عامر سہیل وانی
بعض اوقات کوئی کتاب اپنے اندر ایک پورا منظرنامہ سموئے ہوتی ہے۔ جب عنیزہ درابو کی مرتب کردہ کتاب دی بگ بک آف کشمیری لٹریچر قارئین کے سامنے پیش کی گئی تو بظاہر یہ کسی بڑے اشاعتی ادارے کی جانب سے شائع ہونے والی ایک اور خوب صورت کتاب تھی۔ لیکن جیسے جیسے اس کتاب کا مطالعہ کیا جاتا ہے، اسے محض ایک ادبی تقریب یا اشاعتی سرگرمی سمجھنا مشکل ہوتا جاتا ہے۔
اس کتاب کے صفحات میں صدیوں کی یادیں، مختلف آوازیں، گیت، آرزوئیں، مسکراہٹیں، روحانی سوالات، سماجی مشاہدات اور ایک قوم کے بدلتے ہوئے شعور کی جھلکیاں موجود ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کشمیر کا ایک وسیع اور منتشر کتب خانہ اچانک عوام کے سامنے آگیا ہو۔ اس کتب خانے کا کچھ حصہ کتابوں میں محفوظ ہے، کچھ گیتوں میں، کچھ یادوں میں اور کچھ عام لوگوں کے گھروں اور ذہنوں میں آباد ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دی بگ بک آف کشمیری لٹریچر کی اشاعت اہمیت رکھتی ہے۔ پینگوئن انڈیا کے زیر اہتمام شائع ہونے والی اس کتاب کی مرتب عنیزہ درابو ماہرِ بشریات، مصنفہ اور مترجم ہیں۔ اس مجموعے میں شاعری، گیت، لوک روایات، ڈرامے، کہانیاں، ریڈیو کے لیے تحریریں، غزلیں، مختصر افسانے اور ناولوں کے اقتباسات شامل ہیں۔ اس کا دائرہ چودھویں صدی سے لے کر موجودہ دور تک پھیلا ہوا ہے۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق یہ کتاب 664 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں تقریباً 120 تخلیقات اور بڑی تعداد میں مترجمین کا کام شامل ہے۔ تاہم، محض اعداد و شمار سے اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ پہلی مرتبہ اتنے بڑے پیمانے پر کشمیر کو موقع ملا ہے کہ وہ بیرونی دنیا کے سامنے اپنا تعارف سیاسی مباحث، خبروں یا تنازعات کی تصاویر کے بجائے اپنے ادبی تخیل کے ذریعے پیش کرے۔
ایک طویل عرصے سے کشمیر کے بارے میں زیادہ باتیں کی جاتی رہی ہیں، لیکن اس کی اپنی آواز کو کم سنا گیا ہے۔ کشمیر کو سیاست، جغرافیہ، سلامتی، سیاحت، المیوں اور تاریخ کے تناظر میں بیان کیا جاتا رہا ہے۔ یہ تمام پہلو اپنی جگہ حقیقت ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی کشمیر کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
کسی تہذیب کی شناخت صرف اس کے سیاسی حالات سے نہیں ہوتی۔ کوئی معاشرہ اپنے بچوں کو سنائی جانے والی کہانیوں، شادیوں میں خواتین کے گائے ہوئے گیتوں، محفلوں میں پڑھے جانے والے اشعار، عاشقوں کے استعاروں، صوفیوں کی دعاؤں، عام لوگوں کے لطیفوں، پرانے گھروں کی یادوں اور ان الفاظ کے ذریعے بھی اپنی شناخت ظاہر کرتا ہے جو اپنے تخلیق کاروں کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔
یہیں سے یہ کتاب ایک سماجی دستاویز کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کشمیر محض نقشے پر موجود ایک خطہ نہیں، بلکہ معانی اور احساسات کی ایک پوری دنیا ہے۔
ادب اور زندگی کے درمیان کوئی واضح لکیر نہیں
