروٹین کی ساخت اور غذائی معیار جیسی خصوصیات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

جرمنی کی ٹیکنیکل یونیورسٹی آف میونخ سے وابستہ لائبنز انسٹی ٹیوٹ فار فوڈ سسٹمز بایولوجی کے محققین کی قیادت میں کی گئی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ عالمی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) کی مقدار 1980 میں 340 پارٹس پر ملین (پی پی ایم) سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 425 پی پی ایم ہو گئی ہے۔ محققین کے مطابق، گندم دنیا کی اہم ترین غذائی فصلوں میں شامل ہے اور مستقبل میں اسے کہیں زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ والی فضا میں اگنا پڑے گا۔ اندازہ ہے کہ 2050 تک اس کی مقدار 600 پی پی ایم تک پہنچ سکتی ہے۔ تحقیق کے دوران ٹیم نے موسمِ سرما میں کاشت کی جانے والی گندم کی دس اقسام کو حقیقی کاشت اور ماحولیاتی حالات سے ملتے جلتے ماحول میں اگایا۔

ان میں سے بعض پودوں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کی 546 پی پی ایم مقدار میں رکھا گیا، جبکہ دیگر کو موجودہ ماحولیاتی حالات کے مطابق اگایا گیا۔ فصل کی کٹائی کے بعد محققین نے گندم کے مختلف نمونوں میں پروٹین کی ساخت کا تجزیہ کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک اعلیٰ ریزولیوشن ماس اسپیکٹرومیٹری طریقہ استعمال کیا، جسے ٹیم نے خود تیار کیا تھا۔ تحقیق میں بالخصوص امائلیز/ٹرپسن انہیبیٹرز، پیورو اِنڈولینز، گلوٹن پروٹینز اور سیلیک بیماری سے متعلق ردعمل پیدا کرنے والے پیپٹائڈز کا جائزہ لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیادہ مقدار میں اگائی گئی گندم میں امائلیز/ٹرپسن انہیبیٹرز (اے ٹی آئیز) کی مقدار مجموعی طور پر بڑھ گئی، جبکہ پیورو اِنڈولینز، گلوٹن پروٹینز اور سیلیک بیماری سے متعلق بعض پیپٹائڈز کی مقدار میں کمی آئی۔ یہ پیپٹائڈز ہاضمے کے دوران گلوٹن پروٹینز سے بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ محققین کے مطابق، اے ٹی آئیز کی بڑھتی ہوئی مقدار انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ تحقیق کی سربراہ اور لائبنز انسٹی ٹیوٹ کی ریسرچ ایسوسی ایٹ سبینا گائس لٹز نے کہا، ’’تاہم، ان تبدیلیوں کی شدت کا انحصار بڑی حد تک گندم کی مخصوص قسم پر تھا۔‘‘

گائس لٹز کے مطابق، تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ گلوٹن پروٹینز کی مقدار میں کمی کا تعلق بیکری مصنوعات کے خراب معیار سے تھا۔ لائبنز انسٹی ٹیوٹ میں فوڈ بایوپولیمر کیمسٹری ریسرچ گروپ کی سربراہ اور ٹی یو ایم اسکول آف لائف سائنسز میں فوڈ بایوپولیمر سسٹمز کی پروفیسر کیتھرینا شیرف نے کہا کہ امائلیز/ٹرپسن انہیبیٹرز اور سیلیک بیماری سے متعلق بعض پیپٹائڈز میں دیکھی گئی تبدیلیاں طویل مدت میں گندم سے متعلق بیماریوں کے حوالے سے بھی اہم ہو سکتی ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ان تبدیلیوں کی حقیقی حیاتیاتی اور مدافعتی اہمیت کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

محققین کے مطابق، اس مطالعے کے نتائج اس بات کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ گندم کی ایسی کاشت شدہ اقسام کی شناخت اور افزائش کی جائے جو فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار کے باوجود بیکری مصنوعات کا اچھا معیار برقرار رکھ سکیں اور ان میں ایسے پروٹینز کی مقدار کم ہو جو بعض افراد کے لیے ناقابل برداشت ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے مصنفین نے لکھا، ’’فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار گندم میں پروٹین کی ساخت کو تبدیل کر سکتی ہے اور اس طرح دانے کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ نتائج ایسی گندم کی اقسام کی شناخت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں جن میں اے ٹی آئیز اور سیلیک بیماری سے متعلق ردعمل پیدا کرنے والے پیپٹائڈز کی مقدار کم ہو، جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی سطح کے باوجود ان کی بیکری مصنوعات کا معیار اچھا رہے۔