ریاض: سعودی حکام کے مطابق یمن میں سرگرم حوثی ملیشیا کے حملوں میں سعودی عرب کے 13 شہری زخمی ہوئے ہیں۔ حملوں کے بعد منگل کی صبح مملکت کے مغربی اور جنوبی علاقوں کے متعدد شہروں میں حفاظتی الرٹس جاری کیے گئے تاہم بعد میں خطرہ ٹلنے پر انہیں واپس لے لیا گیا۔
عرب نیوز کے مطابق حوثی گروپ نے پیر کے روز خمیس مشیط اور ابہا سمیت طائف کے شہری علاقوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔ سعودی حکام کے مطابق حملوں میں شہری علاقوں کو نقصان پہنچا اور کئی افراد زخمی ہوئے۔یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے منگل کی صبح سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ حملوں کے نتیجے میں 13 شہری معمولی سے درمیانے درجے کے زخمی ہوئے۔ ان حملوں میں 7 مکانات اور 2 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
سعودی سول ڈیفنس نے صورتحال کے پیش نظر ابہا اور جدہ کے علاوہ جازان طائف ینبع اور العلا سمیت کئی شہروں کے لیے حفاظتی الرٹس جاری کیے۔ حکام نے شہریوں کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت کی۔سعودی حکام نے حوثی ملیشیا پر شہریوں اور شہری تنصیبات کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حملے شہری آبادی کے لیے خطرہ ہیں۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بھی واضح کیا کہ اس کی مشترکہ افواج مملکت کی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے حملوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ جاری رکھیں گی۔
تاہم منگل کی صبح سعودی سول ڈیفنس نے ایک تازہ بیان میں بتایا کہ مختلف شہروں میں جاری کیے گئے الرٹس واپس لے لیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق صورتحال قابو میں ہے اور فوری خطرہ ٹل چکا ہے۔یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب میں حوثی حملوں کا سلسلہ دوبارہ توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی حوثی ملیشیا کے ایک حملے میں سعودی عرب کے مختلف شہروں اور قصبوں میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
اس سے قبل جمعہ کو ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں متعدد ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا۔پائپ لائن پر حملے کے بعد خلیجی اور مسلم تنظیموں نے اس واقعے کی مذمت کی تھی اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے عمل کو تشویش ناک قرار دیا تھا۔