اس مجموعے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ادب اور زندگی کے درمیان کوئی سخت لکیر کھینچنے سے گریز کرتا ہے۔ کشمیر کی ادبی ثقافت تاریخی طور پر صرف کتابوں کے صفحات تک محدود نہیں رہی۔ یہاں ادب زبانی شاعری، لوک گیتوں، لوریوں، اسٹیج پر پیش کیے جانے والے فن پاروں، ریڈیو پروگراموں، خاندانی نوٹ بُکس اور ذاتی ذخائر کے ذریعے بھی نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے۔
عنیزہ درابو نے شعوری طور پر ان روایات کو کتاب میں شامل کیا ہے، کیونکہ کشمیر میں ادب اکثر ایسی چیز رہا ہے جسے لوگ سنتے، یاد رکھتے اور دوسروں تک پہنچاتے تھے، نہ کہ صرف کتابوں کی دکانوں سے خریدتے تھے۔
کتاب کے حوالے سے حالیہ مباحث میں بھی اسی پہلو پر زور دیا گیا ہے کہ کشمیری ادب کتابوں کے ساتھ ساتھ آوازوں اور یادداشتوں کے ذریعے بھی زندہ ہے۔
اس اعتبار سے یہ کتاب ایک زندہ ادبی روایت کی گواہی بھی دیتی ہے۔ کشمیری ادب کو پرانے مخطوطات اور تاریخی شخصیات کے ساتھ کسی عجائب گھر میں رکھ کر یہ سمجھ لینا آسان ہوگا کہ ہم نے اسے محفوظ کرلیا ہے، لیکن اس سے اس کتاب کی اصل اہمیت سامنے نہیں آتی۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب زبان تیزی سے تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ کشمیری زبان نے صدیوں کے دوران فارسی، سنسکرت، عربی اور پنجابی سے اثرات قبول کیے ہیں۔ آج کے دور میں روزمرہ کی گفتگو میں اردو، ہندی اور انگریزی کے الفاظ بھی تیزی سے شامل ہو رہے ہیں۔
شہری علاقوں میں کشمیری زبان کے بعض قدیم الفاظ روزمرہ استعمال سے غائب ہوتے جارہے ہیں۔ تاہم، زبان کے بارے میں یہی تشویش نوجوان کشمیریوں میں اپنی زبان اور ثقافت کو دوبارہ دریافت کرنے کا نیا جذبہ بھی پیدا کر رہی ہے۔ اس تناظر میں ترجمہ بھی اپنی زبان کی طرف واپسی کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے۔
انگریزی میں کشمیری ادب سے متعارف ہونے والا کوئی نوجوان، جو کشمیری زبان روانی سے نہیں پڑھ سکتا، ممکن ہے کہ پہلے ترجمے کے ذریعے لل دید، نند ریشی، محمود گامی، حبہ خاتون یا کسی جدید کشمیری شاعر سے واقف ہو اور پھر اصل زبان میں ان کی تخلیقات پڑھنے کی خواہش محسوس کرے۔
وادی سے باہر رہنے والا کوئی کشمیری بھی ترجمے کے ذریعے ایسی ادبی وراثت دریافت کرسکتا ہے جو ہمیشہ سے اس کے خاندان میں موجود تھی، لیکن جسے اس نے کبھی شعوری طور پر سمجھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اسی طرح کسی دوسری زبان کا قاری بھی یہ جان سکتا ہے کہ کشمیر کے پاس ایک ایسی ادبی دنیا موجود ہے جو خطے کے بارے میں عام طور پر ہونے والی گفتگو میں سامنے آنے والے ناموں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
ترجمے کے ذریعے کشمیر کا ادبی تعارف
ترجمہ کشمیر کو ان ادبی اور فکری مباحث میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے جن سے وہ اکثر دور رہا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ اب انگریزی کا کوئی قاری کشمیری نظم پڑھ سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس کے ذریعے یہ سمجھنے کے قابل بھی ہوسکتا ہے کہ ایک معاشرہ کس طرح سوچتا، یادیں محفوظ کرتا، محبت کرتا، دکھ محسوس کرتا اور اپنے وجود کا تصور تشکیل دیتا ہے؟
