جنیوا :اقوام متحدہ کے دفتر میں پاکستان میں سرگرم عسکری تنظیموں اور دہشت گردی پر بحث

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 03-10-2026
جنیوا :اقوام متحدہ کے دفتر میں پاکستان میں سرگرم عسکری تنظیموں اور دہشت گردی پر بحث
جنیوا :اقوام متحدہ کے دفتر میں پاکستان میں سرگرم عسکری تنظیموں اور دہشت گردی پر بحث

 



جنیوا۔جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں منعقدہ ایک سائیڈ ایونٹ میں پاکستان سے متعلق دہشت گردی کے معاملات اور خطے میں سرگرم عسکری تنظیموں کے ساتھ ساتھ مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور پاکستان کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔’’فائٹ اگینسٹ ٹیررازم اینڈ ہیومن رائٹس‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس پروگرام کا اہتمام انٹرفیتھ انٹرنیشنل نے کیا تھا۔ پروگرام کی نظامت انٹرفیتھ انٹرنیشنل کے سیکریٹری جنرل بیرو دیاوارا نے کی۔ اس میں قبرص ویتنام بلجیم اور تنزانیہ سمیت مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پینل میں یونانی پارلیمنٹ کے رکن جارجیوس مانوس۔ ای یو ٹوڈے کے صحافی اور ایڈیٹر گیری کارٹ رائٹ۔ پیرس میں آئیڈیل انٹرنیشنل کے صدر اسٹیفن میشو اور ہمالیائی ریسرچ اینڈ کلچرل فاؤنڈیشن کے سیکریٹری جنرل پروفیسر کے واری کو شامل تھے۔ عراق کی نیشنل وِزڈم موومنٹ کے سربراہ اور الحکیم فاؤنڈیشن کے صدر و بانی سید عمار الحکیم نے ویڈیو کے ذریعے پروگرام سے خطاب کیا۔

پروگرام کے افتتاحی خطاب میں بیرو دیاوارا نے کہا کہ اس تقریب کا مقصد دہشت گردی کے متاثرین کو یاد کرنا۔ دہشت گردی سے متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کی تکالیف کو تسلیم کرنا اور دہشت گردانہ تشدد سے متاثرہ لوگوں کے وقار کو بحال کرنا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سول سوسائٹی کی ذمہ داری پر بھی زور دیا۔سید عمار الحکیم نے اپنے آن لائن خطاب میں عراق میں دہشت گردی کے متاثرین اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر گفتگو کی۔

گیری کارٹ رائٹ نے دہشت گردی سے متعلق اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان۔ دہشت گردی اور یورپ کے درمیان تعلقات پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی انسانی قیمت بہت زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کا نقصان۔ خاندانوں کی مشکلات اور اقلیتی برادریوں سمیت مختلف معاشروں پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کارٹ رائٹ نے کہا کہ جب دہشت گرد نیٹ ورکس کو بھرتی کرنے۔ فنڈز جمع کرنے اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع ملتا ہے تو ان کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والا عدم استحکام قومی سرحدوں سے باہر تک پھیل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خود بھی دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور تحریک طالبان پاکستان سمیت دیگر عسکری تنظیموں سے منسوب حملوں کا سامنا کر چکا ہے۔

انہوں نے پاکستان کی سرزمین سے سرگرم بعض گروہوں اور پاکستان سے باہر ہونے والے حملوں سے ان کے مبینہ روابط پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیموں کا ذکر کیا اور دہشت گردی کے بین الاقوامی اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے 2008 کے ممبئی حملوں کا حوالہ دیا۔

کارٹ رائٹ نے پاکستان کے مذہبی مدارس کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے 2025 میں یورپی کمیشن کے ایک جواب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں یورپی یونین کی حمایت یافتہ تعلیمی پروگراموں میں مذہبی مدارس کے طلبہ بھی شامل تھے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی گفتگو کا مقصد مذہبی تعلیم کی مخالفت کرنا یا تمام مدارس کو انتہا پسندی سے جوڑنا نہیں ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یورپی فنڈز کے استعمال کے بارے میں زیادہ شفافیت ضروری ہے۔ اس میں یہ جاننا بھی شامل ہے کہ فنڈز کہاں خرچ ہوتے ہیں۔ انہیں کون چلاتا ہے۔ وہاں کیا تعلیم دی جاتی ہے اور انتہا پسندانہ بھرتیوں کو روکنے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔

