اسرائیل میں عرب ووٹروں کا سیاسی دھماکہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 31-10-2026
اسرائیلی انتخابات میں عرب جماعتوں کی تاریخی کامیابی، حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار کا امکان
اسرائیلی انتخابات میں عرب جماعتوں کی تاریخی کامیابی، حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار کا امکان

 



 عرب ووٹروں کی ریکارڈ شرکت نے سیاسی منظرنامہ بدل دیا؛ نیتن یاہو اور حزبِ اختلاف دونوں اکثریت سے محروم، نئی حکومت کی تشکیل کے لیے عرب جماعتوں کی حمایت اہم ہوگئی

 یروشلم: اسرائیل کے حالیہ عام انتخابات کسی ایک سیاسی اتحاد کی واضح کامیابی کے بغیر اختتام پذیر ہوئے، لیکن ان نتائج میں سب سے زیادہ توجہ عرب جماعتوں کی غیرمعمولی پیش رفت نے حاصل کی ہے۔ انتخابی مقابلے میں شامل دونوں بڑے سیاسی دھڑے حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے، جب کہ عرب جماعتوں نے پارلیمان میں اپنی نمائندگی کو تاریخی سطح تک پہنچا دیا۔ اس صورت حال نے اسرائیلی سیاست میں ایک نیا سوال کھڑا کردیا ہے کہ کیا عرب جماعتیں اب محض پارلیمان میں موجود ایک سیاسی قوت رہیں گی یا حکومت سازی کے عمل میں بھی براہِ راست اثرانداز ہوں گی؟

تازہ ترین انتخابی گنتی کے مطابق، بنیامین نیتن یاہو کے اتحاد کو تقریباً 53 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جب کہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت والے دھڑے کے حصے میں لگ بھگ 48 نشستیں آئی ہیں۔ اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔ اس طرح دونوں بڑے اتحاد مطلوبہ اکثریت سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ دوسری جانب، عرب جماعتوں نے جوائنٹ لسٹ اور یونائٹڈ لسٹ کے تحت انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔ یہ اسرائیلی پارلیمان میں عرب نمائندگی کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

اس وقت اسرائیلی پارلیمان میں عرب جماعتوں کے پاس 10 نشستیں ہیں، جب کہ 2020 کے انتخابات میں انہوں نے 15 نشستیں حاصل کی تھیں۔ حالیہ انتخابی نتائج نے اس سابقہ ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اگرچہ حکومت سازی کی حتمی صورت ابھی واضح نہیں ہوئی، لیکن اتنا ضرور ہے کہ عرب جماعتیں اس انتخابی مقابلے کی اہم ترین سیاسی قوتوں میں شامل ہوکر سامنے آئی ہیں۔ ان کی حمایت کے بغیر نئی حکومت کی تشکیل کا راستہ آسان دکھائی نہیں دیتا۔

عرب ووٹروں کی ریکارڈ شرکت

اسرائیلی سیاست میں عرب ووٹروں کی بڑھتی ہوئی شرکت اس انتخاب کا ایک اور غیرمعمولی پہلو ہے۔ اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کار ایک عرصے سے عرب شہریوں کی انتخابی عمل میں مسلسل کم ہوتی دلچسپی کو ایک ایسے رجحان کے طور پر دیکھ رہے تھے جس کی واپسی مشکل محسوس ہوتی تھی۔ تاہم، حالیہ انتخابات میں ووٹروں کی بڑی تعداد نے پولنگ مراکز کا رخ کرکے اس تاثر کو بدل دیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، 1999 میں اسرائیل کے عرب ووٹروں کی انتخابی شرکت تقریباً 75 فیصد تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں کمی آتی گئی اور 2021 کے انتخابات میں یہ شرح گھٹ کر 44.6 فیصد رہ گئی۔ 2022 میں کچھ بہتری آئی اور ووٹنگ کی شرح 53.2 فیصد تک پہنچ گئی، لیکن حالیہ انتخابات میں عرب ووٹروں کی شرکت تقریباً 80 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ شرح پورے اسرائیل میں ووٹنگ کی مجموعی شرح، یعنی 77.7 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

