پروین سید: ہزاروں خواتین کے خوابوں کو نئی اڑان دینے کا عزم

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 08-11-2026
صرف 2500 روپے سے کاروبار کا آغاز۔ آج ہزاروں خواتین کے خوابوں کو دے رہی ہیں نئی اڑان
صرف 2500 روپے سے کاروبار کا آغاز۔ آج ہزاروں خواتین کے خوابوں کو دے رہی ہیں نئی اڑان

 



بھکتی الک

اپنا کاروبار شروع کرنا اور اسے کامیابی سے آگے بڑھانا بذات خود ایک بڑا چیلنج ہے۔ لیکن اس کاروبار کو دوسروں کے لیے روزگار اور خودمختاری کا ذریعہ بنا دینا اس سے بھی بڑا کارنامہ ہے۔ پونے کی پروین سید نے اپنی محنت اور عزم سے یہی مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے محض 2500 روپے سے کپڑوں کا کاروبار شروع کیا تھا جو آج ’ہیرا بوتیک‘ کے نام سے ایک نمایاں پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے وہ نہ صرف خود مالی طور پر مستحکم ہوئیں بلکہ ہزاروں خواتین کو اپنے کاروبار کے لیے مواقع بھی فراہم کیے۔پونے سے شروع ہونے والا ان کا یہ سفر ممبئی اور آسٹریلیا سے ہوتا ہوا اندور احمد آباد لکھنؤ اور بنارس تک پہنچا اور اب دبئی میں بھی اپنی شناخت بنانے کی تیاری کررہا ہے۔ پروین کی کامیابی کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنی ترقی کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھنا چاہتیں بلکہ دوسری خواتین کو بھی اپنے ساتھ آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔

بچپن سے ہی کاروبار کا ماحول

پروین سید نے اپنا بچپن ممبئی میں گزارا اور دسویں جماعت تک اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کی۔ کم عمری میں شادی کے بعد وہ پونے منتقل ہوگئیں جہاں گزشتہ 32 برسوں سے مقیم ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ آسٹریلیا میں بھی تقریباً 6 سے 7 سال گزارے۔کاروبار سے ان کا تعلق کوئی نیا نہیں تھا۔ ان کے والدین دھاگے کا کاروبار کرتے تھے اور گجروں میں استعمال ہونے والا دھاگہ تیار کرتے تھے۔ گھر میں کاروباری سرگرمیاں جاری رہتی تھیں اور بچوں کو بھی اس کام میں شامل کیا جاتا تھا۔ ان دنوں دھاگہ تیار کرنے کے لیے چرخی کا استعمال ہوتا تھا۔ پروین نے بھی بچپن میں چرخی چلائی اور اپنے والدین کے ساتھ کام کیا۔ یوں محنت اور کاروبار کا شوق ان کی شخصیت کا حصہ بنتا چلا گیا۔

شادی کے بعد جب وہ پونے آئیں تو ممبئی کی مصروف زندگی کی عادی ہونے کے باعث انہیں فارغ وقت گزارنا مشکل محسوس ہوتا تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ خود کو کسی ایسے کام میں مصروف رکھیں جس سے انہیں مالی خودمختاری بھی حاصل ہو۔ اسی سوچ نے انہیں کپڑوں کے کاروبار کی طرف راغب کیا۔آج سے تقریباً 30 سال پہلے مسلم خواتین کے لیے گھر سے باہر نکل کر کاروبار شروع کرنا آسان نہیں تھا۔ انہیں سماجی سوالات اور کئی طرح کے خدشات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ کاروبار چلے گا یا نہیں۔ گاہک ملیں گے یا نہیں۔ لوگ کیا کہیں گے۔ لیکن پروین نے ان اندیشوں کو اپنے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ان کے سسرال کا گھر پونے کے گنیش پیٹھ علاقے میں تھا۔ انہوں نے وہیں سے اپنے کاروبار کی بنیاد رکھی۔ ممبئی سے 2500 روپے کے دوپٹے خرید کر لائیں اور انہیں فروخت کرنا شروع کردیا۔ پہلی ہی کوشش میں اچھا ردعمل ملا۔ اس کے بعد انہوں نے حاصل ہونے والے منافع سے مزید سامان خریدا۔ دیکھتے ہی دیکھتے 2500 روپے کا سرمایہ بڑھ کر 3000 روپے اور پھر 5000 روپے تک پہنچ گیا۔

