تہران: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ جاری رہتی ہے تو ایران کے پاس جواب دینے کے لیے ضروری صلاحیتیں اور وسائل موجود ہیں۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق رضائی نے یہ بیان جمعرات کو دیا۔
آئی آر آئی بی کے مطابق رضائی نے کہا کہ ایران سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے بشرطیکہ اس کے ذریعے فوجی کارروائی کے نتائج اور اس کی قیمت کا احساس دلایا جا سکے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تہران مزید تصادم کے لیے بھی تیار ہے۔ایرانی نشریاتی ادارے کے ٹیلی گرام پر جاری بیان کے مطابق رضائی نے کہا کہ سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کے خلاف کارروائی کی ایک قیمت ہے۔ اگر سفارت کاری کے ذریعے اس حقیقت کا ادراک پیدا کیا جا سکتا ہے تو ایران اسے ترجیح دے گا لیکن اگر جنگ جاری رہی تو ایران کے پاس جواب دینے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں۔
رضائی نے دعویٰ کیا کہ ایران نے تنازع کے گزشتہ مراحل میں اپنی تمام صلاحیتیں استعمال نہیں کی تھیں۔ ان کے مطابق جنگ کی شدت کے تناسب سے ایران اپنی مزید صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ مراحل میں ایران نے اپنے تمام وسائل استعمال نہیں کیے تھے۔ جنگ کی شدت کے مطابق مزید صلاحیتوں کو فعال کیا گیا اور ایران اگلے مرحلے کے لیے بھی تیار ہے۔
عالمی توانائی منڈیوں پر طویل مدتی اثرات کا انتباہ
محسن رضائی نے خبردار کیا کہ موجودہ تنازع جاری رہنے کی صورت میں عالمی توانائی منڈیوں پر طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال برقرار رہی تو اس کے تزویراتی نتائج سامنے آئیں گے اور اگلے تین برس تک توانائی کی منڈیاں پرسکون نہیں ہو سکیں گی۔انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جنگ نے خطے کی سیاسی صورت حال کو ایران کے حق میں تبدیل کر دیا ہے اور خلیجی ممالک تہران کے ساتھ اپنے تعلقات پر ازسرنو غور کر رہے ہیں۔
رضائی کے مطابق جنگ جاری رہنے سے علاقائی تعلقات کی نوعیت ایران کے حق میں تبدیل ہوئی ہے اور خلیجی ممالک تیزی سے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کی نئی سمت متعین کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک اب خطے میں اپنے فوجی اڈوں کے تحفظ کے لیے امریکہ کی صلاحیت پر بھی سوال اٹھانے لگے ہیں۔ ان کے بقول ان ممالک کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ امریکی فوج اپنے اڈوں کا دفاع کرنے کی بھی پوری صلاحیت نہیں رکھتی حالانکہ یہی ممالک توقع کرتے تھے کہ امریکہ ان کے ممالک کا دفاع کرے گا۔
آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت پر ایرانی پاسداران انقلاب کی وارننگ
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ بارودی سرنگوں سے متاثرہ سمندری راستے سے جہازوں کو گزرنے کی ترغیب دینے سے باز رہے۔پاسداران انقلاب کی بحریہ کی کمان سے منسوب ایک بیان میں واشنگٹن پر الزام لگایا گیا کہ وہ بارودی سرنگوں کی موجودگی کے باوجود جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو تصادم کا دائرہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں تک پھیل سکتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ امریکی حکومت کی جانب سے جہازوں کو غیر قانونی طور پر بارودی سرنگوں سے متاثرہ راستے سے گزرنے کی ترغیب دینے پر اصرار کے باعث سمندری حادثات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی فوج کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر یہ طرز عمل جاری رہا تو تصادم کا دائرہ خطے میں اس کے فوجی اڈوں تک پھیل جائے گا۔ بیان میں اسے ایک سنگین انتباہ قرار دیا گیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیج فارس کے شمالی حصے میں تیل لے جانے والے چار جہازوں کو نشانہ بنا کر آگ لگا دی جبکہ آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں تین دیگر جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔پاسداران انقلاب کی بحریہ نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ ان چار جہازوں نے متعلقہ بحری کمپنیوں کو انتباہ دیے جانے کے باوجود پہلے ایک غیر قانونی راستے سے گزرنے کی کوشش کی تھی۔
ٹرمپ کا ایران کے ساتھ مذاکرات سے انکار
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو مقامی وقت کے مطابق کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا اور بہت جلد کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے نیوز نیشن کی وائٹ ہاؤس نامہ نگار لبی ڈین سے گفتگو کے دوران ٹرمپ سے تہران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے ابتدا میں کچھ سرگرمیوں کا اعتراف کیا تاہم نتائج کے بارے میں غیر یقینی کا اظہار کیا۔ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رہنے سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ کچھ سرگرمیاں ہوئی ہیں لیکن دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ایرانی حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کر دیے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم مذاکرات نہیں کر رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی نہ کسی صورت میں کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا اور یہ بہت جلد ہو سکتا ہے۔گفتگو کے دوران ٹرمپ نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان صورت حال کو ایران کے خلاف ایک محدود تصادم قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ امریکہ فوجی اور معاشی دونوں محاذوں پر بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکی پابندیوں نے ایران کے ساتھ اصل معاملے کو ختم کر دیا ہے اور امریکہ فوجی و مالیاتی اعتبار سے ایران کے خلاف اچھی پوزیشن میں ہے۔تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ بہت جلد کس کارروائی یا پیش رفت کی توقع کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایران کے حوالے سے امریکی حکومت کے اگلے اقدامات کے لیے بھی کوئی حتمی وقت نہیں بتایا۔
ایران پر نئے حملوں کی تیاریوں کی اطلاعات
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں۔دوسری جانب مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان تہران نے ایک ایسے ہتھیار کی نقاب کشائی کی دھمکی دی ہے جسے وہ ’’تمام بموں کا باپ‘‘ قرار دیتا ہے۔ ان بیانات اور دعوؤں کے درمیان خطے میں فوجی تصادم کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