یہ اعداد و شمار اس لیے بھی اہم ہیں کہ اسرائیل کے فلسطینی شہری ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں۔ ان کی بڑی تعداد میں انتخابی عمل میں شرکت نے نہ صرف عرب جماعتوں کی پارلیمانی پوزیشن مضبوط کی ہے بلکہ ملک کی سیاست میں ان کے اجتماعی اثرورسوخ کو بھی نمایاں کردیا ہے۔ اس پیش رفت نے ان سیاسی حلقوں کو بھی حیران کیا ہے جو عرب ووٹروں کی کم ہوتی شرکت کو مستقل رجحان سمجھنے لگے تھے۔

ووٹروں کی سرگرمی کے پیچھے کیا عوامل ہیں؟

عرب ووٹروں کی اس غیرمعمولی شرکت کے پیچھے کئی سیاسی اور سماجی عوامل کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں وجہ نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے خلاف پائی جانے والی ناراضی ہے۔ عرب شہریوں کے ایک بڑے طبقے میں یہ احساس موجود ہے کہ موجودہ سیاسی قیادت اور حکومت میں شامل بعض وزرا کے بیانات اور طرزِ عمل نے عرب برادری کے خلاف ماحول کو مزید کشیدہ کیا ہے۔

حکومت میں شامل انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے بعض وزرا عرب شہریوں کے بارے میں سخت اور اشتعال انگیز بیانات دیتے رہے ہیں۔ اس صورت حال نے عرب برادری میں سیاسی بے چینی کو بڑھایا ہے۔ اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے ستمبر میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق، اسرائیل کے 54 فیصد فلسطینی شہریوں نے بڑھتے ہوئے جرائم کو ووٹ ڈالنے کے اپنے فیصلے میں سب سے اہم مسئلہ قرار دیا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عرب ووٹروں کے لیے انتخابی عمل محض سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی، تحفظ اور بنیادی شہری مسائل سے بھی جڑا ہوا ہے۔

دوسری وجہ انتخابی مہم کے دوران نیتن یاہو کا وہ طرزِ عمل بتایا جارہا ہے جسے عرب جماعتوں نے ووٹروں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔ انتخابی دن نیتن یاہو نے خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کے فلسطینی شہری بڑی تعداد میں پولنگ مراکز پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ عرب ووٹروں کے ذریعے انتخابات پر اثرانداز ہونے اور انہیں چرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق، لیکوڈ پارٹی اور مذہبی صہیونیت سے وابستہ جماعتوں نے عرب آبادی والے علاقوں کے پولنگ مراکز پر تقریباً دو ہزار کارکن تعینات کیے تھے۔ عرب جماعتوں کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد ووٹروں کی نگرانی کرنا اور انہیں خوف زدہ کرکے انتخابی عمل میں ان کی شرکت کو متاثر کرنا تھا۔ اس صورت حال نے عرب شہریوں میں ردِعمل پیدا کیا اور ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں مزید لوگ اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال کے لیے گھروں سے نکلے ہوں۔

تیسرا اہم سبب نیتن یاہو کو اقتدار سے باہر رکھنے کی ملک گیر سیاسی کوشش ہے۔ اس کوشش میں دائیں بازو، اعتدال پسند دائیں بازو اور بائیں بازو کی مختلف جماعتیں اپنے اپنے سیاسی مقاصد کے تحت شامل ہیں۔ اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی سلامتی کے نظام میں سامنے آنے والی سنگین ناکامی اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات نے بھی نیتن یاہو کی قیادت پر سوالات کو بڑھایا ہے۔

اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کے پاس بھی نیتن یاہو کی مخالفت کی اپنی وجوہات ہیں۔ وہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران ہونے والی تباہی اور انسانی المیے کے لیے ان کی حکومت کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اسی طرح مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی انتہا پسندوں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے واقعات بھی عرب شہریوں کی سیاسی ناراضی کا ایک اہم سبب ہیں۔ ان حالات میں نیتن یاہو کے خلاف ووٹ دینا عرب ووٹروں کے لیے اپنی سیاسی مخالفت ظاہر کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا۔

