بھکتی چالک
اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے قصبے حسین آباد میں پیدا ہونے والی ایک مسلم لڑکی نے صرف 12ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور کم عمری میں شادی کے بعد گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف ہوگئی۔ تین بچوں کی پرورش اور اپنی صحت سے متعلق مشکلات کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی محنت سے ایک الگ شناخت قائم کی۔ آج رخسار خان ممبرا میں یوگا انسٹرکٹر اور ہیلتھ کوچ کے طور پر خواتین کو صحت مند زندگی گزارنے کی تربیت دے رہی ہیں۔رخسار کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ اگر انسان میں سیکھنے کا جذبہ اور آگے بڑھنے کا عزم ہو تو گھریلو ذمہ داریاں بھی اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔
بچپن سے شادی تک کا سفر
رخسار نے اپنا بچپن اتر پردیش میں گزارا۔ ان کے والد جوتے اور چپل کی ایک دکان پر سیلز مین کے طور پر کام کرتے تھے جبکہ والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ چار بہنوں اور ایک بھائی میں رخسار سب سے بڑی تھیں۔ ان کی والدہ نے اپنے خوابوں کو پس پشت ڈال کر بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے سخت محنت کی۔خاندان کی بڑی بیٹی ہونے کی وجہ سے رخسار پر بھی ذمہ داریاں جلد آگئیں۔ 18 سال کی عمر میں جب وہ مہاراشٹر منتقل ہوئیں تو ان کی شادی ہوگئی۔ شادی کے بعد وہ ایک ایسے ماحول کا حصہ بن گئیں جہاں گھر کی بیشتر ذمہ داریاں ان کے کندھوں پر تھیں۔ نتیجتاً ان کی تعلیم 12ویں جماعت کے بعد رک گئی۔لیکن تعلیم حاصل کرنے اور زندگی میں کچھ کر دکھانے کی خواہش ان کے دل میں ہمیشہ زندہ رہی۔
جہاں عزم ہو وہاں راستہ نکل آتا ہے
اکثر خواتین شادی اور بچوں کی پرورش کے بعد اپنے خوابوں کو بھلا دیتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ یہ سوچنے لگتی ہیں کہ اب ان کے لیے کچھ نیا کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔ لیکن رخسار خان نے اس سوچ کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو پہچانا اور اپنے لیے ایک نئی راہ بنائی۔’آواز دی وائس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے رخسار نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز اور کامیابی کے سفر کے بارے میں بتایا۔خاندان میں اکلوتی بہو ہونے کی وجہ سے گھر کی تمام ذمہ داریاں ان پر آگئیں۔ گھریلو کام کاج اور دیگر مصروفیات کے درمیان وہ اپنی پڑھائی جاری نہ رکھ سکیں۔ تاہم ان کے اندر کچھ نیا سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا جذبہ برقرار رہا۔رخسار کہتی ہیں کہ انہیں زندگی میں ہمیشہ ایک بات کا یقین رہا ہے کہ جو بھی کام کرنا ہے اسے پوری محنت اور لگن کے ساتھ کرنا چاہیے۔وہ کہتی ہیں کہ میں جانتی تھی کہ مجھے زندگی میں جو بھی کرنا ہے پوری طاقت اور 100 فیصد کوشش کے ساتھ کرنا ہے۔ اگر ایسا نہیں کر سکتی تو پھر وہ کام نہیں کروں گی۔ مجھے اپنا وقت ضائع کرنا پسند نہیں ہے۔

بچوں کو پڑھاتے پڑھاتے خود بھی آگے بڑھیں
رخسار کی زندگی میں پہلا اہم موڑ اس وقت آیا جب ان کا بڑا بیٹا اسکول جانے لگا۔ وہ گھر پر خود اسے پڑھاتی تھیں۔ بیٹے کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہوئی تو آس پاس رہنے والے والدین نے بھی اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے رخسار سے رابطہ کرنا شروع کردیا۔اس طرح ان کے ہوم ٹیوشن کے سفر کا آغاز ہوا۔ کرلا میں قیام کے دوران انہوں نے تقریباً 9 سال تک چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھائی۔ اس کام نے انہیں گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا موقع دیا اور آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی بخشا۔
صحت کے مسائل نے یوگا کی طرف راغب کیا
