امریکہ میں عالمی سمپوزیم : کشمیر سے کنیاکماری تک ہندوستان کا تنوع ہماری طاقت ہے۔ سلمان چشتی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 13-10-2026
امریکہ میں عالمی سمپوزیم : کشمیر سے کنیاکماری تک ہندوستان کا تنوع ہماری طاقت ہے۔ سلمان چشتی
امریکہ میں عالمی سمپوزیم : کشمیر سے کنیاکماری تک ہندوستان کا تنوع ہماری طاقت ہے۔ سلمان چشتی

 



پرووو: یوٹا۔ امریکہ 

’’ہندوستان کا مذہبی تنوع دنیا کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے اور ہمیں اپنے ملک میں بھی اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اگر ہم محبت اور ہم آہنگی کے اس جذبے کو اپنے قوانین۔ تعلیمی اداروں اور سماجی زندگی کا حصہ بنا لیں تو مذہبی اقلیتوں کو صرف تحفظ ہی نہیں ملے گا بلکہ انہیں اپنائیت کا احساس بھی ہوگا۔‘‘

یہ بات اجمیر شریف درگاہ کے 26ویں نسل کے گدی نشین حاجی سید سلمان چشتی نے امریکہ کی برِگھم ینگ یونیورسٹی میں منعقدہ 33ویں بین الاقوامی سمپوزیم برائے قانون اور مذہب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے اس عالمی اجتماع میں اجمیر شریف اور ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک کی مشترکہ ثقافت۔ مذہبی تنوع اور بین المذاہب ہم آہنگی کی روایت کو اجاگر کیا

اس عالمی سمپوزیم میں دنیا بھر سے وزرا۔ سفرا۔ اقوام متحدہ کے عہدیداروں۔ قانون دانوں۔ محققین اور مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ ہندوستان کی جانب سے حاجی سید سلمان چشتی بھی ان نمایاں شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے مذہبی آزادی اور بین المذاہب تعلقات کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔

حاجی سید سلمان چشتی نے سمپوزیم کی افتتاحی دعا کرائی اور تمام مذاہب اور قوموں کے درمیان امن۔ وقار اور ہم آہنگی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے ’’ہندوستان میں مذہبی اقلیتیں۔ تجربات اور نقطہ نظر‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پینل مباحثے میں بھی شرکت کی۔ اس نشست کی نظامت انٹرنیشنل سینٹر فار لا اینڈ ریلیجن اسٹڈیز کے بانی ڈائریکٹر پروفیسر ڈبلیو کول ڈرہم جونیئر نے کی۔ اس پینل میں ان کے ساتھ ڈایوسیز آف وسائی کے آرچ بشپ فیلکس ماچاڈو اور آل کرناٹک یونائیٹڈ کرسچن فورم فار ہیومن رائٹس کے پیریچو پیٹر پربھو رنگاراج بھی شریک تھے۔

اپنے خطاب میں حاجی سید سلمان چشتی نے اجمیر شریف کو ہندوستان کے مذہبی تنوع اور مشترکہ ثقافت کی ایک زندہ مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ صدیوں سے زیادہ عرصے سے ہندو۔ مسلمان۔ سکھ۔ عیسائی۔ جین اور بدھ مت کے پیروکار حضرت خواجہ معین الدین چشتی غریب نوازؒ کی درگاہ پر حاضری دیتے آئے ہیں اور وہاں سب کے لیے پیش کیے جانے والے سبزی خور لنگر میں شریک ہوتے ہیں۔انہوں نے ہندوستانی آئین کو ہر مذہب کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر سے کنیاکماری تک پھیلا ہوا ہندوستان کا تنوع پوری دنیا کے لیے ایک تحفہ ہے۔