دونوں بڑے دھڑے اکثریت سے محروم

انتخابی نتائج نے صہیونی سیاست کے دونوں بڑے حریف دھڑوں کی توقعات کو بھی متاثر کیا ہے۔ کسی ایک بڑے اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملنے کے ساتھ عرب جماعتوں کی کامیابی نے حکومت سازی کے عمل کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔

نیتن یاہو کے اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے تقریباً آٹھ نشستیں کم ملی ہیں، جب کہ گادی آئزنکوٹ کے دھڑے کو اکثریت تک پہنچنے کے لیے تقریباً 13 مزید نشستوں کی ضرورت ہے۔ عرب جماعتوں کی مجموعی 19 نشستوں نے دونوں دھڑوں کے لیے سیاسی امکانات اور مشکلات کی نئی صورت حال پیدا کردی ہے۔

تاہم، اس صورت حال کے اثرات دونوں بڑے سیاسی اتحادوں پر یکساں نہیں ہوں گے۔ نیتن یاہو کے پاس اب بھی یہ امکان موجود ہے کہ وہ اپنے اتحاد سے باہر کی بعض جماعتوں کو ساتھ ملاکر اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے برعکس آئزنکوٹ کے لیے پارلیمان میں مطلوبہ تعداد پوری کرنے کی خاطر عرب جماعتوں کی حمایت اہم دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عرب جماعتوں کی انتخابی کامیابی کو محض نشستوں میں اضافے کے بجائے حکومت سازی کے پورے عمل پر اثرانداز ہونے والی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

حکومت سازی کے تین ممکنہ راستے

انتخابات کے بعد اب اسرائیل میں سیاسی مذاکرات، اتحاد سازی اور پارلیمانی حمایت حاصل کرنے کے لیے جوڑ توڑ کا مرحلہ شروع ہوگا۔ اسرائیلی سیاست میں اس طرح کی صورت حال نئی نہیں ہے، لیکن اس مرتبہ عرب جماعتوں کی غیرمعمولی کامیابی نے مذاکرات کی اہمیت بڑھا دی ہے۔

گادی آئزنکوٹ کے سامنے حکومت بنانے کے لیے بنیادی طور پر تین راستے موجود ہیں۔

پہلا راستہ یہ ہے کہ عرب جماعتوں کو براہِ راست حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے۔ اس صورت میں عرب جماعتیں صرف پارلیمان میں حمایت فراہم کرنے کے بجائے حکومتی اتحاد کا باقاعدہ حصہ بن سکتی ہیں۔ تاہم، اس امکان کو عملی شکل دینا آسان نہیں ہوگا۔ آئزنکوٹ کے ممکنہ اتحادیوں میں شامل ایویگڈور لائبرمین اور نفتالی بینیٹ عرب جماعتوں کی حکومت میں براہِ راست شمولیت کی مخالفت کرچکے ہیں۔ اس لیے اگر آئزنکوٹ اس راستے کو اختیار کرنا چاہیں تو انہیں اپنے ہی اتحادیوں کے تحفظات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

دوسرا راستہ یہ ہے کہ عرب جماعتیں حکومت میں شامل ہوئے بغیر آئزنکوٹ کے اتحاد کو پارلیمان میں حمایت فراہم کریں۔ اس طرح حکومت کے قیام اور اسے برقرار رکھنے کے لیے عرب جماعتوں کی تائید حاصل ہوسکتی ہے، جب کہ وہ خود کابینہ کا حصہ بننے سے گریز کرسکتی ہیں۔ اس نوعیت کے معاہدے میں عرب جماعتیں اپنی برادری کے مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور جرائم کی روک تھام کے لیے ٹھوس شرائط رکھ سکتی ہیں۔جوائنٹ لسٹ کے سربراہ یوسف جبارین پہلے ہی یہ پیشکش کرچکے ہیں کہ نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے خواہش مند کسی بھی سیاسی اتحاد کو عرب جماعتوں کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب راعم کے منصور عباس کا مؤقف نسبتاً مختلف ہے۔ وہ محض بیرونی حمایت کے بجائے سیاسی عمل میں حقیقی شراکت داری کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ دونوں بڑے سیاسی دھڑوں کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب جماعتوں کے اندر بھی آئندہ حکمتِ عملی کے حوالے سے مختلف امکانات زیرِ غور ہیں۔