کچھ برس بعد رخسار کا خاندان کرلا سے ممبرا منتقل ہوگیا۔ نئی جگہ کے پانی اور آب و ہوا میں تبدیلی کے باعث انہیں صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بار بار بیمار رہنے لگیں۔رخسار کو پہلے ہی فٹنس میں دلچسپی تھی۔ اپنی صحت بہتر بنانے کے لیے انہوں نے مقامی یوگا اسٹوڈیو میں جانا شروع کیا۔ لیکن وہاں جو کچھ انہوں نے دیکھا اس نے انہیں سوچنے پر مجبور کردیا۔ ان کے مطابق بہت سے لوگ یوگا کی مشقیں درست طریقے سے نہیں کر رہے تھے اور انہیں ان کے صحیح طریقوں کے بارے میں بھی پوری معلومات نہیں تھیں۔یہ دیکھ کر رخسار کے اندر سیکھنے کا جذبہ مزید بڑھ گیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ یوگا کی باقاعدہ تعلیم حاصل کریں گی تاکہ خود بھی صحت مند رہ سکیں اور دوسروں کی بھی بہتر رہنمائی کرسکیں۔رخسار کہتی ہیں کہ انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ لوگ روزانہ ایک گھنٹہ یوگا کے لیے نکالتے ہیں لیکن اگر مشقیں درست طریقے سے نہ کی جائیں تو ان کی صحت کو مطلوبہ فائدہ نہیں پہنچتا۔ اسی وقت انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مناسب تربیت حاصل کرکے ایک اچھی ہیلتھ کوچ بنیں گی۔
ممبرا سے ڈومبیوالی تک تربیت کا سفر
اپنے مقصد کو حقیقت میں بدلنے کے لیے رخسار ممبرا سے ڈومبیوالی گئیں جہاں انہوں نے کلاسیکل یوگا کی باقاعدہ تربیت حاصل کرنا شروع کی۔ اس دوران انہوں نے انسانی جسم کی ساخت یعنی اناٹومی اور مختلف بیماریوں کے ساتھ یوگا کی درست مشقوں کا بھی تفصیلی مطالعہ کیا۔تربیت مکمل کرنے کے بعد انہیں سرکاری سرٹیفکیٹ بھی ملا۔ عملی مشقوں اور ڈیمو کلاسز میں ان کی کارکردگی اتنی اچھی رہی کہ اسی ادارے نے انہیں بطور ٹرینر کام کرنے کی پیشکش کردی جہاں سے انہوں نے تربیت حاصل کی تھی۔تاہم رخسار کے ارادے اس سے آگے کے تھے۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے ’فٹنس یوگا شالا‘ کے نام سے اپنا یوگا اسٹوڈیو قائم کیا اور خواتین کو تربیت دینا شروع کردی۔اس سفر میں ان کے شوہر عمران خان نے اہم کردار ادا کیا۔ پیشے کے اعتبار سے الیکٹریکل انجینئر عمران اپنا کاروبار چلاتے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ رخسار خود کفیل بنیں اور اپنی صلاحیتوں کو آگے بڑھائیں۔ رات کے وقت پڑھائی ہو یا تربیتی کلاسوں میں آنے جانے کا معاملہ۔ عمران نے ہر مرحلے پر ان کا ساتھ دیا۔
یوگا کے بارے میں سماجی غلط فہمیوں کا مقابلہ
یوگا کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد رخسار کو ایک اور چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلم معاشرے کے بعض حلقوں میں یوگا کے بارے میں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور اسے ایک مخصوص مذہب سے وابستہ سمجھا جاتا ہے۔ رخسار نے اپنے کام کے ذریعے ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی۔ان کا کہنا ہے کہ ورزش اور جسمانی صحت کو کسی ایک مذہب تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہر انسان کو اپنی صحت بہتر بنانے کا حق حاصل ہے۔رخسار نے مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین کی ضروریات اور عقائد کو سمجھتے ہوئے اپنی کلاسوں میں طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں کیں۔ ان کے مطابق غیر مسلم خواتین کی کلاسوں میں روایتی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ مسلم خواتین کے لیے انہوں نے ان کے عقیدے سے ہم آہنگ مراقبے کے طریقے اختیار کیے۔ان کا مقصد خواتین کو یہ سمجھانا تھا کہ یوگا جسمانی صحت بہتر بنانے کے ساتھ ذہنی سکون اور یکسوئی میں بھی مدد دے سکتا ہے۔رخسار کہتی ہیں کہ انہوں نے خواتین کو سمجھایا کہ جب تک ہم خود اپنے ذہن میں ورزش کو کسی مذہب سے وابستہ نہیں کرتے اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ یوگا روحانی طاقت بڑھانے کے ساتھ جسم کو تروتازہ اور صحت مند رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

سوشل میڈیا نے صلاحیتوں کو نئی پہچان دی
