ڈھاکہ:بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے سب سے بڑے مذہبی تہوار درگا پوجا کی تیاریاں جوش و خروش کے ساتھ جاری ہیں۔ مندروں میں عقیدت بھری دعاؤں کی گونج اور پوجا پنڈالوں کی رنگا رنگ سجاوٹ کے درمیان عقیدت مند دیوی درگا کے استقبال کے لیے تیار ہیں۔ ملک بھر میں جمعہ سے شروع ہونے والے اس پانچ روزہ تہوار کے دوران عبادت۔ روایتی رسومات اور خاندانی میل ملاپ کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اس سال بنگلہ دیش میں مجموعی طور پر 33851 مقامات پر درگا پوجا کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر مختلف شہروں میں رہنے والے بہت سے لوگ اپنے آبائی علاقوں اور گاؤں کا رخ کر رہے ہیں تاکہ اپنے اہل خانہ اور برادری کے لوگوں کے ساتھ یہ تہوار منا سکیں۔
درگا پوجا کی تقریبات کا آغاز جمعہ کو مہا ششٹھی کے ساتھ ہوگا۔ اس کے بعد ملک بھر میں 5 روز تک مذہبی رسومات اور تقریبات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
بنگلہ دیش پوجا سیلیبریشن کمیٹی کے مطابق اس سال ملک بھر میں 33851 مقامات پر درگا پوجا منعقد کی جا رہی ہے جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 32351 تھی۔ دارالحکومت ڈھاکہ میں اس سال تقریباً 258 مقامات پر پوجا کا اہتمام کیا جائے گا۔ گزشتہ سال شہر میں 261 مقامات پر پوجا ہوئی تھی۔
ان اعداد و شمار میں مورتیوں کے ساتھ منعقد ہونے والی پوجا کے علاوہ گھروں میں انفرادی طور پر کی جانے والی پوجا بھی شامل ہے۔ یہ تعداد ملک میں اس تہوار کی وسیع مقبولیت کو ظاہر کرتی ہے۔
بنگلہ دیش پوجا سیلیبریشن کمیٹی کے جنرل سکریٹری سنتوش شرما نے کہا کہ اس سال درگا پوجا کا تہوار بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
تہوار کی خوشیوں میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب بنگلہ دیش کی حکومت نے عام تعطیل میں ایک دن کا اضافہ کردیا۔ اس طرح سرکاری تعطیلات کی مدت 3 دن ہوگئی ہے۔ ہفتہ وار تعطیلات اور دیگر دو دن کو شامل کرنے کے بعد لوگوں کو امید ہے کہ انہیں تہوار منانے کے لیے 5 دن کی چھٹی مل سکے گی۔
بہت سے عقیدت مندوں کے لیے درگا پوجا صرف مذہبی عبادت کا موقع نہیں بلکہ اپنے خاندان سے دوبارہ ملنے اور آبائی علاقوں کی طرف لوٹنے کا بھی ذریعہ ہے۔ تعطیلات کے باعث بڑے شہروں میں رہنے والے افراد اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں تاکہ رشتہ داروں اور مقامی برادری کے ساتھ مل کر تہوار منا سکیں۔
بنگلہ دیش پوجا سیلیبریشن کمیٹی کے سابق صدر کاجل دیبناتھ نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال بہت سے لوگ ڈھاکہ اور دیگر بڑے شہروں سے اپنے آبائی گاؤں واپس جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے تہوار کا جوش و خروش گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے۔
شہروں سے گاؤں اور آبائی علاقوں کی طرف لوگوں کی آمد و رفت نے تہوار کی رونق میں اضافہ کردیا ہے۔ خاندان اپنے طور پر تیاریوں میں مصروف ہیں جبکہ عقیدت مند آنے والے دنوں میں عبادت اور مذہبی رسومات کے لیے پرجوش ہیں۔
ہندوستان سے بھی بنگلہ دیش پہنچ رہے ہیں عقیدت مند
درگا پوجا کی تقریبات میں شرکت کے لیے ہندوستان سے بھی لوگ بنگلہ دیش پہنچ رہے ہیں۔ ان میں کولکاتا کی 82 سالہ رہائشی شکشا رانی داس بھی شامل ہیں جو اس سال درگا پوجا منانے کے لیے بنگلہ دیش آئی ہیں۔
شکشا رانی داس اس وقت ڈھاکہ کے ڈھاکیشوری قومی مندر میں پوجا پنڈالوں کا دورہ کر رہی ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ وہ دارالحکومت سے باہر سلہٹ کا سفر بھی کریں تاکہ وہاں تہوار کی تقریبات میں شرکت کرسکیں۔
ان کے لیے یہ سفر بنگلہ دیش میں درگا پوجا کی تقریبات کو قریب سے دیکھنے اور دیوی درگا کی عبادت کے دوران عقیدت مندوں کے مذہبی جذبے کا مشاہدہ کرنے کا موقع ہے۔
ڈھاکیشوری قومی مندر میں ایک پوجا پنڈال کے سامنے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے شکشا رانی داس نے کہا کہ وہ بنگلہ دیش آکر اور دیوی کے تہوار درگا پوجا کی تقریبات دیکھ کر بہت خوش ہیں۔
ان کا یہ سفر اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ درگا پوجا کی کشش مختلف شہروں اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے عقیدت مندوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے جو اس تہوار کی مذہبی رسومات اور روایات کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔
درگا پوجا بنگلہ دیش کی ہندو برادری اور دنیا بھر میں آباد بنگالیوں کے لیے گہری مذہبی اور ثقافتی اہمیت رکھتی ہے۔ اس دوران عقیدت مند مندروں۔ اجتماعی پوجا پنڈالوں اور گھروں میں جمع ہوکر عبادت کرتے ہیں اور مختلف تقریبات میں حصہ لیتے ہیں۔
یہ تہوار دیوی درگا کی پوجا اور برائی پر اچھائی کی فتح کی علامت ہے۔ ان دنوں میں مذہبی رسومات کے ساتھ خاندانی اجتماعات اور اجتماعی تقریبات بھی منعقد ہوتی ہیں۔
ملک بھر میں ہزاروں مقامات پر پوجا کے انتظامات آخری مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ عقیدت مند دیوی کے استقبال اور اپنے اہل خانہ اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ تہوار منانے کے لیے تیار ہیں۔