آسٹریلیا میں بھی تعلیم اور ملازمت کا سفر

پونے میں تقریباً 2 سے 3 سال کاروبار کرنے کے بعد پروین اپنے شوہر کے ساتھ آسٹریلیا چلی گئیں جہاں ان کے شوہر ملازمت کرتے تھے۔ تاہم انہوں نے وہاں بھی خود کو مصروف رکھا اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے پر توجہ دی۔انہوں نے انگریزی زبان اور کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ بچوں کی دیکھ بھال اور نرسری سے متعلق کورس بھی مکمل کیا۔ بعد میں انہیں آسٹریلیا میں ملازمت کا موقع ملا اور انہوں نے اس شعبے میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔تقریباً 6 سے 7 سال بعد خاندان واپس پونے آگیا۔ پروین نے ایک بار پھر اپنے کپڑوں کے کاروبار کو نئے سرے سے شروع کیا۔ وقت کے ساتھ اس کاروبار کو ’ہیرا بوتیک‘ کا نام ملا اور گاہکوں کا اعتماد بڑھنے کے ساتھ اس کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔لیکن 2020 کے لاک ڈاؤن نے کاروبار کی دنیا کو یکسر بدل دیا۔ بازار بند ہوگئے اور متوسط طبقے کے متعدد خاندانوں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پروین خود بھی متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھیں اور ان خواتین کی پریشانیوں کو اچھی طرح سمجھتی تھیں جو گھر بیٹھے کچھ کام کرکے اپنی آمدنی بڑھانا چاہتی تھیں۔انہوں نے محسوس کیا کہ پونے میں ایسی خواتین کے لیے اپنے گھریلو کاروبار کو آگے بڑھانے کے مناسب مواقع محدود ہیں۔ چنانچہ لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی انہوں نے ان خواتین کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم قائم کرنے کا فیصلہ کیا جہاں وہ اپنی مصنوعات فروخت کرسکیں اور گاہکوں تک براہ راست پہنچ سکیں۔

12 اسٹالز سے شروع ہوا کامیابی کا سفر

پروین نے پہلی نمائش اپنے گھر کے باہر ایک کھلی جگہ پر منعقد کی۔ اس میں ابتدائی طور پر صرف 12 اسٹالز لگائے گئے۔ ہر اسٹال کے لیے وہ روزانہ 500 روپے وصول کرتی تھیں۔ انہوں نے اپنے جاننے والوں اور پرانے گاہکوں تک اس نمائش کی اطلاع پہنچائی اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ان خواتین کے اسٹالز پر آکر خریداری کریں۔یہ دو روزہ نمائش توقع سے زیادہ کامیاب رہی۔ خواتین کی مصنوعات فروخت ہوئیں اور انہیں پہلی بار احساس ہوا کہ وہ بھی اپنے ہنر کو کاروبار میں تبدیل کرسکتی ہیں۔ گاہکوں کی جانب سے ملنے والے اچھے ردعمل نے ان کے اندر موجود خوف کو کم کیا اور انہیں اعتماد دیا کہ وہ اپنے طور پر کاروبار چلا سکتی ہیں۔

یہی چھوٹی سی کوشش آگے چل کر ایک بڑے پلیٹ فارم کی بنیاد بن گئی۔ آج ہزاروں خواتین اس پلیٹ فارم سے وابستہ ہیں۔ ان میں کئی ایسی خواتین ہیں جنہوں نے گھر سے چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کیا تھا اور اب اپنی دکانیں قائم کرچکی ہیں۔ کچھ نے کرائے پر جگہ حاصل کی ہے تو کچھ نے اپنی مستقل دکانیں کھول لی ہیں۔پروین کا مقصد صرف خواتین کو نمائشوں میں اسٹال فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں اپنی الگ کاروباری شناخت بنانے کے قابل بنانا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ہر خاتون کا اپنا برانڈ ہو اور اس کی دکان کے باہر اس کے برانڈ کا نام نمایاں طور پر لکھا ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ خواتین کو صرف اسٹال تک محدود نہیں رکھنا چاہتیں بلکہ انہیں مستقل دکانوں اور کامیاب کاروبار کی منزل تک پہنچانا چاہتی ہیں۔ ان کے نزدیک خواتین کو صرف اپنے اندر اعتماد اور آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔آج اس پلیٹ فارم سے وابستہ کئی خواتین اپنے برانڈ قائم کرچکی ہیں۔ جو خواتین کبھی کاروبار شروع کرنے سے گھبراتی تھیں وہ اب اعتماد کے ساتھ اپنے اسٹورز چلاتی ہیں۔ گاہکوں سے بات کرتی ہیں اور اپنے کاروباری فیصلے خود لیتی ہیں۔