تیسرا راستہ ایک وسیع مخلوط حکومت کی تشکیل ہے، جس میں نیتن یاہو اور آئزنکوٹ دونوں ایک ہی حکومتی اتحاد کا حصہ بن جائیں۔ اطلاعات کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے بعض حلقے بھی اس تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔ عددی اعتبار سے اس طرح کی حکومت کے قیام کا امکان موجود ہے، لیکن اس کے لیے دونوں سیاسی دھڑوں کو اپنے سابقہ اختلافات اور اعلانات پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

خصوصاً حزبِ اختلاف کے اندر اس تجویز پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔ آئزنکوٹ اور لائبرمین یہ عہد کرچکے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت نیتن یاہو کی قیادت میں بننے والی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اس لیے اگرچہ مخلوط حکومت کا راستہ کاغذ پر موجود ہے، لیکن اسے عملی شکل دینے کے لیے سیاسی طور پر مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔

سات اکتوبر کی ناکامی پر آزاد تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ

حکومت سازی کے مذاکرات کے دوران آئزنکوٹ اور عرب جماعتوں کے لیے ایک اہم مشترکہ مطالبہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل کی سلامتی کے نظام میں ہونے والی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن قائم کیا جائے۔ اس کمیشن کا مقصد یہ طے کرنا ہوگا کہ اس دن پیش آنے والے واقعات کے لیے کن اداروں اور سیاسی ذمہ داروں کی کیا ذمہ داری تھی، اور اس سلسلے میں نیتن یاہو کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے۔

اس مقصد کے لیے پارلیمان کے موجودہ اسپیکر، جو لیکوڈ پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، کو تبدیل کرنے کی کوشش بھی کی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد نئے اسپیکر اور پارلیمانی اکثریت کے ذریعے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ نیتن یاہو مختلف مواقع پر ایسی تحقیقات سے گریز کرتے رہے ہیں، اس لیے یہ معاملہ نئی حکومت کی تشکیل کے دوران ایک اہم سیاسی شرط بن سکتا ہے۔

سات اکتوبر 2023 کے واقعات کے بعد اسرائیل میں سلامتی کے اداروں اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری کے تعین کا سوال مسلسل زیرِ بحث رہا ہے۔ عرب جماعتیں اگر آئزنکوٹ کے ساتھ کسی سیاسی سمجھوتے تک پہنچتی ہیں تو اس مطالبے کو بھی مذاکرات کا حصہ بنا سکتی ہیں۔

عرب جماعتوں کی حکومت میں شمولیت کی سابقہ مثال

اسرائیل کی سیاست میں عرب جماعتوں کی حکومتی شراکت داری کی ایک اہم مثال 2021 میں سامنے آئی تھی۔ اس وقت منصور عباس کی قیادت والی راعم پارٹی نے نفتالی بینیٹ اور یائر لاپید کے ساتھ اتحادی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے ذریعے عرب برادری کے لیے اربوں ڈالر کے ترقیاتی وسائل مختص کرنے کا راستہ کھلا تھا۔ اس کے علاوہ عرب آبادی کے کئی دیہات کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کی پیش رفت بھی ہوئی تھی۔

اس اتحاد نے یہ ثابت کیا تھا کہ اسرائیل میں عرب جماعتیں پارلیمانی سیاست کے ذریعے حکومتی فیصلوں پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔ منصور عباس کی جماعت کی شمولیت اس اعتبار سے بھی اہم تھی کہ عرب سیاسی نمائندگی پہلی مرتبہ حکومت سازی کے عمل میں براہِ راست شریک ہوئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق، نیتن یاہو نے بھی اس سے پہلے منصور عباس کے ساتھ مذاکرات کیے تھے، تاہم لیکوڈ پارٹی اس دعوے کی تردید کرتی ہے۔ بہرحال، 2021 میں عرب جماعتوں کی حمایت سے متعلق سیاسی سمجھوتے کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب بیزلیل سموٹریچ نے اس کی مخالفت کی۔ اس تجربے سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ایک مرحلہ ہے، جب کہ اس حمایت کو پائیدار حکومتی شراکت داری میں تبدیل کرنا ایک الگ سیاسی چیلنج ہے۔

