کابل۔ افغانستان نے پاکستانی فضائی اور ڈرون حملوں کے بعد سنگین نتائج کی وارننگ دی ہے۔ افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے قندھار۔ پکتیا اور خوست صوبوں میں کیے گئے تازہ حملوں میں 4 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ پاکستانی فوج نے گزشتہ رات ایک بار پھر افغان علاقوں میں داخل ہو کر فضائی حملے اور بمباری کی۔ انہوں نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان میں 4 افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
افغان ترجمان نے کہا کہ افغانستان پاکستانی کارروائیوں کا جواب دینے کے لیے فیصلہ کن موقف اختیار کرے گا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے حملوں کے جواز کو بھی مسترد کیا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے ڈرون اس کی حدود میں داخل ہوئے تھے جس کے جواب میں کارروائی کی گئی۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں افغان عوام میں غصہ پیدا کریں گی اور پاکستانی فوج کے لیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے افغان سرزمین پر فضائی حملے کر رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے کہا ہے کہ اس نے جمعرات کو افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کیے۔ پاکستان کے مطابق یہ کارروائی افغانستان سے ایک روز قبل بھیجے گئے ڈرونز کے جواب میں کی گئی۔پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر بیان میں کہا کہ پاکستان نے اپنے خود مختار دفاع کے حق کے تحت افغانستان میں ان 10 مقامات کو نشانہ بنایا جہاں مبینہ طور پر ڈرونز کو لانچ اور ذخیرہ کیا جاتا تھا۔ ان کے مطابق کارروائیاں فوجی اہداف تک محدود رہیں جو پاکستان پر ہونے والے مبینہ حملوں سے براہ راست منسلک تھے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ کارروائیاں دانستہ۔ درست اور محدود نوعیت کی تھیں اور صرف ان فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن کی شناخت کی گئی تھی۔ انہوں نے افغانستان سے ڈرونز کی مبینہ دراندازی کو پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے افغانستان سے آنے والے ڈرونز کو ان کے ممکنہ اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا تھا۔ ڈان کے حوالے سے سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ افغانستان سے لانچ کیے گئے 8 ڈرونز بدھ کو طورخم سرحد اور کوہاٹ کے قریب پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے جنہیں بعد میں مار گرایا گیا۔
تازہ کارروائیوں سے قبل بھی رواں ہفتے افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں کی ایک اور کارروائی سامنے آئی تھی۔ ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو کنڑ اور پکتیکا صوبوں میں پاکستانی فضائی حملوں کے بعد مناسب جواب دینے کی وارننگ دی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ حملوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔افغان ترجمان کے مطابق کنڑ میں 3 شہری ہلاک اور 4 زخمی ہوئے تھے جبکہ پکتیکا میں ایک مکان اور مقامی دکان کو نقصان پہنچا تھا۔ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
TOLOnews نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ پاکستانی لڑاکا طیاروں نے پیر کی صبح افغانستان کے مختلف علاقوں میں حملے کیے۔ رپورٹ کے مطابق پکتیکا کے برمل ضلع کے رخہ اور تورکندی علاقوں کو الگ الگ حملوں میں نشانہ بنایا گیا جبکہ کنڑ میں ایک حملے میں 3 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پار کشیدگی کے دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے کی سرزمین سے ہونے والے مبینہ حملوں اور فوجی کارروائیوں کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ تازہ واقعات نے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