اے آئی سے کام تیز، مگر گہری تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ: رپورٹ

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 21-10-2026
اے آئی سے کام تیز، مگر گہری تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ: رپورٹ
اے آئی سے کام تیز، مگر گہری تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ: رپورٹ

 



لندن: ہندوستان کے بیشتر طلبہ اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ان کے کام تو تیزی سے مکمل ہو رہے ہیں، لیکن وہ مضامین کو گہرائی سے سمجھنے اور سیکھنے میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔ برطانیہ میں اس ہفتے جاری ہونے والی ایک نئی عالمی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ ’ایچ پی فیوچرز 2026‘ رپورٹ کے لیے دنیا بھر میں 6 ہزار سے زیادہ طلبہ کے درمیان ایک سروے کیا گیا، جس میں ہندوستان کے 758 طلبہ بھی شامل تھے۔ سروے میں شامل 82 فیصد ہندوستانی طلبہ نے کہا کہ پڑھے ہوئے مواد کو طویل عرصے تک یاد رکھنے کے لیے وہ اب بھی روایتی طریقے اختیار کرتے ہیں، مثلاً مطالعے کے مواد کا پرنٹ نکالنا یا ہاتھ سے نوٹس لکھنا۔

سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہندوستانی طلبہ مستقبل کی ملازمتوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی انداز میں سوچنے کی مہارت کو بھی اہم سمجھتے ہیں۔ ایچ پی کے چیف کمرشل آفیسر اور ایچ پی فیوچرز کے صدر ڈیوڈ میک کیوری نے کہا، ’’اساتذہ، پالیسی سازوں اور ملازمت فراہم کرنے والوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو زندگی اور پیشہ ورانہ سفر کے دوران سامنے آنے والے مواقع اور چیلنجوں کے لیے تیار کریں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جس تیزی سے سیکھنے اور کام کرنے کے طریقوں کو تبدیل کر رہی ہے، اس کے پیش نظر یہ ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگئی ہے۔

تعلیمی نظام کو طلبہ میں ایسی صلاحیتیں پیدا کرنے، انہیں بروئے کار لانے اور مسلسل بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے، جو ٹیکنالوجی میں تبدیلی کے باوجود کارآمد رہیں۔ اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی ایچ پی نے گلوبل لرننگ کونسل اور ایجوکیشن لیڈرز فورم کے اشتراک سے یہ رپورٹ تیار کی ہے۔ اس میں تعلیم، پالیسی سازی اور مستقبل کی ملازمتوں سے وابستہ 58 ماہرین کی رائے بھی شامل کی گئی۔ رپورٹ کا مقصد یہ جائزہ لینا تھا کہ تعلیمی نظام نوجوانوں کو مستقبل کی ملازمتوں کے لیے کس طرح تیار کرسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہونے کے خدشات کے باوجود ہندوستانی طلبہ مصنوعی ذہانت پر مبنی دنیا میں اپنے مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں۔

سروے میں شامل 78 فیصد طلبہ کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت جتنی ملازمتیں ختم کرے گی، اس سے زیادہ نئے روزگار کے مواقع پیدا کرے گی۔ اسی طرح 87 فیصد طلبہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ سفر میں اے آئی کے آلات کو مؤثر اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کرسکیں گے، جبکہ 92 فیصد طلبہ کا ماننا ہے کہ ان کی تعلیم انہیں عملی زندگی اور ملازمتوں کے لیے تیار کر رہی ہے۔ ایچ پی میں تعلیمی کاروبار اور حکمت عملی کے ڈائریکٹر اور عالمی سربراہ میانک ڈھینگرا نے کہا، ’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہندوستانی طلبہ نے خبردار کیا ہے کہ انہیں اے آئی کے استعمال پر اعتماد ہے اور اس سے کام تیزی سے مکمل کرنے میں مدد مل رہی ہے، لیکن انہیں یہ تشویش بھی ہے کہ وہ مضامین کو گہرائی سے نہیں سیکھ پا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ نصاب اور امتحانی نظام کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کرتے وقت طلبہ کی آواز کو بنیادی اہمیت دینا ضروری ہے۔

رپورٹ میں ہندوستان سمیت دنیا بھر کے پالیسی سازوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مستقبل کے کام کی جگہوں کے لیے ضروری مہارتیں پیدا کرنے کے سلسلے میں واضح منصوبے تیار کریں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی سوچ جیسی مہارتوں کو دیگر تعلیمی مضامین سے کم اہمیت نہیں دی جانی چاہیے اور نہ ہی انہیں صرف نصابی سرگرمیوں سے ہٹ کر ہونے والی سرگرمیوں تک محدود رکھا جانا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق، تعلیمی نظام میں پڑھنے، لکھنے، حساب کتاب کرنے اور شخصیت کی نشوونما سے متعلق تعلیم کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ بنیادی معلومات اور طویل عرصے تک کارآمد رہنے والی مہارتیں سکھانے کے لیے تخلیقی اور عملی طریقے بھی اختیار کیے جانے چاہییں۔