واشنگٹن: چین نے پہلی بار تصدیق کی ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ممکنہ ملاقات پر بات چیت جاری ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے اس ہفتے بیجنگ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چین ’’تینوں ممالک کے سربراہان کی ملاقات کے حوالے سے متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔‘‘ ابھی ملاقات کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے، تاہم اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو اس ماہ شین ژین میں ہونے والی ایک علاقائی سربراہ کانفرنس کے موقع پر منعقد کی جا سکتی ہے۔
اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو اسے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جائے گا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ تینوں رہنماؤں کے مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باعث ان کے درمیان کسی اہم معاملے پر ٹھوس بات چیت کا امکان کم ہے۔ ان کے مطابق ممکن ہے کہ یہ ملاقات زیادہ تر مشترکہ تصویر کے لیے ہو اور چین اس کے انتظامات کو بہت احتیاط سے طے کرے۔ اسٹمسن سینٹر میں چین پروگرام کی ڈائریکٹر سن یون نے کہا، ’’میرے خیال میں یہ ملاقات ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ اس کی شکل کیا ہوگی اور اس میں کیا بات ہوگی۔‘‘ ان کے مطابق چین اس ملاقات سے بننے والی تصویر تو چاہتا ہے لیکن اس کی قیمت ادا نہیں کرنا چاہتا۔
چین اس سال ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) کے سربراہ اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ 21 ارکان پر مشتمل تنظیم ہے جس میں امریکہ اور روس بھی شامل ہیں۔ توقع ہے کہ ٹرمپ شین ژین کا سفر کریں گے جہاں وہ اس سال تیسری مرتبہ شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے معاملے پر قائم عارضی مفاہمت جنوری میں ختم ہونے والی ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی برقرار رہنے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے جمعہ کو چینی نائب وزیر اعظم حے لی فینگ کے ساتھ ویڈیو کال میں بیجنگ پر زور دیا کہ وہ اپنے سابقہ وعدوں پر مکمل عمل درآمد کے لیے ’’ٹھوس اقدامات‘‘ کرے، بالخصوص زرعی مصنوعات کی خریداری، نایاب ارضی عناصر اور دیگر اہم معدنیات کے حوالے سے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین کے دورے کے دوران وہ شی جن پنگ اور پوتن سے ملاقات کرکے جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کے معاملے پر بات کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
تاہم پوتن کی توجہ یوکرین جنگ پر بات چیت پر ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان مذاکرات میں یوکرین کو شامل نہ کیا جائے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے سابق اعلیٰ عہدیدار اور سابق صدر براک اوباما کے دور میں خدمات انجام دینے والے ڈینی رسل نے کہا کہ ’’تینوں رہنماؤں کی ملاقات سے سب سے زیادہ فائدہ پوتن کو ہوگا اور روس واضح طور پر اس ملاقات کے لیے کوشش کر رہا ہے، جو اس کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔‘‘ ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ رسل کے مطابق ٹرمپ بھی اس ملاقات میں دلچسپی رکھیں گے، تاہم ان کے مشیروں نے انہیں یوکرین کے معاملے کو گفتگو کا موضوع بنانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
اسٹمسن سینٹر کی سن یون نے کہا کہ روس ممکنہ طور پر سربراہ اجلاس کو چین اور امریکہ کو یوکرین کے معاملے پر ماسکو کے مؤقف کے قریب لانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا، جبکہ ’’چین کو روس کی چالوں سے نمٹنا ہوگا۔‘‘ ان کے مطابق چین جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول، یوکرین یا ایران کے بارے میں تفصیلی مذاکرات میں بھی شامل نہیں ہوگا، سوائے اس سفارتی مؤقف کے کہ امن اہم ہے اور جنگیں ختم ہونی چاہئیں۔
سن یون نے کہا کہ بیجنگ کے لیے سب سے بڑا چیلنج اس ملاقات کے بارے میں بننے والا تاثر ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق اس سربراہ اجلاس کو ’’تین بڑی طاقتوں کی جانب سے دنیا کو آپس میں تقسیم کرنے‘‘ کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے چین پروگرام کے سینئر ڈائریکٹر کریگ سنگلٹن نے کہا کہ یہ ملاقات محض تصویر کھنچوانے کا ایک موقع بھی ثابت ہوسکتی ہے، جس سے پوتن کو امریکی اور چینی رہنماؤں کے ساتھ کھڑے نظر آنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا، ’’لیکن ایسی تصویری ملاقاتوں کے سفارتی فوائد مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ منظر تاریخی ضرور ہوسکتا ہے، لیکن اس سے کوئی خاص اہم نتیجہ برآمد نہ بھی ہو۔‘‘