بنگلہ دیش :مذہب سے قطع نظر تمام شہریوں کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنائیں گے: طارق رحمان

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 13-10-2026
بنگلہ دیش :مذہب سے قطع نظر تمام شہریوں کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنائیں گے: طارق رحمان
بنگلہ دیش :مذہب سے قطع نظر تمام شہریوں کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنائیں گے: طارق رحمان

 



ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت مذہبی شناخت سے قطع نظر تمام شہریوں کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق، طارق رحمان نے پیر کو ڈھاکہ کے سکریٹریٹ میں واقع اپنے دفتر میں ہندو برادری کے رہنماؤں سے ملاقات کے دوران تبادلۂ خیال کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ ملک کے ہر شہری کو مذہب کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اس ملک کے شہری ہونے کی حیثیت سے وہ حقوق اور تحفظ حاصل ہوں جن کا وہ حقدار ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے ہر شہری کے حقوق کو یقینی بنانا ان کی ذمہ داری ہے اور وہ اپنی استطاعت کے مطابق اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ طارق رحمان نے کہا، ’’اس ملک کے شہری اور انسان ہونے کی حیثیت سے آپ کچھ حقوق کے حقدار ہیں۔ حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ ان حقوق کو یقینی بنانے کی کوشش کروں۔‘‘ وزیر اعظم کا یہ بیان بنگلہ دیش میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً ہندو برادری کے تحفظ کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔

اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور مذہبی اجتماعات کی حفاظت کو یقینی بنانا بھی ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ 2022 کی مردم شماری کے مطابق، بنگلہ دیش کی تقریباً 17 کروڑ آبادی میں ہندوؤں کی تعداد لگ بھگ ایک کروڑ 30 لاکھ ہے، جو مجموعی آبادی کا تقریباً 8 فیصد بنتی ہے۔ طارق رحمان کی جانب سے تحفظ کی یقین دہانی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب درگا پوجا کے آئندہ تہوار کے پیش نظر ملک بھر میں پولیس نے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ درگا پوجا بنگلہ دیش کی ہندو اقلیت کا سب سے بڑا مذہبی تہوار ہے۔ پولیس نے ملک بھر میں تقریباً 33 ہزار مقامات پر ہونے والی درگا پوجا کے لیے وسیع حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔

ان میں چوبیس گھنٹے نگرانی، خصوصی پولیس دستے اور مورتیوں کے وسرجن کے موقع پر ڈرون اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال شامل ہے۔ اس سال یہ تہوار 16 سے 20 اکتوبر تک منایا جائے گا۔ ان اقدامات کا مقصد تہوار کے دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنا اور کسی بھی ناخوش گوار واقعے کو روکنا ہے۔ گزشتہ برسوں میں مذہبی تہواروں کے دوران ہندو مندروں اور دیگر اداروں پر حملوں کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان واقعات نے اقلیتوں کے تحفظ کے بارے میں تشویش پیدا کی اور فرقہ وارانہ تشدد کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔ طارق رحمان نے کہا کہ وہ اپنے عہدے کو عوام کی خدمت کا ایک موقع سمجھتے ہیں اور مذہبی شناخت سے قطع نظر تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