لندن: انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے بنگلہ دیش کی سرکاری جامعات میں اساتذہ اور طلبہ کو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اور ان کی جماعت عوامی لیگ سے مبینہ وابستگی کی بنیاد پر نشانہ بنائے جانے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ مناسب قانونی کارروائی کے بغیر ملازمت سے برطرفی معطلی اور تعلیمی سرگرمیوں پر پابندیاں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوسکتی ہیں۔
منگل کے روز جاری ایک بیان میں تنظیم نے کہا کہ درجنوں اساتذہ اور طلبہ کو سابق حکومت کی حمایت کے الزامات کے تحت من مانے تادیبی اقدامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شیخ حسینہ کی حکومت 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد اقتدار سے بے دخل ہوگئی تھی۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اگر پرامن سیاسی نظریات کی بنیاد پر یا مناسب قانونی کارروائی کے بغیر اساتذہ اور طلبہ کے خلاف اقدامات کیے جاتے ہیں تو یہ اظہار رائے اور تنظیم سازی کی آزادی سے متعلق بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔
تنظیم کی نائب ڈائریکٹر برائے ایشیا میناکشی گنگولی نے کہا کہ بنگلہ دیش کی جامعات میں سیاسی بحث و مباحثے کی ایک طویل روایت رہی ہے اور ایسی گفتگو سے صرف آمرانہ حکمرانوں کو خوف محسوس ہونا چاہیے نہ کہ ایسی حکومت کو جو طلبہ کے احتجاج کے نتیجے میں قائم ہوئی ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کو ماضی کے جبر سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے نہ کہ اس عمل کو دوبارہ دہرانے کی جب بھی حکمراں اور حزب اختلاف کی جماعتیں اقتدار کی پوزیشنیں تبدیل کریں۔
جامعات میں اساتذہ اور طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائیاں
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق متاثرہ اساتذہ کے خلاف کارروائیوں میں ملازمت سے برطرفی معطلی تدریسی ذمہ داریوں سے محرومی اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں پر پابندیاں شامل ہیں۔ ان پر عائد الزامات میں شیخ حسینہ کے دور حکومت میں تشدد میں مبینہ شمولیت عوامی لیگ کی حمایت میں سرگرمیوں میں حصہ لینا اور اسلامی لباس پہننے والی طالبات کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک جیسے معاملات شامل ہیں۔
تنظیم نے عوامی لیگ سے وابستہ ہونے کے الزام میں سیکڑوں طلبہ کو جامعات سے نکالے جانے پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے طلبہ کے تعلیم حاصل کرنے کے حق کو نقصان پہنچا ہے۔تنظیم نے اپنی تحقیقات کے دوران ایک درجن سے زائد متاثرہ اساتذہ کے انٹرویو کیے اور جامعات کی خط و کتابت کے علاوہ ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک بحث اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر موجود ویڈیوز کا بھی جائزہ لیا۔ اساتذہ اور طلبہ کے انٹرویوز میں طلبہ کے اخراج امتحانی اسناد منسوخ کیے جانے اور جامعات کے احاطے میں داخلے پر پابندی کے واقعات بھی سامنے آئے۔
اگست 2026 کی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے تنظیم نے بتایا کہ 22 جامعات کے کم از کم 404 مزید اساتذہ کو عوامی لیگ سے وابستہ ٹیلی گرام گروپ میں شرکت کے الزام میں تحقیقات کا سامنا ہے۔ایک سرکاری جامعہ کے پروفیسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ جامعہ کی انتظامیہ ان اساتذہ کو جھوٹے الزامات کے تحت نشانہ بنا رہی ہے جو عوامی لیگ سے وابستہ ہیں اور جنہوں نے 2024 کی طلبہ تحریک کی حمایت نہیں کی تھی۔ان کے بقول اب صورت حال یہ ہے کہ ہمیں کلاسیں لینے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ ہم تحقیقی کام نہیں کرسکتے اور نہ ہی کوئی دوسری تعلیمی سرگرمی انجام دے سکتے ہیں۔
ڈھاکہ یونیورسٹی سمیت کئی بڑی جامعات میں کارروائیاں
رپورٹ میں بنگلہ دیش کی متعدد بڑی سرکاری جامعات میں اساتذہ کے خلاف تادیبی کارروائیوں کی تفصیلات بھی پیش کی گئی ہیں۔ ان میں ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش ایگریکلچرل یونیورسٹی اور شیرِ بنگلہ ایگریکلچرل یونیورسٹی شامل ہیں۔
ڈھاکہ یونیورسٹی میں ستمبر 2024 سے 44 اساتذہ کو کام کرنے سے روکنے کے احکامات جاری کیے گئے جبکہ مزید 25 اساتذہ کی تدریسی ذمہ داریوں کو محدود کردیا گیا۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق یہ کارروائیاں کسی شفاف اور قابل اعتماد تادیبی تحقیقات کے بغیر کی گئیں۔ بعد ازاں 6 اساتذہ کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا جبکہ مزید 14 اساتذہ کے خلاف تحقیقات شروع کی گئیں۔
مائمن سنگھ میں واقع بنگلہ دیش ایگریکلچرل یونیورسٹی میں 12 اساتذہ کو ملازمت سے برطرف یا معطل کیا گیا یا ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ مزید 34 اساتذہ کو تنزلی یا تعلیمی سرگرمیوں پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی یونیورسٹی کے قانونی طور پر طے شدہ تادیبی ضابطوں کے مطابق نہیں دکھائی دیتی۔
اسی طرح ڈھاکہ کی شیرِ بنگلہ ایگریکلچرل یونیورسٹی میں 12 اساتذہ کو عارضی طور پر معطل کیا گیا اور مزید 10 کو تعلیمی سرگرمیوں سے الگ کردیا گیا۔ اس کے علاوہ 85 اساتذہ کو ترقی دینے سے مبینہ طور پر روک دیا گیا۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اس طرح کی کارروائیوں سے بنگلہ دیش کی 20 سے زائد سرکاری جامعات متاثر ہوئی ہیں۔