خواتین کے ہنر کو نئی پہچان دینے کی کوشش

ہیرا بوتیک کی نمائشوں میں صرف کپڑوں اور زیورات کے اسٹالز ہی نہیں لگتے بلکہ مہندی آرٹسٹوں۔ میک اپ آرٹسٹوں۔ درزیوں اور آرٹ و کرافٹ سے وابستہ ہنرمندوں کو بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔پروین خاص طور پر بچوں کو موبائل فون کی بڑھتی ہوئی عادت سے دور رکھنے کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ ان کی نمائشوں میں بچوں کے لیے آرٹ اینڈ کرافٹ اور مختلف تخلیقی سرگرمیوں کے اسٹالز لگائے جاتے ہیں تاکہ بچے موبائل فون کے بجائے نئی چیزیں سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں وقت گزاریں۔ان کا کہنا ہے کہ آج والدین اکثر بچوں کو خاموش رکھنے کے لیے ان کے ہاتھ میں موبائل فون تھما دیتے ہیں۔ کھانے کے وقت بھی بچوں کو موبائل دیا جاتا ہے۔ اس طرح موبائل فون نے کھلونوں اور دیگر سرگرمیوں کی جگہ لے لی ہے۔ والدین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس عادت کا بچوں کی سوچ اور ذہنی نشوونما پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔

پروین کے مطابق بچوں کو موبائل سے دور رکھنے کے لیے انہیں دلچسپ اور تعمیری سرگرمیوں میں شامل کرنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت ان کی نمائشوں میں بچوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔وہ خواتین کے ان ہنروں کو بھی اہمیت دیتی ہیں جنہیں معاشرے میں اکثر معمولی کام سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک مہندی لگانا۔ سلائی کرنا اور میک اپ کے شعبے میں کام کرنا بھی باقاعدہ مہارتیں ہیں جنہیں سیکھنے کے لیے خواتین وقت اور پیسہ صرف کرتی ہیں۔ ان صلاحیتوں کو عزت اور مناسب مواقع ملنے چاہئیں۔

خواتین کو مالی خودمختاری کا مشورہ دیتے ہوئے پروین کہتی ہیں کہ دنیا میں سب سے قیمتی چیز وقت ہے۔ اگر انسان اپنے وقت کی قدر کرنا اور اسے صحیح طریقے سے استعمال کرنا سیکھ لے تو کامیابی اور دولت دونوں حاصل کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق پیسے کے پیچھے بھاگنے کے بجائے وقت اور محنت کی قدر کرنی چاہیے کیونکہ جب انسان اپنی صلاحیتوں کو بہتر بناتا ہے تو کامیابی خود اس کے پیچھے آتی ہے۔وہ پہلی بار کاروبار شروع کرنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ کبھی اپنے کاروبار کو چھوٹا نہ سمجھیں۔ کاروبار شروع کرنے کا خیال ہی ایک بڑی بات ہے۔ انسان کو اپنی سوچ بڑی رکھنی چاہیے اور اگر ارادہ مضبوط ہو تو آگے بڑھنے کا راستہ نکل آتا ہے۔

