نئی دہلی: جاپان کے سابق وزیر اعظم یاسوؤ فوکودا کا 90 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ حکام نے پیر کے روز ان کے انتقال کی اطلاع دی۔ فوکودا صرف ایک سال تک جاپان کے وزیر اعظم رہے، لیکن اس کے بعد بھی انہوں نے کئی برس تک چین کے ساتھ جاپان کے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھیں۔
حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے بتایا کہ فوکودا کا انتقال گزشتہ جمعرات کو ہوا۔ تاہم، پارٹی نے ان کی موت کی وجہ سمیت دیگر تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ 1936 میں پیدا ہونے والے فوکودا نے اپنا بچپن ٹوکیو کے شمال مغرب میں واقع گنما علاقے میں ایک سیاسی خاندان میں گزارا۔ ان کے والد تاکیو فوکودا بھی جاپان کے وزیر اعظم رہ چکے تھے۔ انہوں نے بھی ٹوکیو اور بیجنگ کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے کے لیے کام کیا تھا۔
یاسوؤ فوکودا نے 2007 سے 2008 تک جاپان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے چین کے صدر ہو جنتاؤ کے ساتھ مستحکم تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی۔ 2012 میں سیاست سے ریٹائر ہونے کے بعد فوکودا نے جاپان اور چین کے تعلقات بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کر دی۔ اس وقت مشرقی چین کے سمندر میں واقع چند غیر آباد جزائر پر دونوں ملکوں کے درمیان علاقائی تنازع کے باعث تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