سیکڑوں طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر بھی سوال
تنظیم نے طلبہ کے خلاف کارروائیوں پر بھی تفصیلی تشویش ظاہر کی ہے۔ مارچ 2025 میں ڈھاکہ یونیورسٹی نے 126 طلبہ کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا اور ان کی امتحانی اسناد روک لی تھیں۔ بتایا گیا تھا کہ ایک تحقیقاتی کمیٹی نے تصویروں ویڈیوز اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر موجود مواد کی بنیاد پر ان طلبہ کی شناخت کی تھی جن پر پرامن مظاہرین پر حملوں میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔
اس کے علاوہ پولیس کی شکایات میں عوامی لیگ سے مبینہ وابستگی رکھنے والے مزید 277 طلبہ کے نام بھی شامل کیے گئے تھے۔ تاہم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق یونیورسٹی نے ان کے خلاف کوئی باضابطہ تادیبی کارروائی نہیں کی۔ اس کے باوجود بعض طلبہ اور اساتذہ نے بتایا کہ گرفتاری کے خوف سے وہ جامعہ جانے سے گریز کر رہے ہیں۔
پروفیسر مشیور رحمان کے خلاف کارروائی کا معاملہ
رپورٹ میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات کے پروفیسر مشیور رحمان کا معاملہ بھی شامل ہے۔ انہیں 25 ستمبر 2024 کو تدریسی اور انتظامی ذمہ داریاں انجام دینے سے روک دیا گیا تھا۔
ان پر ایک الزام یہ تھا کہ انہوں نے ٹیلی ویژن پر ہونے والی ایک بحث کے دوران 2024 کی احتجاجی تحریک کی مخالفت کی تھی۔ تاہم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق تنظیم کی جانب سے اس نشریے کی ویڈیو کا جائزہ لینے پر اس میں پروفیسر رحمان کو مبینہ طور پر منسوب کیے گئے بیانات دیتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انہوں نے 3 اگست 2024 کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران نسل کشی پر اکسایا تھا۔ پروفیسر رحمان نے تنظیم کو بتایا کہ یہ اجلاس یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے منعقد کیا تھا جس میں مختلف جامعات کے وائس چانسلر شریک ہوئے تھے۔ انہوں نے اس الزام کی تردید بھی کی۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 31 اگست 2026 کو جامعہ انتظامیہ نے انہیں مستقل طور پر معطل کرنے کی سفارش کی تھی۔ پروفیسر رحمان اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہے ہیں۔
عوامی لیگ کی حمایت کے الزام میں دیگر اساتذہ بھی زیر عتاب
رپورٹ میں بنگلہ دیش ایگریکلچرل یونیورسٹی کی پروفیسر پوربا اسلام اور پروفیسر یحییٰ کھنڈوکر کے معاملات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دونوں کو 4 اگست 2024 کو عوامی لیگ کی حمایت میں نکالے گئے ایک جلوس میں مبینہ شرکت کے الزام میں معطل کیا گیا تھا۔
ہیومن رائٹس واچ نے اس جلوس کی ویڈیو کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ اس میں لوگوں کو جامعہ کے احاطے سے گزرتے ہوئے نعرے لگاتے دیکھا جاسکتا ہے تاہم کسی براہ راست تصادم کے مناظر موجود نہیں ہیں۔ تنظیم کے مطابق ویڈیو سے پروفیسر پوربا اسلام کے خلاف نعرے بازی میں شرکت کے الزام کی تصدیق نہیں ہوتی۔
دوسری جانب پروفیسر یحییٰ کھنڈوکر کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے پورے عرصے میں وہ ڈھاکہ میں اپنے خاندان کے ساتھ موجود تھے اور جامعہ میں نہیں تھے۔ ہائی کورٹ نے ان کی معطلی کے حکم پر روک لگا دی ہے تاہم اٹارنی جنرل کے دفتر نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔
2024 کی طلبہ تحریک کے بعد بدلتی سیاسی صورت حال
یہ پیش رفت بنگلہ دیش میں 2024 کے سیاسی بحران کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ جولائی اور اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کی کارروائی میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد شیخ حسینہ کو ملک چھوڑنا پڑا تھا۔بعد ازاں مئی 2025 میں عبوری حکومت نے عوامی لیگ کی سرگرمیوں کو مجرمانہ قرار دے دیا تھا۔ فروری 2026 کے انتخابات کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی دوبارہ اقتدار میں آگئی۔ہیومن رائٹس واچ نے یہ بھی بتایا کہ ملک کی بین الاقوامی جرائم کی عدالت نے تین اساتذہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں سزا سنائی ہے جن میں سے دو جیل میں ہیں جبکہ ایک دیگر استاد کے خلاف مقدمے کی سماعت ہونا باقی ہے۔
جامعات کو سیاسی انتقام کا ذریعہ بنانے سے گریز کی اپیل
ہیومن رائٹس واچ کی میناکشی گنگولی نے تعلیمی آزادی کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جامعات کو سیاسی انتقام کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے خبردار کیا کہ سابق حکومت کی پرامن حمایت کرنے والے افراد کے خلاف انتقامی کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہوں گی کہ ملک میں اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی محفوظ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جامعات ایسے مراکز ہونے چاہئیں جہاں ہر شخص کو اپنے خیالات کے اظہار کی آزادی حاصل ہو نہ کہ ایسے ادارے جہاں وقت کی حکومت کی حمایت کو لازمی قرار دیا جائے۔