خواتین کی آمدنی کو ترجیح۔ ہر تین ماہ بعد نمائش

اب تک پروین 25 نمائشیں منعقد کرچکی ہیں۔ 12 اسٹالز سے شروع ہونے والا یہ سفر آج 120 اسٹالز تک پہنچ چکا ہے۔ خواتین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے باعث ہر ماہ نمائش منعقد کرنے کے مطالبات بھی سامنے آئے لیکن پروین نے ہر تین ماہ بعد نمائش منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔اس فیصلے کے پیچھے ان کی ایک خاص کاروباری سوچ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ہر ماہ نمائش منعقد کرنے سے ضروری نہیں کہ گاہک بھی ہر ماہ خریداری کے لیے آئیں۔ اس طرح اسٹال لگانے والی خواتین کو مالی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ جب بھی کوئی خاتون نمائش میں حصہ لے تو اسے مناسب گاہک ملیں اور اس کی مصنوعات کی اچھی فروخت ہو۔

پروین کا کہنا ہے کہ انہیں بھی پیسوں کی ضرورت ہے اور وہ خود بھی ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں لیکن وہ ایسی خواتین سے اسٹال کی رقم لینا درست نہیں سمجھتیں جنہیں وہاں کاروبار ہی نہ ملے۔ ان کے نزدیک اصل کامیابی تب ہے جب ان کے ساتھ کام کرنے والی خواتین بھی مالی فائدہ حاصل کریں۔ان کا مقصد بڑے ایونٹس۔ اسٹیج شوز اور بھیڑ جمع کرنے کے بجائے خواتین کو حقیقی گاہک فراہم کرنا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ہر نمائش میں شریک خاتون نئے گاہک بنائے اور اپنے کاروبار کو مزید وسعت دے۔ ان کے نزدیک ترقی کا راستہ سب کو ساتھ لے کر چلنے میں ہے۔

رشتہ ہیرا۔ شادی کے خواہش مند خاندانوں کے لیے منفرد پہل

پروین کی سرگرمیاں صرف کاروباری نمائشوں تک محدود نہیں ہیں۔ گزشتہ 2 سال سے وہ ’رشتہ ہیرا‘ کے نام سے ایک منفرد میچ میکنگ پلیٹ فارم بھی چلارہی ہیں۔آج بہت سے خاندانوں کو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے مناسب رشتہ تلاش کرنے میں مالی اور ذہنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی میچ میکنگ ادارے اس کام کے لیے بھاری فیس وصول کرتے ہیں جسے متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے برداشت کرنا آسان نہیں ہوتا۔پروین نے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے ایک ایسا نظام قائم کیا ہے جس کے ذریعے لڑکے اور لڑکیوں کے پروفائل متعلقہ خاندانوں تک پہنچائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد والدین آپس میں براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مخصوص مقامات پر ملاقاتوں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جہاں خاندان ایک دوسرے سے مل کر بات چیت کرسکتے ہیں۔

اس طریقے سے بار بار سفر کرنے۔ چائے پانی اور دیگر انتظامات پر خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ درمیان میں کام کرنے والے افراد کے اضافی اخراجات سے بھی بچا جاسکتا ہے۔پروین رشتہ طے ہونے کے بعد کوئی فیس نہیں لیتیں۔ البتہ ملاقاتوں کے لیے ہال اور ناشتے کے انتظامات پر آنے والے اخراجات پورے کرنے کے لیے رجسٹریشن فیس وصول کی جاتی ہے۔ شریک خاندانوں کو 6 ماہ تک متعلقہ گروپ میں شامل رہنے کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔پروین کہتی ہیں کہ وہ رشتہ طے ہونے کے بعد ایک روپیہ بھی نہیں لیتیں۔ ان کی خواہش ہے کہ والدین خود ایک دوسرے سے بات کریں۔ بچوں کے پروفائل دیکھیں اور اپنے فیصلے خود کریں۔ انہیں اس بات سے اطمینان ملتا ہے کہ جو خاندان برسوں سے مناسب رشتے کی تلاش میں پریشان ہیں انہیں اس پلیٹ فارم کے ذریعے آسانی سے مدد مل سکتی ہے۔رشتہ ہیرا کو بیرون ملک مقیم خاندانوں کی جانب سے بھی اچھا ردعمل مل رہا ہے۔ دبئی۔ آسٹریلیا اور کینیڈا سے لوگ رابطہ کررہے ہیں۔ اسی سلسلے میں 15 نومبر کو دبئی میں رشتہ ہیرا کے ایک خصوصی پروگرام کا انعقاد بھی طے کیا گیا ہے۔