اہم پیغامات

حاجی سید سلمان چشتی نے کہا کہ ہندوستان کا مذہبی تنوع ان عظیم تحفوں میں سے ایک ہے جو ہم دنیا کو دے سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی میراث ہے جسے ہمیں اپنے ملک میں بھی محفوظ رکھنا۔ اس کا تحفظ کرنا اور اسے مزید مضبوط بنانا چاہیے۔انہوں نے اجمیر شریف کی مثال دیتے ہوئے ہ کہ وہاں ایک ہندو زائر۔ ایک سکھ سیوادار۔ ایک عیسائی طالب حق اور ایک مسلمان عقیدت مند ایک ہی لنگر میں شریک ہوسکتے ہیں۔ یہی ہندوستان کی وہ تصویر ہے جہاں ہر مذہب کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔ خدمت کرتے ہیں اور خوشیاں بانٹتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم اسی جذبے کو اپنے قوانین۔ تعلیمی اداروں اور عوامی زندگی کا حصہ بنا لیں تو دنیا بھر کی مذہبی اقلیتوں کو صرف تحفظ ہی نہیں ملے گا بلکہ انہیں معاشرے میں اپنائیت اور شمولیت کا احساس بھی حاصل ہوگا۔

ان کا پیغام تھا۔سب کے لیے محبت۔ کسی سے عداوت نہیں۔حاجی سید سلمان چشتی نے سمپوزیم میں ہر ضلع میں بین المذاہب کونسلوں کے قیام کی تجویز بھی پیش کی تاکہ یہ کونسلیں افواہوں اور نفرت کے خلاف فوری طور پر کام کرسکیں۔ انہوں نے تعلیمی نصاب میں مشترکہ ثقافتی ورثے کو جگہ دینے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ذمہ دارانہ بنانے اور برِگھم ینگ یونیورسٹی جیسے عالمی اداروں کو مقامی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

چرچ آف جیزس کرائسٹ کے صدر سے ملاقات

امریکہ کے دورے کے دوران حاجی سید سلمان چشتی نے چرچ آف جیزس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس کے صدر ڈیلن ایچ اوکس سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے اجمیر شریف کی جانب سے نیک خواہشات اور دعاؤں کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے حضرت خواجہ غریب نوازؒ کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انسانیت کی خدمت۔ محبت اور امن کے عالمگیر پیغام کو بھی اجاگر کیا۔حاجی سید سلمان چشتی نے یوٹاہ میں مقیم ہندوستانی برادری کے افراد سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے امریکی معاشرے میں ان کی خدمات اور ہندوستان کے ثقافتی سفیروں کے طور پر ان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے ہندوستانی برادری پر زور دیا کہ وہ اتحاد میں تنوع۔ خدمت اور مذہبی ہم آہنگی کی اقدار کو زندہ رکھیں۔

برِگھم ینگ یونیورسٹی کی میزبانی کی ستائش

حاجی سید سلمان چشتی نے برِگھم ینگ یونیورسٹی کے صدر سی شین ریز۔ جے روبن کلارک لا اسکول کے ڈین ڈیوڈ ایچ مور۔ انٹرنیشنل سینٹر فار لا اینڈ ریلیجن اسٹڈیز کے ڈائریکٹر پروفیسر بریٹ جی شیرفس۔ پروگرام چیئر پروفیسر الزبتھ اے کلارک۔ پروفیسر ڈبلیو کول ڈرہم جونیئر اور ان کی پوری ٹیم کا پرتپاک استقبال اور بہترین میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے یونیورسٹی کے طالب علم سفیروں کی خصوصی طور پر تعریف کی جنہوں نے اپنی خوش اخلاقی۔ لگن اور باریک بینی سے وفود کے ارکان کو گھر جیسا ماحول فراہم کیا۔ان کے مطابق برِگھم ینگ یونیورسٹی میں نظر آنے والا خدمت کا جذبہ اسی خدمت کی عکاسی کرتا ہے جس کی تعلیم اجمیر شریف گزشتہ آٹھ صدیوں سے دیتا آرہا ہے۔