کشمیر کی فکری تاریخ کبھی کسی ایک روایت تک محدود نہیں رہی۔ سنسکرت کی علمی روایت، شیو فلسفہ، بدھ مت کے اثرات، فارسی ادبی ثقافت، اسلامی علوم، رشی اور صوفی روایات، لوک دانش اور جدید ادبی تحریکوں نے مل کر اس خطے کی فکری شناخت تشکیل دی ہے۔
کشمیر کا ادب ان تمام میل جول اور اثرات کو محض تاریخی حقائق کے طور پر پیش نہیں کرتا، بلکہ انہیں انسانی تجربات کی صورت میں محفوظ کرتا ہے۔ صوفیانہ شاعری، لوک گیت، سماجی طنز، جدید افسانے اور عصر حاضر کی شاعری، یہ سب ایک ہی تہذیب کے مختلف دریچے ہیں، جو مسلسل اپنے اور دنیا کے درمیان تعلق کو سمجھنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
اس لیے اس کتاب کی اہمیت اس بات میں بھی پوشیدہ ہے کہ یہ مختلف ادبی روایتوں کے درمیان مکالمے کے نئے امکانات پیدا کرتی ہے۔ ایک قاری اس کتاب میں صوفیانہ شاعری سے لوک ثقافت، عقیدت پر مبنی کلام سے جدید افسانے اور سماجی مشاہدات کی قدیم صورتوں سے لے کر نقل مکانی، یادداشت اور تبدیلی کے عصری تجربات تک کا سفر کرسکتا ہے۔
اس طرح یہ کتاب کشمیر کی کوئی ایک کہانی پیش نہیں کرتی، بلکہ مختلف آوازوں پر مشتمل ایک وسیع بیانیہ سامنے لاتی ہے۔

گمنام اور غیر معروف ادیبوں کی تخلیقات بھی شامل
اس مجموعے میں معروف ادبی شخصیات کے ساتھ ساتھ کم معروف اور بعض اوقات غیر مطبوعہ تخلیقات کے حامل افراد کی تحریریں بھی شامل کی گئی ہیں۔ اس کتاب کے لیے کچھ مواد ذاتی ذخائر اور خاندانی تعلقات کے ذریعے حاصل کیا گیا۔ بعض تخلیق کار موسیقار، صوفی یا عام لوگ تھے، جنہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ ان کا کام کسی بڑے ادبی مجموعے کا حصہ بنے گا۔
اس پہلو سے یہ منصوبہ ایک جمہوری ادبی تصور بھی پیش کرتا ہے۔ کشمیر کا ادبی ورثہ صرف چند مشہور مصنفین کی ملکیت نہیں، بلکہ ان گمنام اور فراموش کردہ آوازوں کا بھی حصہ ہے جن کے ذریعے ثقافت خاموشی سے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی ہے۔
کسی ماں کی نوٹ بک میں لکھی ہوئی نظمیں، کسی خاندان میں محفوظ گیت، کسی بزرگ کو یاد رہ جانے والا شعر یا کسی پرانے مجموعے میں چھپی ہوئی کہانی، تاریخ کی بڑی یادگاروں کے مقابلے میں شاید معمولی دکھائی دیں، لیکن درحقیقت تہذیب انہی چیزوں کے ذریعے زندہ رہتی ہے۔
بادشاہ اپنے پیچھے تاریخ کی کتابیں چھوڑ جاتے ہیں، جب کہ عام لوگ زبان اور الفاظ کی صورت میں اپنی وراثت محفوظ کرتے ہیں۔
ترجمے کی اپنی حدود اور اہمیت
حالیہ ادبی تنقید میں بجا طور پر اس بات کی نشان دہی کی گئی ہے کہ ترجمہ کبھی مکمل طور پر غیر جانب دار عمل نہیں ہوتا۔ جب کشمیری زبان کے کسی لفظ یا اظہار کو انگریزی میں منتقل کیا جاتا ہے تو کچھ نہ کچھ ضرور کھو جاتا ہے، تاہم بعض نئے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔
ترجمہ شدہ نظم اصل زبان کی ہر ثقافتی معنویت، آہنگ اور جذباتی گہرائی کو مکمل طور پر منتقل نہیں کرسکتی۔ اسی طرح کوئی بھی ادبی مجموعہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس نے کسی پوری ادبی تہذیب کو اپنے اندر سمو لیا ہے۔ کسی مجموعے میں شامل ہونے والی تخلیقات کا انتخاب بھی اس بات سے متاثر ہوتا ہے کہ کون سا مواد دستیاب تھا، کیا محفوظ رہا اور کن تخلیقات تک رسائی ممکن ہوسکی۔
