کوئٹہ:پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 4 مزید افراد کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان واقعات میں پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں پر ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو تقریباً 4 ماہ تک مبینہ طور پر جبری گمشدگی کا شکار رہنے کے بعد بازیاب کرالیا گیا ہے۔ بلوچستان پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعات پاکستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے پر ایک بار پھر تشویش پیدا کر رہے ہیں۔
بلوچستان پوسٹ کے مطابق 25 سالہ ولید بلوچ کو گوادر کے علاقے کلدان میں ان کی رہائش گاہ سے مبینہ طور پر اٹھایا گیا۔ اس واقعے میں پاکستانی فورسز پر انہیں حراست میں لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی ہے۔ایک دوسرے واقعے میں 25 سالہ نثار ملنگ کو مبینہ طور پر 8 اکتوبر کی صبح تقریباً 9 بجے ضلع چاغی کے علاقے کلی سردار سے فرنٹیئر کور کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کے اہل خانہ کو اب تک ان کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات نہیں مل سکی ہیں۔
اسی روز 25 سالہ محمد آصف کو بھی مبینہ طور پر رات تقریباً 12 بجے ضلع چاغی کے علاقے کلی پیر محمد سے فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے حراست میں لیا۔ اس واقعے نے ضلع میں مسلسل سامنے آنے والی گمشدگیوں کے معاملے پر تشویش میں اضافہ کیا ہے۔اسی طرح 23 سالہ حافظ زبیر احمد کو مبینہ طور پر 3 اکتوبر کی صبح تقریباً 4 بجے ضلع چاغی کے علاقے کلی ہارون سے فرنٹیئر کور کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔ اطلاعات کے مطابق ان کے بارے میں بھی مزید کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
لیاری کا نوجوان بازیاب
دوسری جانب کراچی کے علاقے لیاری کے رہائشی شہزیب کو 7 اکتوبر کو ضلع لسبیلہ کے علاقے اوتھل سے بازیاب کرایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق وہ 1 جون 2026 سے لاپتہ تھے اور تقریباً 4 ماہ بعد ان کی بازیابی عمل میں آئی۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ
بلوچستان میں جبری گمشدگیاں کئی برسوں سے انسانی حقوق کا ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا پاکستانی سکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں پر لوگوں کو حراست میں لینے اور ان کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات فراہم نہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اس صورت حال میں اہل خانہ کو اپنے عزیزوں سے رابطہ کرنے اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان واقعات نے حراست کے معاملات میں شفافیت۔ جواب دہی اور من مانے طور پر گرفتاریوں کے خلاف قانونی تحفظات کو یقینی بنانے کے مطالبات کو پھر سے نمایاں کیا ہے۔بلوچستان پوسٹ کے مطابق ہیومن رائٹس کونسل آف بلوچستان نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں اگست 2026 کے دوران صوبے میں جبری گمشدگیوں کے 87 واقعات درج کیے تھے۔ یہ اعداد و شمار بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے کی سنگینی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