جرمنی: بلوچ حقوق کے حق میں مظاہرہ، پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش کا اظہار

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 13-10-2026
جرمنی: بلوچ حقوق کے حق میں مظاہرہ، پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش کا اظہار
جرمنی: بلوچ حقوق کے حق میں مظاہرہ، پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش کا اظہار

 



ہینوور: بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے جرمنی کے شہر ہینوور میں ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا جس میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں جبری گمشدگیوں ماورائے عدالت ہلاکتوں اور فوجی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستانی حکام کو ان واقعات کے لیے جواب دہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔بی این ایم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ مظاہرین نے شہر کے مرکزی علاقے کرؤپکے سے مارچ شروع کیا اور سڑکوں سے گزرتے ہوئے زیریں سیکسنی کی ریاستی پارلیمنٹ تک پہنچے۔

مظاہرین نے اس دوران نعرے لگائے اور معلوماتی پمفلٹ تقسیم کرکے بلوچستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال کی جانب عوام کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی۔ انہوں نے مبینہ خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کرانے ذمہ دار افراد کا احتساب کرنے اور بلوچ عوام کے حق خود ارادیت کے تحفظ کے لیے مؤثر بین الاقوامی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ریلی سے بی این ایم کے کارکنوں آصف بلوچ اور عاقب بلوچ کے علاوہ پشتون تحفظ موومنٹ کے نمائندوں سعید مومند اور فضل مینا خیل نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے جبری گمشدگیوں من مانی گرفتاریوں تشدد اور شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق الزامات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے حقوق اور انصاف کی جدوجہد میں بلوچ اور پشتون برادریوں کے درمیان زیادہ تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

بی این ایم کے شعبۂ انسانی حقوق پانک کی جانب سے شائع کردہ رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے مقررین نے اگست 2026 میں پنجگور میں پیر جان شعیب بلوچ حافظ مدثر وزیر احمد اور جاسم کی مبینہ ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے شہریوں کی ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جن میں مبینہ طور پر فوجی فضائی حملوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔مقررین نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ان واقعات کا نوٹس لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ خلاف ورزیوں سے متعلق الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں اور ذمہ دار پائے جانے والے افراد کو جواب دہ بنایا جائے۔

بی این ایم نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ بلوچ عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ تنظیم کے مطابق بلوچستان کے تنازع کو صرف فوجی طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا۔بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات بدستور تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ بعض متاثرین کو بعد میں رہا کردیا جاتا ہے جبکہ دیگر طویل مدت تک حراست میں رہتے ہیں یا انہیں مبینہ طور پر ہدف بنا کر قتل کردیا جاتا ہے۔بنیادی حقوق کی ان مبینہ خلاف ورزیوں نے مقامی آبادی میں عدم تحفظ اور بداعتمادی کو بڑھایا ہے۔ من مانی گرفتاریوں کے خدشات اور ذمہ داروں کے احتساب کا فقدان بھی بلوچستان میں عدم استحکام کو برقرار رکھنے والے اہم عوامل میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اس صورت حال سے امن کے قیام انصاف کی فراہمی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد بحال کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