تاہم، یہ حدود اس کوشش کی اہمیت کو کم نہیں کرتیں، بلکہ اسے مزید انسانی اور قابل فہم بناتی ہیں۔ ترجمہ کسی متبادل کی پیش کش نہیں، بلکہ ایک دعوت ہے۔ یہ گویا ایک دروازہ کھولتا ہے اور قاری سے کہتا ہے کہ اندر آئیے، شاید اس کے بعد آپ اس گھر کی زبان بھی سیکھنے کی خواہش محسوس کریں۔
#WATCH: ‘The Big Book of Kashmiri Literature’, edited by Onaiza Drabu, launched in #Srinagar amid a strong gathering of literature enthusiasts and people from all walks of life. pic.twitter.com/J4yxzHoYcr
— Greater Kashmir (@GreaterKashmir) September 24, 2026
ایک زندہ تہذیب کی ادبی تصویر
دی بگ بک آف کشمیری لٹریچر کی اہمیت صرف اس کے صفحات میں شامل تخلیقات تک محدود نہیں ہے۔ یہ کتاب کشمیری ادب کے مختلف ادوار، زبانوں، روایتوں اور تجربات کو ایک جگہ جمع کرکے ایک وسیع ادبی منظرنامہ پیش کرتی ہے۔
یہ مجموعہ ہمیں بتاتا ہے کہ کشمیری ادب صرف چند مشہور شاعروں یا تاریخی شخصیات تک محدود نہیں، بلکہ اس میں عام لوگوں کی آوازیں، خاندانی یادیں، لوک گیت اور روزمرہ زندگی کے تجربات بھی شامل ہیں۔
اس کتاب کے ذریعے ایک ایسا ادبی مکالمہ ممکن ہوتا ہے جس میں ماضی اور حال ایک دوسرے سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ اس میں صوفیانہ خیالات، عوامی ثقافت، سماجی مشاہدات اور جدید زندگی کے مسائل ایک دوسرے کے ساتھ جگہ پاتے ہیں۔
یہ مجموعہ اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے کہ کسی زبان کی بقا صرف اس کے قدیم ادب کو محفوظ کرنے سے ممکن نہیں، بلکہ اسے نئی نسل تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ ترجمہ اس سلسلے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ایسے قارئین بھی کسی زبان کی ادبی دنیا سے واقف ہوسکتے ہیں جو اسے پڑھنے یا سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
عنیزہ درابو کی مرتب کردہ یہ کتاب اسی مقصد کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ کشمیر کی ادبی روایت کو وسیع تر قارئین تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ خود کشمیریوں کو بھی اپنی تہذیبی اور ادبی وراثت پر دوبارہ غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
کشمیر کی ادبی تاریخ میں مختلف تہذیبوں اور فکری روایتوں کے اثرات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ یہ کتاب ان اثرات کو الگ الگ خانوں میں رکھنے کے بجائے ایک مشترکہ ادبی منظرنامے میں پیش کرتی ہے، جہاں مختلف آوازیں ایک دوسرے کے ساتھ موجود ہیں۔
اس مجموعے کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ کشمیری ادب کو محض ماضی کی یادگار کے طور پر پیش نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک زندہ روایت کے طور پر دیکھتا ہے، جو بدلتے ہوئے حالات میں بھی اپنے اظہار کے نئے راستے تلاش کر رہی ہے۔
کسی زبان کا ادب اس کے لوگوں کی یادداشت، احساسات اور اجتماعی تجربات کا آئینہ ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے دی بگ بک آف کشمیری لٹریچر صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ کشمیر کی صدیوں پر محیط ادبی اور تہذیبی یادداشت کو محفوظ کرنے اور دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