کارٹ رائٹ نے پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے حاصل جی ایس پی پلس تجارتی سہولت پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا پاکستان کی جانب سے متعلقہ بین الاقوامی وعدوں اور دہشت گردی کے خلاف ذمہ داریوں کی پاسداری کا سنجیدہ جائزہ لیے بغیر اس سہولت کو اسی شکل میں جاری رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے اس جائزے تک جی ایس پی پلس تجارتی سہولت معطل کرنے کی اپیل کی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد پاکستانی عوام کو سزا دینا نہیں بلکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنانا ہے۔

پروفیسر کے واری کو کا بیان بھی تقریب میں پڑھ کر سنایا گیا جس میں جموں و کشمیر میں پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردی کے معاملے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردی سے متاثر ہوئے ہیں۔ بیان میں گزشتہ 15 برس کے دوران جموں و کشمیر میں آنے والی تبدیلیوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔پروفیسر واری کو نے اقوام متحدہ سے دہشت گردی کے خلاف واضح موقف اختیار کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے بینک کھاتوں کے علاوہ دہشت گردی کی معاونت یا مالی مدد کرنے والوں کے کھاتوں کو بھی ضبط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف مربوط بین الاقوامی کارروائی کو ضروری قرار دیا۔

یونانی پارلیمنٹ کے رکن جارجیوس مانوس نے دہشت گردی۔ مذہبی آزادی اور پاکستان میں اقلیتوں کی صورتحال پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو صرف دہشت گردی سے متاثر ہونے والے ملک کے طور پر نہیں بلکہ ایسے ملک کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے جہاں سے بعض عسکری تنظیمیں سرگرم رہی ہیں۔مانوس نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کے طور پر نامزد گروہوں کا حوالہ دیا اور پاکستان میں موجود عسکری گروہوں اور ہندوستان میں ہونے والے حملوں کے درمیان مبینہ روابط پر بات کی۔ اپریل 2025 میں جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اس حملے کو پاکستان میں سرگرم تنظیموں سے جوڑا ہے۔

انہوں نے 2008 کے ممبئی حملوں سمیت ماضی کے بعض حملوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں عسکری سرگرمیوں کے اثرات وسیع علاقائی اور بین الاقوامی سطح تک پہنچتے ہیں۔مانوس نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں بالخصوص عیسائی برادری کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کے توہین مذہب قوانین کے استعمال اور اقلیتی خواتین و لڑکیوں کے خلاف مبینہ تشدد۔ جبری تبدیلی مذہب اور اغوا کے واقعات کا حوالہ دیا۔

انہوں نے اگست 2023 میں جڑانوالہ میں ہونے والے واقعات کا بھی ذکر کیا جہاں گرجا گھروں اور عیسائیوں کے گھروں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ انہوں نے ایسے واقعات میں احتساب سے متعلق خدشات کو بھی اجاگر کیا۔مانوس نے پاکستان سے باہر انتہا پسندانہ نظریات کے پھیلاؤ پر بھی تشویش ظاہر کی اور یورپ کے مختلف ممالک میں پاکستانی شہریوں سے متعلق بعض واقعات کا حوالہ دیا۔

انہوں نے دہشت گردی۔ مذہبی ظلم و ستم اور جبری تبدیلی مذہب کے خلاف زیادہ مضبوط کارروائی پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک کو مذہبی آزادی کا تحفظ کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ انتہا پسندانہ تشدد اور عدم برداشت جمہوری اور انسانی حقوق کے اصولوں کو متاثر نہ کریں۔تقریب میں ہونے والی گفتگو کا مرکز دہشت گردی اور انتہا پسند نیٹ ورکس کے روابط۔ انسانی حقوق۔ مذہبی اقلیتوں کا تحفظ۔ دہشت گردی کی مالی معاونت اور پاکستان کے یورپ کے ساتھ تعلقات رہے۔ مقررین نے دہشت گردی کے خلاف زیادہ جواب دہی اور مربوط بین الاقوامی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