ابتدا میں رخسار سوشل میڈیا پر زیادہ سرگرم نہیں تھیں۔ ان کی ایک کلائنٹ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ انہوں نے رخسار کی صلاحیتوں کو پہچانا اور ان کے لیے انسٹاگرام اکاؤنٹ بنایا۔اس کے بعد رخسار نے یوگا کی مختلف مشقوں اور صحت سے متعلق معلومات پر مبنی ویڈیوز شیئر کرنا شروع کردیں۔ ان ویڈیوز میں ایسی مشقوں پر بھی توجہ دی جاتی تھی جو بعض جسمانی مسائل سے نمٹنے اور صحت مند طرز زندگی اپنانے میں مددگار ہوسکتی ہیں۔رفتہ رفتہ ان کی ویڈیوز لوگوں تک پہنچنے لگیں اور سوشل میڈیا پر ان کے ہزاروں فالوورز ہوگئے۔ ان کے تربیتی انداز کو پسند کیا جانے لگا اور مختلف ممالک سے لوگ ان سے رابطہ کرنے لگے۔آج رخسار ہندوستان کے علاوہ کینیڈا اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک میں رہنے والے لوگوں کے لیے آن لائن یوگا کلاسیں منعقد کرتی ہیں۔ دبئی میں موجود افراد بھی ان کی خدمات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ان کی کلاسوں میں صحت بہتر بنانے اور قدرتی طریقوں سے وزن کم کرنے پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ تاہم ان کے نزدیک سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگ ان کی رہنمائی سے مطمئن ہوں اور ان پر اعتماد برقرار رکھیں۔رخسار کہتی ہیں کہ لوگوں کے مسائل حل کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ ان کی آن لائن اور آف لائن کلاسیں روزانہ صبح 8:30 بجے سے رات 10 بجے تک جاری رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگوں کا ان پر اعتماد ان کے لیے مالی فائدے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
مصروف زندگی میں وقت کی بہتر تقسیم
آج رخسار کی زندگی پہلے سے کہیں زیادہ مصروف ہے۔ ان کا بڑا بیٹا 12ویں جماعت میں پڑھتا ہے جبکہ بیٹی آٹھویں اور سب سے چھوٹا بیٹا پہلی جماعت میں زیر تعلیم ہے۔گھر میں ملازمہ کے بغیر وہ گھریلو کام کاج کے ساتھ تینوں بچوں کی تعلیم و تربیت اور خاندانی ذمہ داریاں بھی سنبھالتی ہیں۔ اس کے ساتھ یوگا کی کلاسیں منعقد کرنا اور اپنے کلائنٹس کی رہنمائی کرنا بھی ان کے روزمرہ معمول کا حصہ ہے۔ان کی زندگی میں ایسے کئی مواقع آئے جب انہیں لوگوں کے طعنوں اور اپنے لباس یا ماسک کے حوالے سے تبصروں کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن رخسار نے ان باتوں کو اپنے مقصد کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے اپنی توجہ کام اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر مرکوز رکھی۔آج وہ ایک کامیاب یوگا انسٹرکٹر اور ہیلتھ کوچ کے طور پر اپنی شناخت قائم کرچکی ہیں۔ ان کی کامیابی کے پیچھے مسلسل محنت اور وقت کی بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ اہل خانہ کی حمایت بھی شامل ہے۔
خواتین کے لیے رخسار کا پیغام
رخسار چاہتی ہیں کہ خواتین اپنی عمر اور گھریلو ذمہ داریوں کو اپنے خوابوں کی تکمیل میں رکاوٹ نہ سمجھیں۔ ان کے مطابق زندگی میں آگے بڑھنے اور خود کو بہتر بنانے کے لیے کوئی عمر مقرر نہیں ہے۔وہ خواتین کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ اپنی صحت اور شخصیت کو اہمیت دیں اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد رکھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سی خواتین عمر بڑھنے کے بعد یہ سوچنے لگتی ہیں کہ اب ان کے لیے کچھ کرنے کا وقت نہیں رہا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کسی بھی عمر میں اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لاسکتا ہے۔رخسار کہتی ہیں کہ خواتین کو سب سے پہلے اپنی قدر کرنا سیکھنا چاہیے۔ جب انسان خود اپنی عزت کرتا ہے تو دوسروں کے لیے بھی اس کی عزت کرنا آسان ہوجاتا ہے۔رخسار خان کی کہانی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ گھریلو ذمہ داریاں کسی خاتون کی صلاحیتوں کا خاتمہ نہیں کرتیں۔ اگر سیکھنے کا جذبہ زندہ ہو اور محنت کرنے کا حوصلہ موجود ہو تو زندگی کے کسی بھی مرحلے پر نئی شروعات کی جاسکتی ہے۔