سعودی شہری دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ میزائلوں کو ان کے اہداف کی جانب بڑھتے ہوئے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
میزائلوں کے کچھ ٹکڑے وادی المغمس میں گرے جو اسلام کے مقدس ترین مقام مسجد الحرام سے صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ترجمان کے مطابق میزائلوں کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد ان کا ملبہ جدہ کے محلہ النزہہ اور طائف کی وادی جلیل کے علاوہ رابغ گورنریٹ کے علاقے مستورہ میں بھی گرا۔
بیان میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی املاک کو پہنچنے والے نقصان کی مزید تفصیلات فراہم کی گئیں۔
یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کرنے والی اتحادی افواج نے ہفتے کے روز اس سے قبل بتایا تھا کہ انہوں نے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض اور طائف اور ینبع کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا ہے۔ اتحادی افواج کے مطابق ہفتے کی صبح مشرقی صوبے کی فضائی حدود میں ایک بغیر پائلٹ کے طیارے کو بھی تباہ کر دیا گیا۔
حوثیوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب کے خلاف اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات اور شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے اسلام کے دو اہم ترین مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی جانب بھی حملے کیے ہیں۔
سعودی عرب کی مجلس ہیئت کبار العلماء نے گزشتہ ہفتے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں مسلمانوں کے خلاف جارحیت کی ایک سنگین کارروائی قرار دیا تھا۔
ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کا سعودی عرب کے خلاف سب سے مہلک حملہ 10 اکتوبر کو ہوا تھا جب انہوں نے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