افریقہ ہمارے دلوں میں بستا ہے، آنے والی نسلوں کے لیے شراکت کریں گے: جے شنکر

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 07-10-2026
افریقہ ہمارے دلوں میں بستا ہے، آنے والی نسلوں کے لیے شراکت کریں گے: جے شنکر
افریقہ ہمارے دلوں میں بستا ہے، آنے والی نسلوں کے لیے شراکت کریں گے: جے شنکر

 



اکرا: ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہندوستان اور افریقہ کو طویل مدتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپلائی چین میں لچک، اسٹریٹجک خودمختاری اور ’گلوبل ساؤتھ‘ میں تعاون جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے دونوں فریقوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ جے شنکر نے منگل کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’افریقہ ہمارے دل میں بستا ہے اور ہم ایسی شراکت داری کریں گے جو صرف آج کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ہو۔‘

‘ انہوں نے یہ بات گھانا کے فارن سروس انسٹی ٹیوٹ میں ایک پروگرام سے خطاب کے بعد کہی۔ جے شنکر منگل کو گھانا پہنچے۔ یہ تین افریقی ممالک کے ان کے دورے کا پہلا پڑاؤ ہے۔ اس کے بعد وہ کوٹ دیوار اور ایتھوپیا جائیں گے۔ وزیر خارجہ نے گھانا کے اپنے ہم منصب سیم اوکودجیٹو ابلاکوا سے ملاقات کی۔ اس دوران دونوں ممالک نے کثیر ملکی تعاون اور افریقی یونین اور ایکواس (مغربی افریقی ممالک کی اقتصادی برادری) کے ساتھ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ جے شنکر نے گھانا کے صدر جان ڈرامانی مہاما سے بھی ملاقات کی اور دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات میں آنے والی تیزی پر بات چیت کی۔

جے شنکر نے کہا کہ انہوں نے گھانا کے وزیر خارجہ ابلاکوا کے ساتھ وسیع پیمانے پر بات چیت کی۔ منگل کو ہونے والی ملاقات کے بعد انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’’گلوبل ساؤتھ کے شراکت داروں کے طور پر ہندوستان اور گھانا دونوں کی ترقی سے متعلق خواہشات اور تاریخی یکجہتی یکساں ہے۔‘‘ دونوں وزرا نے تجارت، سرمایہ کاری، ترقی، ادویات، صلاحیت سازی، دفاع، ٹیکنالوجی اور عوامی سطح پر باہمی روابط کے شعبوں میں وسیع شراکت داری کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔

جے شنکر نے کہا، ’’ہم نے اپنے کثیر ملکی تعاون کو آگے بڑھانے اور افریقی یونین اور ایکواس کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی بات کی۔‘‘ گھانا ایکواس کا بانی رکن ہے۔ یہ 15 ارکان پر مشتمل علاقائی تنظیم ہے جو پورے مغربی افریقہ میں اقتصادی، سماجی اور سیاسی انضمام کے لیے کام کرتی ہے۔ ابلاکوا نے ’ایکس‘ پر کہا، ’’گھانا اور ہندوستان اب اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔

گزشتہ سال وزیر اعظم نریندر مودی کے سرکاری دورے کے دوران ہمارے دوطرفہ تعلقات کو ’جامع شراکت داری‘ کی سطح تک پہنچایا گیا تھا۔‘‘ دونوں ممالک نے تعلیمی، سائنسی تحقیق اور صلاحیت سازی میں تعاون کے لیے ’زولوجیکل سروے آف انڈیا‘ اور گھانا یونیورسٹی کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت کا تبادلہ بھی کیا۔ دونوں وزرا کی موجودگی میں زرعی تحقیق اور تعلیم کے شعبے میں تعاون کے لیے نئی دہلی میں قائم ’انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ‘ اور ’سی ایس آئی آر-کروپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، گھانا‘ کے درمیان بھی مفاہمت کی ایک یادداشت کا تبادلہ کیا گیا۔

اس سے قبل جے شنکر نے صدر مہاما سے ملاقات کی اور ہندوستان-گھانا تعلقات میں آنے والی مضبوطی پر تبادلہ خیال کیا۔ جے شنکر نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’آج دوپہر گھانا کے صدر جان ڈرامانی مہاما سے ملاقات کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہیں صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے دلی نیک خواہشات پیش کیں۔‘

‘ انہوں نے کہا، ’’ہم نے گزشتہ سال وزیر اعظم مودی کے تاریخی دورے کے بعد ہندوستان-گھانا شراکت داری میں آنے والی مضبوطی اور مثبت پیش رفت پر بات کی۔ گھانا کی ترقی کے لیے صدر مہاما کے وژن کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں ہماری جامع شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے ان کے مثبت رویے کی بھی میں قدر کرتا ہوں۔‘‘ جے شنکر نے کہا کہ خارجہ پالیسی کا نقطۂ نظر اسٹریٹجک خودمختاری سے رہنمائی حاصل کرنے والا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارا ماننا ہے کہ شراکت داریاں ہمارے اختیارات کو وسیع کرنے والی ہونی چاہئیں، انہیں محدود کرنے والی نہیں۔‘‘