نئی دہلی : البانیہ کی 117 سالہ کامیلے مارا کو اس بات سے زیادہ دلچسپی نہیں کہ دنیا کی معمر ترین خاتون کا اعزاز ان کے نام ہے یا نہیں۔ انہیں اس سے بھی کوئی خاص غرض نہیں کہ پنشن کے حکام ان کے زندہ ہونے پر یقین کرتے ہیں یا نہیں۔ ان کی توجہ آج بھی زندگی کے چھوٹے چھوٹے خوشگوار لمحوں پر ہے اور وہ کہتی ہیں کہ اتنی طویل عمر گزارنے کے باوجود وہ زندگی سے مزید لطف اٹھانا چاہتی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کامیلے مارا نے اپنی زندگی کے کئی پہلو بیان کیے۔ ان کی پیدائش 19 اگست 1909 کو اس وقت ہوئی جب البانیہ سلطنت عثمانیہ کے زیر اقتدار تھا۔ انہوں نے بعد میں ملک میں کمیونسٹ حکومت کا دور دیکھا اور دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے وقت ان کی عمر 36 برس تھی۔
کامیلے مارا دارالحکومت تیرانہ سے تقریباً 100 کلومیٹر دور فیرس نامی گاؤں میں رہتی ہیں اور انہوں نے اپنی پوری زندگی اسی علاقے میں گزاری ہے۔ قدرت کے قریب سادہ زندگی ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ وہ مویشی پالتی ہیں اور اپنی ضرورت کی کئی غذائی اشیا خود اگاتی رہی ہیں۔
اپنے گاؤں اور وہاں کی فطرت سے وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے البانیہ کے بلند پہاڑ تومور کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی خوبصورت ہے بالکل تومور کے پہاڑ کی طرح جب اس پر پھول کھلتے ہیں۔
روایتی سفید اسکارف میں نظر آنے والی کامیلے مارا کا یقین ہے کہ انسان اتنی ہی زندگی جیتا ہے جتنی خدا نے اس کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔
کیا وہ دنیا کی معمر ترین خاتون ہیں؟
سرکاری دستاویزات میں کامیلے مارا کی تاریخ پیدائش 19 اگست 1909 درج ہے۔ اس حساب سے وہ برطانیہ کی ایتھل کیتھرہم سے دو دن بڑی ہیں جنہیں گنیز ورلڈ ریکارڈز نے دنیا کی معمر ترین خاتون قرار دے رکھا ہے۔
تاہم 110 برس سے زیادہ عمر کے افراد کی عمر کی تصدیق ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک صدی سے زیادہ عرصہ پہلے دنیا کے کئی علاقوں میں پیدائش اور دیگر اہم واقعات کا ریکارڈ آج کی طرح باقاعدگی سے محفوظ نہیں کیا جاتا تھا۔
کامیلے مارا کے معاملے میں البتہ ان کے خاندان کے پاس متعدد سرکاری دستاویزات موجود ہیں جو ان کی عمر کی تصدیق کرتی ہیں۔
ان کے 80 سالہ بیٹے ہیسن کے مطابق جب ان کی والدہ 100 برس کی ہوئیں تو مقامی حکام نے ان کی پنشن اس لیے روک دی کہ انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔ پنشن دوبارہ بحال کرانے کے لیے خاندان کو گواہوں کے بیانات سمیت متعدد ثبوت پیش کرنا پڑے۔
اب البانیہ کی حکومت نے ان کی غیرمعمولی عمر کو تسلیم کرتے ہوئے رواں ماہ کے آغاز میں ان کے لیے خصوصی سرکاری پنشن بھی مقرر کی ہے۔
طویل زندگی کا راز کیا ہے؟
کامیلے مارا کی روزمرہ زندگی پر نظر ڈالیں تو ان کی طویل عمر کا ایک ممکنہ راز ان کا سادہ اور متحرک طرز زندگی دکھائی دیتا ہے۔
وہ صبح سویرے بیدار ہوتی ہیں۔ گھر کے صحن میں جھاڑو دیتی ہیں۔ پودوں کو پانی دیتی ہیں اور مرغیوں کو دانہ ڈالتی ہیں۔ ان کاموں کے بعد وہ بیٹھ کر کافی پیتی ہیں۔
وہ اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی ہیں اور روزانہ اس کے ہمراہ چہل قدمی کے لیے بھی نکلتی ہیں۔ خوشبو انہیں خاص طور پر پسند ہے اور خوشبو سے لطف لینے کے لیے وہ اپنی جیب میں تلسی کے پتے رکھتی ہیں۔
ان کے بیٹے ہیسن کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ کی طویل عمر کا راز جو بھی ہو ایک بات حیران کن ہے کہ انہوں نے آج تک کبھی ڈاکٹر سے علاج نہیں کرایا۔
ہیسن کے مطابق ان کی والدہ ہمیشہ صحت مند زندگی گزارتی رہی ہیں اور انہوں نے کبھی کوئی دوا بھی استعمال نہیں کی۔
پانچ نسلوں کو پروان چڑھتے دیکھا
کامیلے مارا کے شوہر کو دنیا سے رخصت ہوئے 36 برس گزر چکے ہیں لیکن وہ آج بھی ان کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کو یاد کرکے مسکرا دیتی ہیں۔ ان کی شادی خاندان کی مرضی سے ہوئی تھی لیکن ان کے بقول دونوں کے درمیان بے پناہ محبت تھی۔
آج وہ اپنے خاندان کی پانچ نسلوں کو پروان چڑھتے دیکھ چکی ہیں۔ اپنے عزیزوں اور دوستوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں ان لوگوں کی یاد کے آنسو بھی آ جاتے ہیں جو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ لیکن خاندان کا کوئی فرد ان سے بات کرنے کے لیے آ جائے تو ان کے چہرے پر فوراً خوشی لوٹ آتی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنے خاندان کے افراد کو منگنی کرتے اور اپنے گھر بساتے دیکھا ہے اور جب وہ گھر آتے ہیں تو انہیں بے حد خوشی ہوتی ہے۔
کامیلے مارا کے پاس اپنی جوانی کی صرف ایک تصویر محفوظ ہے۔ تقریباً ایک صدی پرانی اس تصویر میں ایک نوجوان لڑکی سفید اسکارف اوڑھے نظر آتی ہے۔ آج 117 برس کی عمر میں بھی وہ اسی انداز کا سفید اسکارف اوڑھتی ہیں۔
تصویر کو دیکھتے ہوئے کامیلے مارا نے بتایا کہ اس وقت ان کی عمر صرف 18 برس تھی۔
ایک صدی سے زیادہ پرانی اس تصویر اور آج کی 117 سالہ کامیلے مارا کے درمیان سب سے نمایاں چیز شاید یہی سفید اسکارف ہے۔ وقت نے ان کی زندگی سے بے شمار لوگ اور یادیں چھین لی ہیں لیکن زندگی کے لیے ان کی محبت آج بھی برقرار ہے۔