پونے کی خواتین کو دبئی کی منڈی تک پہنچانے کا خواب

پروین کے دبئی جانے کا مقصد صرف رشتہ ہیرا کے پروگرام کا انعقاد نہیں ہے بلکہ وہ پونے کی خواتین کے کاروبار کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانا بھی چاہتی ہیں۔ان کا منصوبہ ہے کہ ہیرا بوتیک کی نمائشوں میں حصہ لینے والی خواتین کو دبئی لے جایا جائے تاکہ وہ وہاں اپنے اسٹالز لگاسکیں اور اپنی مصنوعات کو بین الاقوامی گاہکوں کے سامنے پیش کرسکیں۔ان کے منصوبے کے مطابق کوئی خاتون اپنے ساتھ تقریباً 20 ملبوسات لے کر دبئی میں اسٹال لگا سکتی ہے۔ اگر وہاں کے گاہکوں کو اس کے ملبوسات پسند آتے ہیں تو ہندوستان واپس آنے کے بعد بھی آن لائن خریداری کے ذریعے کاروبار جاری رکھا جاسکتا ہے۔ اس طرح ایک گاہک سے مزید کئی گاہک بننے کے امکانات پیدا ہوں گے۔پروین کا کہنا ہے کہ کاروبار کے مواقع ہر جگہ موجود ہیں۔ ضرورت صرف ہمت کرکے پہلا قدم اٹھانے کی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ خواتین کو مختلف ممالک میں لے جاکر ان کے لیے نئی منڈیوں کے دروازے کھولے جائیں۔ہندوستان کے مختلف بڑے شہروں کی خواتین پہلے ہی ان کے پلیٹ فارم سے وابستہ ہیں۔ اب ہانگ کانگ سے بھی خواتین نے رابطہ کیا ہے اور دبئی میں ہونے والی نمائش میں شرکت کی خواہش ظاہر کی ہے۔

حجاب کے ساتھ بھی کاروبار اور اپنی شناخت ممکن

اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ مسلم خواتین تعلیم اور کاروبار کے میدان میں پیچھے ہیں یا وہ گھر کی ذمہ داریوں سے باہر نکل کر اپنی الگ شناخت قائم نہیں کرسکتیں۔ پروین سید نے اپنے عملی سفر سے ایسے تصورات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔وہ اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ مسلم خواتین حجاب اور پردے کی پابندی کرتے ہوئے بھی کاروبار کرسکتی ہیں اور اپنی صلاحیتوں کے ذریعے معاشرے میں الگ مقام بنا سکتی ہیں۔لاک ڈاؤن کے بعد انہوں نے خواتین کو کاروبار کی طرف راغب کرنے کے لیے ایک ویڈیو بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ اس ویڈیو کے بعد بڑی تعداد میں خواتین نے ان سے رابطہ کرنا شروع کیا۔ رفتہ رفتہ پونے کے کئی خاندانوں کا اعتماد بھی حاصل ہوگیا۔ابتدا میں کچھ خاندان اپنی خواتین کو نمائشوں میں بھیجنے سے ہچکچاتے تھے لیکن جب انہوں نے وہاں کا ماحول دیکھا اور خواتین کو باوقار انداز میں کام کرتے پایا تو ان کا اعتماد بھی بڑھا۔

پروین کہتی ہیں کہ اگر خواتین حجاب اور نقاب کے ساتھ اپنے کام انجام دے سکتی ہیں تو انہیں باہر نکل کر کاروبار کرنے سے کیوں گھبرانا چاہیے۔ ان کے مطابق خواتین کو بہادر بننے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہے۔ان کی نمائشوں میں خاندانی ماحول کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ شوہر۔ بھائی۔ والد اور بیٹے بھی خواتین کے اسٹالز پر ان کی مدد کرتے ہیں۔ پروین کے اپنے اہل خانہ بھی ہر پروگرام میں ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ ان خاندانوں کی حمایت کو خاص اہمیت دیتی ہیں جو اپنی خواتین کو کاروبار کرنے کے لیے اعتماد اور حوصلہ فراہم کرتے ہیں۔

