روس کے حملوں کی کوئی پیشگی اطلاع اتحادیوں نے نہیں دی: زیلنسکی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 19-10-2026
روس کے حملوں کی کوئی پیشگی اطلاع اتحادیوں نے نہیں دی: زیلنسکی
روس کے حملوں کی کوئی پیشگی اطلاع اتحادیوں نے نہیں دی: زیلنسکی

 



کیف،: یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے پیر کو کہا کہ روس نے بیلسٹک میزائلوں اور جیٹ انجن سے چلنے والے ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایک بار پھر حملے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ بھی کیف کو اتحادی ممالک کی جانب سے حملوں کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں ملی، حالاں کہ اس سے پہلے یہ ممالک ایسی خفیہ معلومات یوکرین کے ساتھ شیئر کرتے رہے ہیں۔ زیلنسکی کو ان امریکی اقدامات کے اثرات کا بھی سامنا ہے جن سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو فائدہ پہنچا ہے۔ ان اقدامات میں ماسکو پر امریکی پابندیوں میں نرمی اور روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کرنا شامل ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ امریکی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک کے فوجی استعمال والے نظام سے متعلق یوکرین پر عائد پابندیوں نے بھی اس کے ڈرون آپریشنز کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ، امریکہ میں تیار کردہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کی شدید قلت کے باعث یوکرین پر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے خفیہ معلومات کے تبادلے نے یوکرین کو روس کے تباہ کن بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے اور ماسکو کے حملے کو روکنے میں مدد دی ہے۔ روس نے ساڑھے چار سال قبل یوکرین پر حملہ شروع کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے کیف کو خفیہ معلومات فراہم کرنا بند نہیں کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی پیر کو اس بات کو دہرایا۔ روبیو نے کہا کہ انہیں گزشتہ رات روس کی جانب سے کیے گئے حملے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ روس نے رات کے وقت شدید حملے کیے، جن میں ملک بھر میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے سے وابستہ دس سے زیادہ مراکز کو نقصان پہنچا۔ ان حملوں کے نتیجے میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد بجلی اور نل کے ذریعے فراہم کیے جانے والے پانی سے محروم ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ روس نے کیف اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر 16 بیلسٹک میزائل داغے۔ حکام کے مطابق، دارالحکومت کیف میں اس حملے کے دوران 21 سالہ ایک خاتون ہلاک ہو گئی۔

روسی وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے یوکرین کے اندر مختلف ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر حملے کیے۔ وزارت کے مطابق، ان ٹھکانوں میں ایک ڈیٹا سینٹر، ڈرون اور کروز میزائلوں کے پرزے رکھنے کا ایک گودام، ڈرون کے پرزے تیار کرنے والی ایک صنعتی اکائی اور میزائل ذخیرہ کرنے والا ریلوے ڈپو شامل ہیں۔ ٹرمپ نے زیلنسکی پر الزام لگایا ہے کہ وہ روسی حملے کا خاتمہ نہیں چاہتے۔

دوسری جانب، امن قائم کرنے کے لیے واشنگٹن کی کوششوں میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر ہونے والی حالیہ جنگ بندی بھی بے اثر ثابت ہوئی۔ روس کی بڑی فوج کے خلاف یوکرین کے دفاع میں مغربی ممالک کی مدد اہم رہی ہے۔ تاہم، کیف میں یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ ٹرمپ یوکرین کی حمایت سے دست بردار ہو سکتے ہیں۔ مغربی تجزیہ کاروں اور حکام کے مطابق، پوتن کا خیال ہے کہ وہ یوکرین کے لیے غیر ملکی حمایت کمزور ہونے کا انتظار کر سکتے ہیں، جس کے بعد روس کی بڑی فوج یوکرین کی مزاحمت کو کچل دے گی۔

زیلنسکی نے پیر کو سوشل میڈیا پر کہا، ’’یوکرین نے کبھی یہ جنگ نہیں چاہی۔ ہم نے جنگ کو باعزت طریقے سے ختم کرنے کے لیے اپنے اتحادیوں کی جانب سے کی جانے والی ہر کوشش کا خیرمقدم کیا ہے۔ ہم نے جنگ بندی کی ہر تجویز پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’حقیقت یہ ہے کہ جنگ جاری ہے اور اس کی واحد وجہ روس کے حملے اور جنگ کو طول دینے کی اس کی خواہش ہے۔‘‘ یوکرین نے محاذِ جنگ پر روس کی بڑی فوج کی پیش قدمی روک رکھی ہے اور روس کے اندر دور دراز علاقوں کو نشانہ بنا کر جوابی حملے بھی کیے ہیں۔ ان حملوں میں تیل صاف کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے ایندھن کی قلت پیدا ہوئی۔

یوکرین نے اتوار کو روس پر ایک ہزار سے زیادہ ڈرون داغے۔ یہ جنگ کے دوران کیے گئے سب سے بڑے فضائی حملوں میں سے ایک تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں سینٹ پیٹرزبرگ میں تیل برآمد کرنے والے ایک ٹرمینل اور ایک گودام میں آگ لگ گئی۔ روس نے یوکرین میں عام زندگی کو درہم برہم کرنے اور شہریوں کو پریشان کرنے کے لیے ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں ریل گاڑیوں، شاپنگ مالز، پیٹرول پمپوں اور سپر مارکیٹوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