عدن، یمن: ایران کی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے جنوب مغربی یمن میں مزید علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ حوثیوں نے ایک اہم قصبے تربہ پر قبضہ کرکے سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ باغی اب خطے کے ایک اہم صوبائی دارالحکومت کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔ تربہ پر قبضہ اتوار کو ہوا، اس سے کچھ ہی دیر پہلے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کیا تھا۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے یمن میں چار سال سے جاری جنگ بندی کے بعد ایک بار پھر خانہ جنگی کو بھڑکا دیا ہے۔
تربہ ایک اہم شاہراہ پر واقع ہے جو صوبائی دارالحکومت تعز کو بندرگاہی شہر عدن سے ملاتی ہے۔ عدن اس وقت بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا عبوری مرکز ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے تربہ حکومتی فورسز کے لیے ایک اہم فوجی اڈہ رہا ہے، جہاں سے وہ یمن کے تیسرے سب سے بڑے شہر تعز کو حوثیوں سے بچانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ اس سے پہلے حوثی باغیوں نے تعز کے مضافات میں کئی دیہات اور علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ ان مسلسل پیش قدمیوں سے باغیوں کے لیے تعز کا محاصرہ کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے ستمبر کے آغاز میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں بھی تیزی سے پیش قدمی کی۔
انہوں نے اہم شہر المخا اور بحیرہ احمر کے کئی جزیروں پر قبضہ کرلیا۔ ان کامیابیوں کے بعد انہیں باب المندب آبنائے کے یمنی حصے پر کنٹرول حاصل ہوگیا، جو عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے اور جہاں سے دنیا کی تقریباً 12 فیصد تجارت گزرتی ہے۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں فوجی دستے متحرک کر رہی ہے۔ صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوجی کارروائی کا مقصد حوثیوں کے قبضے میں موجود ’’باقی علاقوں کو واپس حاصل کرنا‘‘ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپنی حکومت کی حمایت کرنے کی اپیل بھی کی۔
العلیمی کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سعودی فوج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے یمنی حکومتی فورسز کو ’’مکمل فوجی مدد‘‘ فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعاون اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حوثیوں کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔ المالکی نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کو باغیوں کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔ حوثی گزشتہ تقریباً تین ماہ سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں یمن میں چار سالہ جنگ بندی کے بعد ایک بار پھر بڑے پیمانے پر لڑائی شروع ہوگئی ہے۔
موجودہ کشیدگی کا آغاز جولائی کے وسط میں ہوا، جب حوثیوں نے سعودی عرب پر الزام لگایا کہ اس نے یمن کے باغیوں کے زیر قبضہ دارالحکومت صنعا کے ہوائی اڈے پر بمباری کی تاکہ ایک غیر مجاز ایرانی پرواز کو وہاں اترنے سے روکا جا سکے۔ اس کے جواب میں حوثیوں نے سعودی عرب اور یمنی حکومتی فورسز کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے شروع کردیے۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں کی ناکہ بندی کا بھی اعلان کیا اور سعودی عرب سے منسلک کئی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔ ستمبر میں باغیوں نے اپنی کارروائی مزید تیز کردی اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے کئی برسوں میں یمن کے اندر سب سے بڑی علاقائی پیش قدمی کی۔
واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک ’’انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار‘‘ کے مطابق تربہ پر حوثیوں کا قبضہ تعز صوبے اور صوبائی دارالحکومت تعز میں موجود یمنی حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز کے لیے محاذ پر موجود دستوں تک کمک اور رسد پہنچانے کی صلاحیت کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ تھنک ٹینک نے اپنی اتوار کی تجزیاتی رپورٹ میں کہا کہ رسد کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا فوجی اعتبار سے اہم ہے، لیکن تربہ کے شمال میں واقع علاقوں سے آنے اور جانے والی تمام سڑکوں پر کنٹرول حاصل کرنے سے حکومتی فورسز کے لیے شہر سے پیچھے ہٹنے کا راستہ بھی بند ہوجاتا ہے۔
تازہ کشیدگی نے یمن کی اس خانہ جنگی کو دوبارہ بھڑکا دیا ہے جو 2014 میں شروع ہوئی تھی۔ اس وقت حوثی اپنے شمالی مضبوط گڑھ سے نکل کر صنعا میں داخل ہوئے، دارالحکومت پر قبضہ کرلیا اور یمنی حکومت کو سعودی عرب میں جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔ یمن کی جنگ دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس جنگ میں اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور لاکھوں لوگ بدترین انسانی مشکلات کا شکار ہوئے ہیں۔