وہ خواتین کو مشورہ دیتی ہیں کہ اگر ان کے خاندان نے ان پر اعتماد کرکے گھر سے باہر کام کرنے کا موقع دیا ہے تو انہیں اس اعتماد کو برقرار رکھنا چاہیے۔ کاروبار کے ساتھ خاندان کی ذمہ داریوں کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔محنت کرنے والی خواتین کے سروں پر سجائے تاج ۔پروین اپنی ہر نمائش میں کچھ نیا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایک حالیہ پروگرام میں انہوں نے برسوں سے محنت کرنے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک خصوصی تقریب منعقد کی۔اس تقریب میں انہوں نے ان خواتین کے سروں پر تاج سجائے جنہوں نے مسلسل محنت کرکے اپنی شناخت بنائی تھی۔ خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے صفائی کا کام کرنے والی خواتین کو بھی اس اعزاز میں شامل کیا۔جب ان خواتین کو تاج پہنائے گئے تو کئی خواتین جذباتی ہوگئیں اور بعض کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔

پروین کا خیال ہے کہ خواتین گھر۔ بچوں اور سسرال کی ذمہ داریوں کے ساتھ کاروبار بھی سنبھالتی ہیں لیکن ان کی محنت کو اکثر وہ پہچان نہیں ملتی جس کی وہ مستحق ہوتی ہیں۔ اس تقریب کا مقصد انہیں یہ احساس دلانا تھا کہ ان کی محنت قابل قدر ہے اور وہ بھی کسی ملکہ سے کم نہیں ہیں۔

رہنمائی اور مشاورت کا بھی اہتمام

پروین کا انداز بچوں کے ساتھ بچوں جیسا اور نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ایک دوست جیسا ہوتا ہے۔ ان کے پروگراموں میں آنے والے کئی بچے ان کے ساتھ تصویریں کھنچوانے کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔ وہ بچوں سے بات چیت کرکے ان کی دلچسپیوں اور مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں اور انہیں مثبت سمت میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔اسی طرح نوجوان لڑکیوں کے ذہنوں میں تعلیم۔ ملازمت۔ شادی اور ازدواجی زندگی سے متعلق کئی سوالات ہوتے ہیں۔ پروین ان کے ساتھ بیٹھ کر ان مسائل پر گفتگو کرتی ہیں۔ وہ ان لڑکیوں کی بھی رہنمائی کرتی ہیں جو شادی کے فیصلے۔ سسرال کی توقعات اور شوہر کی ذمہ داریوں کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہوتی ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ زندگی کے اہم فیصلے جلد بازی میں نہیں کرنے چاہئیں بلکہ ہر پہلو کے فائدے اور نقصان کو سمجھنے کے بعد ہی کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔

اس کے علاوہ 20 سال سے زیادہ عمر کی خواتین اور بزرگوں کے لیے بھی ہفتے میں ایک سے دو گھنٹے کی خصوصی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان نشستوں کا مقصد ان خواتین کو اپنی مصروف زندگی سے کچھ وقت نکالنے کا موقع دینا ہے جو گھر۔ بچوں۔ بہوؤں اور دامادوں کی ذمہ داریوں یا بیماریوں کے مسائل میں الجھی رہتی ہیں۔ان نشستوں میں خواتین ایک دوسرے سے بات کرتی ہیں۔ اپنے تجربات بانٹتی ہیں اور کھل کر ہنستی ہیں۔ پروین کے نزدیک اپنی مصروف زندگی میں خود کے لیے وقت نکالنا بھی بہت ضروری ہے۔

