نیویارک:ہندوستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی تقریر پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن کی فرسٹ سیکریٹری پائل گہلوت نے پاکستان کے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کے عزم کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی دہشت گردی کے نتائج ہوں گے۔ انہوں نے ہندوستان اور جموں و کشمیر سے متعلق پاکستان کے دعووں کو بھی سختی سے مسترد کردیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پائل گہلوت نے کہا کہ آج دوپہر جنرل اسمبلی نے پاکستان کے نمائندے کی جانب سے کچھ عجیب و غریب باتیں سنیں۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب نیویارک شہر اور پوری دنیا نے خوفناک 9/11 دہشت گرد حملے کی 25 ویں برسی منائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پس منظر کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کیونکہ 9/11 حملے کا ماسٹر مائنڈ اسامہ بن لادن پاکستانی فوج کی سب سے اہم اکیڈمی کے بالکل قریب رہ رہا تھا۔ یہ وہی ادارہ ہے جس کے سامنے آج پاکستان کے نمائندے نے انتہائی عقیدت کا مظاہرہ کیا۔ تاہم پاکستان میں خود جس حکومت کو فارم 47 کی حکومت کہا جاتا ہے اس سے اس طرح کی باتوں کی توقع ہی کی جاسکتی ہے۔
پائل گہلوت نے جنرل اسمبلی میں شہباز شریف کی تقریر کو پرانے اور تھکے ہوئے بیانیے سے تعبیر کرتے ہوئے ان کی حکومت کو فوج کی کٹھ پتلی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک ایسی حکومت کی جانب سے جمہوری حقوق اور انسانی اقدار پر منافقانہ وعظ سنا جس کا دارالحکومت اس وقت اپنے ہی عوام کے خلاف مضبوط حفاظتی حصار میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسی حکومت ہے جو فوج کی ہے۔ فوج کے ذریعے چلائی جاتی ہے اور فوج کے لیے ہے۔ اس کے کٹھ پتلی آتے جاتے رہ سکتے ہیں لیکن اس حقیقت میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ اصل فیصلے کون کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی حقیقت اس کی 27 ویں آئینی ترمیم اور اس کے اصل حکمران کو حاصل تاحیات استثنیٰ سے ظاہر ہوتی ہے۔
ہندوستانی سفارت کار نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے خیالات ان لوگوں کی طرف سے آتے ہیں جن کا تعصب اور نفرت کا ایک طویل ریکارڈ ہے۔ وہ دن میں سلامتی کی بات کرتے ہیں لیکن رات میں دہشت گردی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی کو مذہبی عدم برداشت پر بھی ایسے نظام کی جانب سے لیکچر دیا گیا جس کی بنیاد ہی توہین مذہب کے قوانین پر قائم ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔ کوئی بھی مقدس اور خوش نما بات دنیا کو گمراہ نہیں کرسکتی۔
شہباز شریف نے جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران جموں و کشمیر کا معاملہ بھی اٹھایا تھا۔ ہندوستان نے جواب دینے کے اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مبینہ مظالم کا حوالہ دیا اور واضح کیا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ ہے۔
پائل گہلوت نے کہا کہ ہندوستانی یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ میرے ملک کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ لیکن اگر ہمیں کشمیر کی بات کرنی ہی ہے تو پھر پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ راولاکوٹ کے لوگوں سے پوچھیں کہ وہ طویل عرصے سے بے دریغ قتل۔ وحشیانہ تشدد اور بنیادی حقوق سے محرومی کا سامنا کیسے کر رہے ہیں۔
سرحد پار دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے پائل گہلوت نے کہا کہ ہندوستان اس کے نتائج بھگت چکا ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے اپنے عزم کا مظاہرہ بھی کرچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف اس حق کا استعمال جاری رکھے گا۔
انہوں نے پاکستان پر دہشت گردی کے معاملے میں دوہرے معیار کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کی مثال حال ہی میں اس وقت سامنے آئی جب ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوشش میں پاکستان نے جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو اپنی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
پائل گہلوت نے جنرل اسمبلی سے کہا کہ اس معاملے کی بنیاد پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کا طویل عرصے سے جاری عمل ہے۔ ہم نے گزشتہ سال ثابت کردیا کہ دہشت گردوں کے لیے کہیں بھاگنے اور چھپنے کی جگہ نہیں ہوگی۔ دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کا ہمارا حق استعمال کیا جائے گا اور جاری رہے گا۔ پاکستان کی دہشت گردی کے نتائج ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ جنرل اسمبلی پاکستان اور اس کی پالیسیوں کو ان کی اصل حقیقت کے مطابق دیکھے گی نہ کہ اس انداز میں جس طرح پاکستان کا نمائندہ انہیں جھوٹے انداز میں پیش کرتا ہے۔ سال بہ سال جھوٹ دہرانے سے وہ سچ نہیں بن جاتا۔ پاکستان کی دہشت گردی۔ دھوکہ دہی اور دوغلا پن نہ تو پاکستان کو فائدہ پہنچائے گا اور نہ ہی دنیا کو۔
ہندوستان کا یہ سخت جواب شہباز شریف کی جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی تقریر کے پرانے بیانیے پر براہ راست حملہ تھا۔ سندھ طاس معاہدے اور آپریشن سندور پر پاکستان کے دعووں کے باوجود ہندوستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف اس کا موقف تبدیل نہیں ہوگا۔