عمران خان کے بیٹے کی وارننگ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
عمران خان کے بیٹے کی وارننگ
عمران خان کے بیٹے کی وارننگ

 



اسلام آباد۔: پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے 27 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران اڈیالہ جیل کی جانب مارچ کرنے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیل کے قریب احتجاج یا مارچ کو پاکستانی حکام جیل پر جوابی کارروائی کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں جس سے ان کے والد کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

قاسم خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ انہیں عوام سے اپیل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 27 ستمبر کو اڈیالہ جیل کے قریب مارچ یا احتجاج کی کوشش نہ کریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس موقع کو جیل پر جوابی حملے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔یہ اپیل پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج اور مارچ سے قبل سامنے آئی ہے۔ پی ٹی آئی نے یہ احتجاج عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے اعلان کیا ہے۔ عمران خان اگست 2023 سے مختلف مقدمات میں سزا کے بعد جیل میں ہیں۔ 

پنجاب میں سکیورٹی سخت

احتجاج سے قبل پنجاب میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ پنجاب حکومت نے مختلف علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے راولپنڈی۔ اٹک۔ جہلم اور میانوالی میں 22 ستمبر سے 5 اکتوبر تک پاکستان رینجرز کی تعیناتی کی درخواست بھی کی ہے۔ اسلام آباد میں بھی دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو غیر قانونی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ 

عمران خان کی بہنیں بھی حراست میں

احتجاج سے قبل عمران خان کی 3 بہنوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔ علیمہ خان کو 20 ستمبر کو 30 دن کے لیے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ اس کے ایک روز بعد ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیاز کو بھی 30 دن کے لیے حراست میں لیا گیا۔24 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے عظمیٰ خان اور نورین نیاز کی حراست کے احکامات فوری طور پر معطل کرنے کی درخواست مسترد کردی تاہم عدالت نے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرکے ان سے جواب طلب کیا۔ (دریں اثنا راولپنڈی ڈویژن میں 25 ستمبر کو 150 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماؤں کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت حراست میں لیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ انہیں مختلف جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری بتایا گیا ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ یہ حفاظتی اقدامات امن و امان اور سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی ان کارروائیوں کو اپنے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن قرار دے رہی ہے۔ 27 ستمبر کا احتجاج ایسے وقت میں ہونے جا رہا ہے جب عمران خان کی مسلسل گرفتاری اور پارٹی کارکنوں کی گرفتاریوں کے باعث پاکستان میں سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