خاندان کی حمایت نے سفر آسان بنایا

پروین کے اس پورے سفر میں ان کے شوہر ذاکر سید اور بچوں کا اہم کردار رہا ہے۔ ان کی ایک بیٹی اور تین بیٹے ہیں۔ شادی کے بعد ہی ان کے شوہر نے ان کے اندر موجود کاروباری صلاحیت اور آگے بڑھنے کے جذبے کو پہچان لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کبھی پروین کو کام کرنے سے نہیں روکا بلکہ ہر مرحلے پر ان کا ساتھ دیا۔لاک ڈاؤن کے بعد جب نمائشوں کا دائرہ بڑھنے لگا تو ان کے شوہر اور چاروں بچوں نے ان کی بھرپور مدد کی۔ ہر نمائش جمعہ سے اتوار تک تین دن جاری رہتی ہے اور خاندان کے افراد صبح سے رات گئے تک انتظامات میں مصروف رہتے ہیں۔ اب ان کی بہو اور داماد بھی اس کام میں حصہ لیتے ہیں۔پروین کا دوسرا بیٹا کاروبار کے انتظامی معاملات سنبھالتا ہے جبکہ وہ خود خواتین سے رابطہ اور ان کی رہنمائی کرتی ہیں۔ اس طرح خاندان کے مختلف افراد اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اس کاروبار کو آگے بڑھانے میں مدد کررہے ہیں۔پروین کہتی ہیں کہ انہوں نے اس پورے سفر میں کبھی خود کو تنہا محسوس نہیں کیا۔ ان کا خاندان ہر مشکل اور ہر کامیابی میں ان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ ان کے نزدیک کسی بھی خاتون کی پیشہ ورانہ کامیابی میں خاندان کی حمایت بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اپنی ترقی کے ساتھ دوسروں کو آگے بڑھانے کا جذبہ53 سال کی عمر میں پروین سید کے پاس کاروبار کا طویل تجربہ ہے۔ گاہکوں کا اعتماد ہے اور ہزاروں خواتین پر مشتمل ایک وسیع نیٹ ورک بھی ہے۔ لیکن ان کے لیے اصل کامیابی صرف اپنے کاروبار کو وسعت دینا نہیں بلکہ دوسری خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا دیکھنا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ترقی کے کئی مراحل دیکھے ہیں۔ اب ان کی خواہش ہے کہ دوسری خواتین بھی ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلیں۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو کوئی نہ کوئی خوبی عطا کرتا ہے اور ان خوبیوں کو دوسروں کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ان کے مطابق اگر ان کی کسی کوشش سے کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے یا کسی ضرورت مند کو فائدہ پہنچتا ہے تو یہی ان کے لیے سب سے بڑی خوشی ہے۔

وہ سمجھتی ہیں کہ انسان کی زندگی صرف اپنی ذات کے لیے جینے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ہر شخص کی کوئی نہ کوئی ذمہ داری ہوتی ہے اور دوسروں کے لیے مفید بننے کے مواقع بھی ملتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مواقع کو پہچانا جائے اور ان سے فائدہ اٹھایا جائے۔50 سال کی عمر کے بعد زندگی کے بارے میں بھی ان کا نقطہ نظر مثبت ہے۔ ان کے مطابق جب بچے بڑے ہوجائیں تو میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنا چاہیے اور اپنی خوشیوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھنے کے بعد انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اب اپنی زندگی کو سکون اور خوشی کے ساتھ گزارنے کا وقت ہے۔

پروین 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ یہ سوچ کر اپنی خوشیوں کو نظر انداز نہ کریں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اس کے بجائے اپنے دل کی آواز سنیں۔ زندگی کے کئی موسم دیکھنے اور بچوں کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار زندگی گزارنے اور اپنے لیے وقت نکالنے کا حق ہے۔پروین سید کی کہانی محض 2500 روپے سے شروع ہونے والے کاروبار کی کامیابی کی داستان نہیں ہے بلکہ یہ اس سوچ کی مثال بھی ہے کہ ایک خاتون جب خود پر اعتماد کرتی ہے تو وہ دوسروں کے لیے بھی راستے کھول سکتی ہے۔ ’ہیرا بوتیک‘ آج ہزاروں خواتین کے لیے امید اور اعتماد کا پلیٹ فارم بن چکا ہے۔پروین کا خواب ہے کہ وہ اپنی کامیابی کے ساتھ دوسری خواتین کو بھی ملک کی سرحدوں سے آگے عالمی منڈیوں تک پہنچائیں۔ ان کی یہ کوشش ثابت کرتی ہے کہ اصل کامیابی صرف خود آگے بڑھنے میں نہیں بلکہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھنے میں ہے۔