مکہ مکرمہ : بم دھماکے کی افواہوں کے بعد سعودی عرب نے مسجد الحرام پر کسی بھی حملے کی تردید کی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز گردش کر رہی تھیں جن میں مبینہ خودکش بمبار کو سعودی حکام کی حراست میں دکھانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔مکہ مکرمہ میں بم دھماکے کی افواہوں کے درمیان سعودی عرب نے جمعہ کو مسجد الحرام پر کسی بھی حملے کی تردید کی ہے۔
یہ وضاحت مکہ مکرمہ میں ایک شخص کی گرفتاری کے بعد سامنے آئی ہے۔ گزشتہ کئی گھنٹوں سے انٹرنیٹ پر ایسی ویڈیوز گردش کر رہی تھیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ان میں ایک مشتبہ خودکش بمبار کو سعودی حکام گرفتار کرکے لے جا رہے ہیں۔ تاہم سعودی وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ اس شخص کی گرفتاری کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
سعودی وزارت داخلہ نے عربی زبان میں جاری بیان میں کہا کہ:
’’مکہ مکرمہ کے سکیورٹی حکام نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جو راہ گیروں کو ہراساں کر رہا تھا اور ان کے درمیان خوف و ہراس پھیلا رہا تھا۔ واقعے کے وقت ہی اس کے خلاف فوری کارروائی کی گئی اور ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا۔‘‘
وزارت داخلہ نے مزید کہا کہ واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ معلومات حاصل کرنے کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر ہی اعتماد کیا جائے۔
🚨 FACT CHECK | Makkah 🕋
— Rabia Malik (@rabiatalks) October 2, 2026
The viral video from Masjid al-Haram is real and has been widely circulated, but claims that it was a suicide bombing are FALSE.
There is no credible evidence of any suicide attack. Please don’t spread unverified claims about the holiest place in… pic.twitter.com/Ud1KCUoYVR
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب ایران کی حمایت یافتہ یمن میں سرگرم حوثی ملیشیا کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع سے دوچار ہے۔ حوثی ملیشیا گزشتہ کئی ہفتوں سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہی ہے۔
گزشتہ ماہ سعودی عرب نے حوثی باغیوں پر مکہ مکرمہ، جو اسلام کا مقدس ترین شہر ہے، پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ سعودی عرب نے جمعرات کو یہ بھی کہا تھا کہ حوثی باغیوں نے مسلمانوں کے دوسرے مقدس ترین شہر مدینہ منورہ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
حوثی باغیوں کے خلاف سعودی قیادت والے اتحاد نے الزام لگایا ہے کہ یمنی باغیوں نے مدینہ منورہ میں بجلی کی ایک تنصیب کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں نصب ایک ٹرانسفارمر نے کام کرنا بند کر دیا۔
مسجد الحرام پر خودکش حملے کی کوشش سے متعلق ویڈیوز کے دعوے
سعودی حکومت کی وضاحت اس وقت سامنے آئی جب مسجد الحرام میں مبینہ خودکش حملے کی کوشش سے متعلق ویڈیوز کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر لاکھوں مرتبہ دیکھا گیا۔
ان ویڈیوز کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ان میں ایک مشتبہ خودکش بمبار کو سعودی حکام اپنی تحویل میں لے کر جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ مشتبہ بمبار نے مسجد الحرام کے مرکز میں واقع خانہ کعبہ کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی تھی۔ خانہ کعبہ مسلمانوں کے نزدیک دنیا کا مقدس ترین مقام ہے۔
تاہم سعودی وزارت داخلہ نے ان تمام دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
سعودی عرب میں فی الحال حکومت کے خلاف کوئی مسلح بغاوت جاری نہیں ہے، تاہم ماضی میں وہاں حکومت مخالف حملے ہوتے رہے ہیں۔
سنہ 1979 میں سعودی شاہی خاندان کی حکومت کے مخالف سیکڑوں مسلح افراد نے مسجد الحرام پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس گروہ کی قیادت جہیمان العتیبی کر رہا تھا۔ اس نے اپنے بہنوئی محمد بن عبداللہ القحطانی کو مہدی موعود قرار دیا تھا۔اسلامی عقیدے کے مطابق مہدی ایک ایسی شخصیت ہیں جو قیامت سے پہلے دنیا میں تشریف لائیں گے اور عدل و انصاف قائم کریں گے۔
مسجد الحرام پر مسلح افراد کا قبضہ تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہا۔ بالآخر پاکستانی فوج نے سعودی فورسز اور فرانسیسی مشیروں کے ساتھ مل کر مسجد الحرام کو مسلح افراد کے قبضے سے آزاد کرایا۔
اس کارروائی کے دوران فوجی اہلکاروں، مسلح افراد اور زائرین سمیت سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں محمد بن عبداللہ القحطانی بھی شامل تھا، جبکہ جہیمان العتیبی نے بعد میں ہتھیار ڈال دیے۔واقعے کے چند ہفتوں بعد جہیمان العتیبی کو بھی ہتھیار ڈالنے والے درجنوں دیگر مسلح افراد کے ساتھ سزائے موت دے دی گئی۔