نیتن یاہو کی مخالفت اور عرب جماعتوں پر الزامات

نیتن یاہو کے لیے آئزنکوٹ اور اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کے درمیان کسی بھی نوعیت کا سیاسی سمجھوتہ ان کی اقتدار میں واپسی کی کوششوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی نتائج کے ابتدائی جائزوں کے سامنے آنے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی انہوں نے عرب جماعتوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی شراکت داری کو غداری قرار دیا۔

نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ عرب جماعتوں کی حمایت سے قائم ہونے والی حکومت اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس بیان کے ذریعے انہوں نے عرب جماعتوں کے سیاسی کردار کو قومی سلامتی کے مسئلے سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتخابی نتائج نے عرب جماعتوں کو پارلیمان میں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن فراہم کی ہے۔

بدھ کے روز بعد ازاں لیکوڈ پارٹی نے بھی الزام عائد کیا کہ عرب جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی کرکے کامیابی حاصل کی ہے۔ پارٹی نے عرب اکثریتی علاقوں کے پولنگ مراکز میں ووٹوں کی گنتی اور ممکنہ ردوبدل کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ تاہم، ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے فی الحال انہیں سیاسی دعووں اور الزامات ہی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

نیتن یاہو کے بیانات اور لیکوڈ پارٹی کے الزامات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ عرب جماعتوں کی حمایت سے بننے والی کسی بھی حکومت کو سیاسی طور پر متنازع بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ اس صورت حال میں آئزنکوٹ اور عرب جماعتوں کے لیے نہ صرف پارلیمانی اکثریت حاصل کرنا بلکہ اس اتحاد کو سیاسی دباؤ کے باوجود برقرار رکھنا بھی ایک اہم چیلنج ہوگا۔

صدر کے فیصلے اور آئندہ سیاسی منظرنامہ

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے عمل میں صدر کا کردار بھی اہم ہوگا۔ صدر جب یہ فیصلہ کریں گے کہ کس سیاسی جماعت یا اتحاد کو سب سے پہلے حکومت بنانے کی کوشش کا موقع دیا جائے، اس کے بعد سیاسی مذاکرات کی سمت مزید واضح ہوسکے گی۔

اس دوران انتہائی دائیں بازو کی وہ جماعتیں، جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران عرب ووٹروں کی بڑی تعداد میں شرکت کو خطرے کے طور پر پیش کیا تھا، اب پارلیمان میں عرب جماعتوں کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو بھی سیاسی بحث کا موضوع بنائیں گی۔ اس طرح انتخابی نتائج کے بعد عرب جماعتوں کو صرف حکومت سازی کے مذاکرات ہی میں نہیں بلکہ عوامی اور سیاسی سطح پر بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر نیتن یاہو نئی حکومت بنانے میں ناکام رہے تو وہ دوبارہ انتخابات کرانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں عرب ووٹروں کی موجودہ سرگرمی برقرار رکھنا ایک بڑا سوال ہوگا۔ اسرائیل میں 2021 کے انتخابات کا تجربہ اس حوالے سے قابلِ ذکر ہے۔ مسلسل انتخابات اور سیاسی غیر یقینی کے ماحول کے بعد عرب ووٹروں کی شرکت متاثر ہوئی تھی، جس سے انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کو اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع ملا تھا۔

اگر دوبارہ انتخابات ہوتے ہیں تو عرب جماعتوں کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ موجودہ کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے ووٹروں سے مسلسل رابطہ رکھیں اور انہیں یہ یقین دلائیں کہ ان کی سیاسی شرکت سے عملی تبدیلی ممکن ہے۔ محض انتخابی کامیابی حاصل کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ اس کے نتیجے میں روزمرہ زندگی سے متعلق مسائل کے حل کی پیش رفت بھی ضروری ہوگی۔

عرب جماعتوں کے لیے اصل امتحان

عرب جماعتوں نے حالیہ انتخابات میں غیرمعمولی کامیابی حاصل کی ہے، لیکن اب ان کے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ اس کامیابی کو کس طرح عملی سیاسی نتائج میں تبدیل کرتی ہیں۔ حکومت سازی میں حمایت فراہم کرنے یا کسی اتحاد میں شامل ہونے سے پہلے انہیں اپنے ووٹروں کے بنیادی مسائل کے حوالے سے واضح اور قابلِ عمل ضمانتیں حاصل کرنا ہوں گی۔

ان میں سب سے اہم مسئلہ عرب آبادی والے علاقوں میں بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام ہے۔ انتخابی سروے میں بھی عرب شہریوں نے اسے اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا تھا۔ اس کے علاوہ عرب شہروں اور دیہات میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولتوں، رہائش، تعلیم اور دیگر شہری ضروریات کے لیے مناسب بجٹ کی فراہمی بھی اہم مطالبات میں شامل ہوسکتی ہے۔

عرب جماعتوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ کسی بھی سیاسی سمجھوتے کو محض حکومت کی تشکیل یا کسی رہنما کو اقتدار سے باہر رکھنے تک محدود نہ رکھیں۔ انہیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے ووٹروں کی جانب سے ظاہر کیے گئے اعتماد کے نتیجے میں ایسے فیصلے ہوں جن کے اثرات براہِ راست عرب برادری کی زندگیوں میں نظر آئیں۔

2019 اور 2021 کے انتخابی تجربات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ سیاسی کامیابیاں مستقل نہیں ہوتیں۔ اگر انتخابی حمایت کو ٹھوس پالیسی اقدامات اور عوامی مسائل کے حل سے نہ جوڑا جائے تو عوام کا اعتماد دوبارہ کم ہوسکتا ہے۔ اس لیے عرب جماعتوں کے لیے اصل کامیابی صرف 19 نشستیں حاصل کرنا نہیں، بلکہ ان نشستوں کو اپنی برادری کے حقوق اور مطالبات کے لیے مؤثر سیاسی طاقت میں تبدیل کرنا ہوگا۔

انتخابی نتائج نے اسرائیلی سیاست کا رخ بدل دیا

حالیہ انتخابات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اسرائیل کے فلسطینی شہریوں نے ماضی کے مقابلے میں کہیں بڑی تعداد میں انتخابی عمل میں حصہ لیا اور پارلیمان میں عرب نمائندگی کو تاریخی سطح تک پہنچا دیا۔ اس شرکت نے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو واضح اکثریت حاصل کرنے سے روکنے کے ساتھ عرب جماعتوں کو حکومت سازی کے مذاکرات میں مرکزی اہمیت بھی دے دی ہے۔

تاہم، اس کامیابی کا اصل اثر آنے والے سیاسی فیصلوں سے ظاہر ہوگا۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ عرب جماعتیں اپنے درمیان موجود سیاسی اختلافات کے باوجود کس حد تک مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرتی ہیں، وہ کس اتحاد کی حمایت کرتی ہیں اور اس حمایت کے بدلے اپنے ووٹروں کے لیے کیا ضمانتیں حاصل کرپاتی ہیں۔

اسرائیل کی سیاست میں عرب شہریوں کی یہ غیرمعمولی شرکت ایک اہم سیاسی تبدیلی کی نشان دہی کرتی ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ کون سا اتحاد حکومت بنائے گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ پارلیمان میں مضبوط ہوئی عرب سیاسی نمائندگی کو کس حد تک فیصلہ سازی میں جگہ ملتی ہے۔ انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈال کر عرب شہریوں نے اپنی سیاسی موجودگی کا واضح اظہار کردیا ہے۔ اب ان کی جماعتوں کے سامنے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس عوامی اعتماد کو عملی کامیابی میں کس طرح تبدیل کرتی ہیں۔